شیخ منیہار کا سیدہ سے رشتہ کرنے کے جواز اور سادات کے احترام کا لحاظ رکھنے کا بیان
سوال
شیخ منییار کا سیدہ سے رشتہ کرنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: ۱۰ر رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ میرے لڑکے کی شادی کی بات چیت آل سادات سے ہو چکی ہے۔ میں شیخ منیہار ہوں، میری ان سے قرابت داری کرنا ٹھیک ہے یا نہیں ؟ المستفتی: احمد نبی، بھکاری پور ۱۱؍ر رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: اگر لڑکی کے اولیاء کو معلوم ہے کہ آپ منیبہار ہیں اور وہ یہ جان کر اپنی لڑکی کا عقد آپ کے لڑکے سے ہونے کی اجازت صریحہ دیتے ہیں تو عقد صحیح ہو جائے گا مگر سادات کرام بڑے احترام کے مستحق سے کی اجازت صریحہ دیے ہیں تو ویسی ہو جائے کار ہے اور اس ہیں اور اس رشتہ میں ان کی تعظیم نبھانا دشوار ہے اور اُن کی دل آزاری و اہانت بہت سخت بات ہے لہذا بچنا نبی بہتر ہے ، آگے اختیار بدست مختار ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ار رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۱ · صفحہ ۳۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
سیدہ لڑکی کا نکاح غیر کفو میں کرنا کیسا؟
باب: کتاب النکاح
بیوی کی موجودگی میں اس کی سگی بہن سے نکاح کی شرعی حیثیت اور طلاق کے بعد دوسرے نکاح کا حکم
باب: کتاب النکاح
بچپن کے نکاح میں خیار بلوغ اور کورٹ کے یکطرفہ فیصلے کی شرعی حیثیت
باب: کتاب النکاح
کورٹ کی ڈگری اور شادی شدہ عورت کے دوسرے نکاح کی شرعی حیثیت
باب: کتاب النکاح
بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل کر میکے چلے جانے کا حکم
باب: کتاب النکاح