بیوی کی موجودگی میں اس کی سگی بہن سے نکاح کی شرعی حیثیت اور طلاق کے بعد دوسرے نکاح کا حکم
واپس آگیا اور اہل محلہ کے شور و غل کرنے پر اس نے نیچے لکھے گواہوں کے سامنے میری چھوٹی بہن کو تین بار طلاق دے دی اور مجھ سے معافی بھی مانگی، مگر میں اپنی بہن کو لے کر اپنے میکے چلی آئی۔ اب اس حالت میں جبکہ اس واقعہ کو قریب دو ماہ ہو چکے ہیں، میں اپنی چھوٹی بہن کا نکاح کہیں دوسری جگہ کر سکتی ہوں یا نہیں؟ دوسرے کیا میری موجودگی میں میری حقیقی بہن سے اس کا نکاح جائز ہوا یا نہیں ؟ صحیح شرعی حکم صادر فرمادیجئے کہ میں کیا کروں ؟ گواہ: (۱) کشوری بیگم ۔ (۲) واحد انصاری۔ (۳) کلو آڑھتی
الجواب: خادمہ کشوری بیگم ، ساکن قصبہ جہان آباد، ۱۲/ رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ صورت مسئولہ میں آپ کی سگی بہن سے آپ کے شوہر کا نکاح نادرست ہوا۔ اگر آپ کے شوہر نے اس سے قربت کر لی تو بعد عدت اسے دوسرے سے نکاح کا اختیار ہے اور آپ کے شوہر پر ضرور ہے کہ اس کی عدت گزرنے تک آپ سے دور رہے۔ رد المحتار میں ہے: الاول صحيح والثانى باطل وله وطئ الاولى الا ان يطأ الثانية فتحرم الاولى الى انقضاء عدة الثانية كما لو وطئ اخت امرأته بشبهة حيث تحرم امرأته ما لم تنقض عدة ذات الشبهة ح عن البحر . والله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۷ار شوال المکرم ۱۴۰۱ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) رد المحتار ، كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج ٤ ، ص ۱۱۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت