سیدہ لڑکی کا نکاح غیر کفو میں کرنا کیسا؟
سوال
سیدہ لڑکی کا نکاح غیر کفو میں کرنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ : یہ کہ سید کی لڑکی کے ساتھ کسی دوسری قوم کے مسلمان لڑکے سے نکاح جائز ہے ؟ جیسے پٹھان، شیخ وغیرہ۔ مرسلہ شفیع علی خاں، موضع سنگرہ، تحصیل ملک ضلع رامپور
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: ولی اگر اجازت صریحہ غیر کفو کو غیر کفو جانتے ہوئے دے دے تو اس کا نکاح صحیح ہو گا اور اگر ولی نے اجازت صریحہ نہ دی یا اسے کفو سمجھا جو کفو نہ تھا تو نکاح اصلا منعقد نہ ہوا۔ در مختار میں ہے: و يفتى فى غير الكفو بعدم جوازه اصلا هو المختار للفتوى لفساد الزمان فلا تحل مطلقة ثلثا نكحت غیر کفو بلا رضاء الولى بعد معرفته اياه فليحفظ . ) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ۱۵ر شوال المکرم ۱۴۰۱ھ (1) الدر المختار، کتاب النکاح باب الولى، ج ٤ ، ص ١٥٦، ١٥٧ ، دار الكتب العلمية، بيروت
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۱ · صفحہ ۷۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
بیوی کی موجودگی میں اس کی سگی بہن سے نکاح کی شرعی حیثیت اور طلاق کے بعد دوسرے نکاح کا حکم
باب: کتاب النکاح
شیخ منیہار کا سیدہ سے رشتہ کرنے کے جواز اور سادات کے احترام کا لحاظ رکھنے کا بیان
باب: کتاب النکاح
بچپن کے نکاح میں خیار بلوغ اور کورٹ کے یکطرفہ فیصلے کی شرعی حیثیت
باب: کتاب النکاح
کورٹ کی ڈگری اور شادی شدہ عورت کے دوسرے نکاح کی شرعی حیثیت
باب: کتاب النکاح
بیوی کا شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل کر میکے چلے جانے کا حکم
باب: کتاب النکاح