لوگوں پر افترا پردازی، بہتان تراشی اور ظلم و ستم کرنے والوں کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: محلہ نئی بستی میں چند ایسے عیاش بد معاش لوگ آباد ہیں جن سے اہل محلہ اور دیگر لوگ پریشان ہیں، غریب لوگوں پر افترا پردازی کے ساتھ الزام لگا کرنا جائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے معاونان نئی بستی کے سرمایہ دار لوگ ہیں اس لئے ہر شخص اس گروہ سے خائف ہے، ان کی افترا پردازی اور ظلم وستم اظہر من الشمس ہے۔ ازراہ کرم گستری اہل باطل کے لئے بروئے قرآن و حدیث وفقہ جواب عنایت فرمائیں۔ شفیق احمد، محلہ روہلی ٹولہ، پرانہ شہر، بریلی شریف
الجواب: ایسے لوگ سخت ظالم جفا کار اشد نہایت بد خلق غایت بداطوار ہیں مستحق غضب جبار و عذا نار، مستوجب لعنت پروردگار ہیں، ان پر لازم ہے کہ اپنے ظلم وافتر او بد خلقی سے فوراً تائب ہوں ، ظلم اشد عظیم گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّلِمُونَ ) اللہ تعالیٰ کو ظالموں کی حرکت سے بے خبر نہ سمجھو۔ (1) ابراهيم: ٤٢ مظلوم کے لئے یہ آیت نہایت تسلی بخش اور ظالم کے لئے وعید شدید ہے ، انہیں اللہ تعالیٰ نے مہلت دی ہے اور مہمل نہ چھوڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (1) إِنَّمَا يُؤخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْأَبْصَارُ ) اللہ نے تو انہیں قیامت دن پر چھوڑ رکھا ہے جس دن نظروں کی تنگی بندھ جائے گی۔ نیز فرمایا رب عزوجل نے : وَ سَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ (۲) اللہ انہیں صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ اور فرمایا مولیٰ کریم نے : "وَ لَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ) اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوٹے گی۔ ہوشمند کو یہ بس ہے کہ ظلم کی طرف میل کرنے والے کی جب یہ سزا ہے توظلم اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتنا بڑا گناہ اور وہ بھی ذرا ہوش کے ناخن لیں جو ظالموں کی مدد کرتے ہیں ان کے لئے سزا کتنی بڑی اللہ کے یہاں تیار رکھی ہے، اگر توبہ نہ کریں والعیاذ باللہ العلی العظیم ۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: "الظلم ظلمات يوم القيامة "(۴) ظلم قیامت کے دن کی اندھیریاں ہیں۔ (1) ابراهيم: ٤٢ (2) الشعراء: ٢٢٧ (3) هود: ۱۱۳ (4) صحیح البخاری، ابواب المظالم والقصاص، الظلم ظلمات يوم القيامة ، ج ۱، ص ۳۳۱، مجلس بركات تو ظالم پر اس کے ظلم کی اندھیریاں اور ظالم کی مدد گار پر اس کی اندھیریاں اپنی اندھیریاں علیٰ ہذا القیاس۔ جو ظالموں کی مدد کرے گا اسی قدر ظالموں کا وبال اس کے سر پر رہے گا اور اعانت ظلم کا اپناو بال الگ ہو گا۔ فرماتے ہیں رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : " من سن في الإسلام سنة حسنة فعمل بها، بعده كتب له مثل اجر من عمل بها، ولا ينقص من اجورهم شيء، ومن سن فى الإسلام سنة سيئة فعمل بها، بعده كتب عليه مثل وزر من عمل بها، ولا ينقص من اوزارهم شيء (1) جس نے اسلام میں کسی اچھے کام کی ابتدا کی اور اس کے بعد اس پر عمل ہو تا رہا، اس کے لیے (ہر) عمل کرنے والے (کے اجر) جتنا اجر لکھا جاتا رہے گا۔ جس نے اسلام میں کسی بڑے کام کی ابتدا کی اور اس کے بعد اس پر عمل ہو تا رہا تو اس کے لئے ہر عمل کرنے والے کے برابر گناہ لکھاجاتارہے گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ