مسجد کے منبر کے دائیں بائیں صف بنانے اور قطع صف کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : مسجد کے منبر کے دائیں بائیں صف بنائی جائے تو قطع صف ہو گا یا نہیں ؟
الجواب: اس سلسلہ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ حضور اعلیٰ حضرت عظیم البرکت کے فتاوی سے چند ارشادات بطور تمہید و مقدمہ پیش کروں چنانچہ اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: دربارۀ صفوف شرعا تین باتیں بتاکید اکید مامور بہ ہیں اور تینوں آج کل معاذ اللہ کا لمتروک ہو رہی ہیں یہی باعث ہے کہ مسلمانوں میں نا اتفاقی پھیلی ہوئی ہے: اول تسویه کہ صف برابر ہو خم نہ ہو کج نہ ہو مقتدی آگے پیچھے نہ ہوں سب کی گردنیں شانے ٹخنے آپس میں محاذی ایک خط مستقیم پر واقع ہوں جو اس خطہ پر کہ ہمارے سینوں سے نکل کر قبلہ معظمہ پر گزرا ہے عمود ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : عباد الله لتسون صفوفكم او ليخالفن الله بين وجوهكم. اللہ کے بند و ضروریا تو تم اپنی صفیں سیدھی کرو گے یا اللہ تمھارے آپس میں اختلاف ڈال دیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صف میں ایک شخص کا سینہ اوروں سے آگے نکلا ہوا ملاحظہ کیا اس پر یہ ارشاد فرمایا۔ رواہ مسلم عن النعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ۔ دوسری حدیث میں فرماتے ہیں: راصوا صفوفكم وقاربوا بينهما وحاذوا بالاعناق فوالذي نفس محمد بيده انى لارى الشياطين تدخل من خلل الصف كانها الخذف . اپنی صفیں خوب گھنی اور پاس پاس کرو اور گرد نہیں ایک سیدھ میں رکھو کہ قسم اسکی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں شیاطین کو دیکھتا ہوں کہ رخنہ صف سے داخل ہوتے ہیں جیسے بھیڑ کے بچے ۔ رواہ النسائی عن انس رضی اللہ تعالی عنہ ۔ تیسری حدیث صحیح میں ہے فرماتے ہیں: اقيموا الصفوف فانما تصفون بصف الملئكة كذا في الفتاوى الرضوية و لعله رواية اخرى أو غلط من الناسخ وفى الحديث فانما تصفون بصفوف الملئكة كذا في الجامع الصغير) وحاذوا بين المناكب صفیں سیدھی کرو کہ تمہیں تو ملائکہ کی سی صف بندی چاہئے اور شانے ایک دوسرے کے مقابل رکھو۔ رواہ احمد و ابوداؤد والطبرانی فی الکبیر وابن خزیمۃ والحاکم و صحاہ عن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما. دوم اتمام کہ جب تک ایک صف پوری نہ ہو دوسری نہ کریں اس کا شرع مطہرہ کو وہ اہتمام ہے کہ اگر کوئی صف ناقص چھوڑے مثلاً ایک آدمی کی جگہ اس میں کہیں باقی تھی اسے بغیر پورا کیے پیچھے اور صفیں باندھ لیں بعد کو ایک شخص آیا اس نے اگلی صف میں نقصان پایا تو اسے حکم ہے کہ ان صفوں کو چیرتا ہوا جا کر وہاں کھڑا ہو اور اس نقصان کو پورا کرے کہ انہوں نے مخالفت شرع کر کے خود اپنی حرمت ساقط کی جو اس طرح صف پوری کرے گا اللہ تعالیٰ اس کیلئے مغفرت فرمائے گارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الا تصفون كما تصف الملئكة عند ربها. ایسی صف کیوں نہیں باندھتے جیسی ملائکہ اپنے رب کے حضور باندھتے ہیں صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ ملائکہ کیسی صف باندھتے ہیں فرمايا: يتمون الصف الاول ویتراصون فی الصف اگلی صف پوری کرتے اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ رواہ اسلم و ابوداود والنسائي وابن ماجہ تیمن جابر بن سمرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ اور فرماتے ہیں: اتموا الصف المقدم ثم الذي يليه فما كان من نقص فليكن في الصف الموخر . پہلی صف پوری کرو پھر جو اس کے قریب ہے کہ جو کمی ہو تو سب میں پچھلی صف میں ہو۔ رواہ الائمہ احمد و ابوداؤد والنسائی و ابن حبان و خزیمۃ والضیاء باسانید صحیحہ یعن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ اور فرماتے ہیں: من وصل صفا وصله الله و من قطع صفا قطعه الله . جو کسی صف کو وصل کرے اللہ اسے وصل کرے اور جو کسی صف کو قطع کرئے اللہ اسے قطع کر دے۔ رواہ النسائی والحاکم بسند صحیح عن ابن عمر رضی تعالی عنہما و هو من تتمة حدیثہ الصحیح المذكور سابقا عند احمد والی داؤد والثلثہ الذین معہما۔ ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی فرماتے ہیں: من نظر الى فرجة في صف فليسدها نفسه فان لم يفعل فمر مار فليتخط على رقبته فانه لا حرمة له . جو کسی صف میں خلل دیکھے وہ خود اسے بند کر دے اور اگر اس نے نہ کیا اور دوسرا آیا تو اسے چاہئے کہ وہ اس کی گردن پر پاؤں رکھ کر اس خلل کی بندش کو جائے کہ اس کیلئے کوئی حرمت نہیں۔ رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما۔ اور فرماتے ہیں على الا ان الله و ملئكته يصلون على الذين يصلون الصفوف و من سد فرجة رفعه الله بها درجة . بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں ان لوگوں پر جو صفوں کو وصل کرتے ہیں اور جوصف کا فرجہ بند کر دے اللہ تعالیٰ اس کے سبب جنت میں اس کا درجہ بلند فرمائے۔ رواہ احمد وابن ماجه وابن حبان والحاكم وصحه واقروه عن ام المومنین الصدیقہ رضی اللہ تعالی عنہما ۔ سوم تراص یعنی خوب مل کر کھڑا ہونا کہ شانہ سے شانہ ملے۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ. ایسی صف کہ گویا وہ دیوار ہے رانگا پلائی ہوئی ، رانگ پگھلا کر ڈال دیں تو سب در زمیں بھر جاتی ہیں کہیں رخنہ فرجہ نہیں رہتا ایسی صف باندھنے والوں کو مولی سبحانہ و تعالی دوست رکھتا ہے اس کے حکم کی حدیثیں اوپر گزریں اور فرماتے ہیں: اقیموا صفوفکم و تر اصوافانی اریکم من وراء ظهری. اپنی صفیں سیدھی اور خوب گھنی کرو کہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ رواہ البخاری والنسائی عن انس رضی اللہ تعالی عنہ ۔ یہ بھی اسی اتمام صفوف کے متممات سے اور تینوں امر شرعا واجب ہیں۔ کما حققناه في فتاو بناو کثیر من الناس عنه غافلون . (۱) انہی کلام الامام ۔ اقول ظاہر ہے جب منبر کے دائیں بائیں صف بندی کریں گے تو دوسرا اور تیسرا امر جو صفوں میں ملحوظ ہے اور شرعا بتاکید مطلوب ہے اسکی تعمیل نہ ہو سکے گی اور پہلا امر کہ تسویہ صف ہے اس کے مفقود ہونے کا بھی احتمال ہے بلکہ ادنی تامل سے ظاہر کہ یہاں پہلا امر کہ تسویہ فی القیام ہے وہ بھی مفقود ہے اگر چہ ایک ہی سیدھ میں دونوں طرف والے کھڑے ہوں کہ جب بیچ میں منبر حائل ہے تو اس صورت میں نہ عرفا برابر برابر کھڑا ہونا صادق ہے نہ شرعا متفق ہے اور اگر ایک سیدھ میں نہ کھڑے ہوں تو تسویہ صف بالکلیہ معدوم ہو گا۔ لہذ ابلا ضرورت اس طرح منبر کے دائیں بائیں صف بندی کرنا ان احادیث صحیحہ کے خلاف اور شرعانا جائز ہے اور اس صورت میں کراہت صرف اس نامکمل صف والوں پر ہی نہ ہوگی بلکہ ان کے پیچھے صف بندی کرنے والے بھی اس کراہت کے مرتکب ہوں گے ۔ فى الخانية والدر المختار وغيرهما واللفظ للعلائي لوصلى على رفوف المسجد ان وجد في صحنه مكانا كره كقيامه فى صف خلف صف فيه فرجة . اور کراہت مطلقہ سے کراہت تحریم مراد ہوتی ہے۔ الا اذا دل دليل على خلافه كما نص عليه في الفتح والبحر و حواشى الدروغيرهما من تصانيف الكرام الغر. طحطاوی پھر علامہ شامی زیر عبارت مذکورہ در مختار فرماتے ہیں: قوله كقيامه في صف الخ هل الكراهة فيه تنزيهية او تحريمية و يرشد الى الثاني قوله عليه الصلاة والسلام و من قطع صفا قطعه الله انتهى فافهم . ملخصاً (1) چوتھی قباحت اس صورت میں یہ لازم آئے گی کہ امام وسط صف میں نہ ہوگا، حالانکہ شرعایہ مطلوب که امام وسط صف میں کھڑا ہو۔ حضور اعلیٰ حضرت عظیم البرکت صلی اللہ سے سوال ہوا۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جن مسجدوں میں کئی درجے ہوں اور ہر درجہ سہ در پنجد رہ ہو تو امام کو ان کی ہر محراب و در میں کھڑا ہونا مکروہ ہے یا صرف اندرونی محرابوں یا وسطانی دروں میں ۔ بینوا توجروا۔ الجواب : محرابیں وہی ہیں جو وسط میں قیام امام کی علامت کیلئے بنائی جاتی ہے باقی جو فرجے دوستونوں کے در میان ہوتے ہیں اور امام کو بلا ضرورت تنگی مسجد ہر محراب و در میں کھڑا ہونا مکروہ ہے پھر اطراف کے دروں میں قیام نافی کراہت نہیں بلکہ بسا اوقات اور کراہتوں کا باعث ہو گا کہ امام راتب کو محراب چھوڑ کر ادھر ادھر کھڑا ہونا مکروہ ہے اور اگر مسجد کی صف پوری ہوئی تو اس صورت میں امام وسط صف کے محاذی نہ ہوگا یہ ہر امام کیلئے مکروہ ہے اگر چہ غیر راتب ہو تنویر الابصار میں ہے: کرہ قیام الامام في المحراب مطلقا - أهـ ، ملخصا. بحرالرائق میں ہے: مقتضی ظاهر الرواية الكراهة مطلقا. ردالمحتار میں ہے: فی معراج الدراية من باب الامامة الاصح ماروى عن ابي حنيفة انه قال اكره للامام ان يقوم بين الساريتين اوزاوية او ناحية المسجد او الى سارية لانه بخلاف عمل الامة - اهـ و فيه ايضا السنة ان يقوم الامام ازاء وسط الصف الخ. مقصورہ کے متعلق شامی میں جو کچھ فرمایا وہ قطعا عذر پر محمول ہے اور اس میں ”خوفا من العدو “ خود اس پر قرینہ مقالیہ ہے ورنہ یہ صراحت احادیث کے مخالف ہے اور علامہ شامی سے یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ وہ دانستہ ایسا قول کریں جو مصادم احادیث ہو پھر شامی کو خود اپنے قول پر جزم نہیں اسی لئے بحث کے تتمہ پر ”فیما یظھر کہا ہے جو تردد اور شک پر دلیل ہے۔ ولا قول للشاك . یہی حال منحة الخالق میں جو بحث کی ہے اس کا ہے ۔ (2) واللہ تعالیٰ اعلم ۔ هذا ماظهر لى والعلم بالحق عند ربى وصلى الله تعالى على النبي الأمي وآله و صحبه اجمعين . قاله بفمه وامر بر قمه العلامة المفتی الاعظم محمد اختر رضا القادری الازہری مدظلہ العالی الجواب صحیح والحجيب نجح واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم قاضی محمد شہید عالم رضوی غفرلہ الجواب صحیح والمجیب مصیب و مشاب واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح و اللہ تعالی اعلم محمد مظفر حسین قادری رضوی محمد ناظم علی قادری بارہ بنکوی کتبہ محمد یونس رضا الا ویسی الرضوی مرکزی دار الافتا۸۲ / سوداگران بریلی شریف / ۲ / ذی الحجہ ۱۴۲۳ھ