قبرستان کی زمین میں دکانوں کی تعمیر اور امام کی اہلیت کے شرائط
قبرستان کی باؤنڈری اور زمین میں دکانیں تعمیر کرنے کا حکم مکرمی معظمی رہبر قوم اہلسنت مفتی اعظم ہند دام اقبالۂ گزارش یہ ہے کہ مندرجہ ذیل مسائل سے مشرف فرمائیں ، مشکور ہوں گا۔ (1) یہ کہ ایک زمین جو کہ قبرستان میں شامل ہے، جس میں کچھ پیٹر وغیرہ بھی ہیں اور قبریں بھی موجود ہیں، اور مقدمہ میں قبروں کے بیس پر ہی فیصلہ بھی ہوا۔ ایسی صورت میں جبکہ قبریں موجود ہیں، دکانیں تعمیر ہو سکتی ہیں یا کہ نہیں ؟ جبکہ قبرستان کی باؤنڈری ضروری ہے ؟ (۲) پیش امام جو کہ سیاست میں دخل رکھتا ہو، پیش امام رہ سکتا ہے یا نہیں ؟ (۳) پیش امام بازاروں میں چندہ کرنے والا ستحق امامت ہے یا نہیں ؟ (۴) لوگوں میں چائے وغیرہ پینے اور بیٹھنے والا پیش امام ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ (۵) قوم کو اشتعال کی باتیں کر کے لڑوانے کی کوشش کرنے والے پیش امام کے لئے کیا حکم ہے ؟
الجواب: المستفتی: نثار احمد، پلیا کلاں ضلع کھمیری لکھیم پور (1) قبرستان کی زمین میں دُکانیں تعمیر کراناجائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اگر امام مذکور علانیہ کبیرہ کا مرتکب ہو تو اس کی امامت مکروہ ہے اور اس کی اقتداء گناہ اور نماز واجب الاعادہ۔ محض سیاست کا دخل مانع امامت نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اتنی مہم بات کا کیا جواب ہو سکتا ہے ؟ کس کام کے لئے چندہ کرتا ہے ؟ امین ہے یا نہیں ؟ مفصل لکھ کر لائیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا چائے پینا مانع امامت نہیں۔ واللہ تعالی اعلم (۵) بلا وجہ شرعی مسلمانوں میں تفریق کرانے والا سخت گناہ گار ہے اور نالائق امامت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) قبروں پر کچھ جائز نہیں ، دکان نہ باؤنڈری ، قبرستان کے ارد گرد باؤنڈری ضرور بنائی جائے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۲۳ محرم الحرام ۱۳۹۹ھ