داڑھی کی شرعی حیثیت اور ایک مشت سے کم داڑھی والے کی امامت کا حکم
(۱) ایک امام مسجد کے لئے کیا شرعا داڑھی مطلوب ہے ؟ (۲) ایسا شخص جس کی داڑھی ایک مشت سے کم ہے نماز پڑھا سکتا ہے ؟ ہم خاص کر یہ سوال ان حفاظ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جو رمضان میں تراویح کی نماز پڑھاتے ہیں۔ (۳) جنوبی افریقہ میں پوری داڑھی والے حفاظ کا تلاش کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ حفاظ کی اکثریت پوری داڑھی نہیں رکھتی۔ ان مشکل حالات میں کیا ایسے حفاظ تراویح کی نماز پڑھا سکتے ہیں جنکی داڑھی ایک مشت سے کم ہے ؟ (۴) کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ نماز پڑھانے والے امام کے لئے داڑھی کی لمبائی وغیرہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ شریعت کی روشنی میں کیا ان لوگوں کی رائے صحیح ہے ؟ بہت سارے سنی علماء کو ہم دیکھتے ہیں جنکی داڑھیاں مختلف سائز کی ہوتی ہیں، کسی کی بڑی کسی کی چھوٹی۔ اسکے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟
مسئله ۹۰ داڑھی کی شرعی حیثیت اتحقیق نفیس (۱) ایک امام مسجد کے لئے کیا شرعا داڑھی مطلوب ہے ؟ (۲) ایسا شخص جس کی داڑھی ایک مشت سے کم ہے نماز پڑھا سکتا ہے ؟ ہم خاص کر یہ سوال ان حفاظ کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جو رمضان میں تراویح کی نماز پڑھاتے ہیں۔ (۳) جنوبی افریقہ میں پوری داڑھی والے حفاظ کا تلاش کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ حفاظ کی اکثریت پوری داڑھی نہیں رکھتی۔ ان مشکل حالات میں کیا ایسے حفاظ تراویح کی نماز پڑھا سکتے ہیں جنکی داڑھی ایک مشت سے کم ہے ؟ (۴) کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ نماز پڑھانے والے امام کے لئے داڑھی کی لمبائی وغیرہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ شریعت کی روشنی میں کیا ان لوگوں کی رائے صحیح ہے ؟ بہت سارے سنی علماء کو ہم دیکھتے ہیں جنکی داڑھیاں مختلف سائز کی ہوتی ہیں، کسی کی بڑی کسی کی چھوٹی۔ اسکے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ الجواب منہ الہدایۃ والصواب: حامدا و مصليا و مسلماً (۱) داڑھی ہر مسلمان کے لئے مطلوب۔ ہمیں امام اور غیر امام کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ فرمان : ”وفروا اللحی و قصوا الشوارب کہ داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کٹاؤ “ ہر مسلمان کے لئے ہے۔ (۳۲) اگر کوئی امام داڑھی کترا تا اور ایک مشت سے کم رکھتا ہے اور اسے کسی نے امام مقرر کر دیا دوسروں کو اسکے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہئے جماعت نہیں چھوڑنی چاہئے ۔ البتہ جس نے ایسے شخص کو امام مقرر کیا اگر اسے پوری داڑھی والا امام ملتا تھا تو اسکے ہوتے ہوئے کم رکھنے کترانے والے کو امام مقرر کرنا مکروہ ہے۔ مافی الکنز یکرہ تقدیم الفاسق ۔ یادر ہے کہ تقدیم کو مکروہ کہا ہے، نماز کو مکروہ نہیں کہا۔ لہذا دوسروں کا اسکے پیچھے نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے کہ حدیث میں ہے : صلوا خلف کل بر وفاجر - یعنی ہر نیک وبد کے پیچھے نماز پڑھ لو جماعت نہ چھوڑو جب کہ وہ صحیح العقیدہ ہو۔ (۳) داڑھی کی حد کسی حدیث قولی سے ثابت نہیں ہے کہ کتنی لمبی ہو۔ البتہ دو فعلی حدیثیں اسکی حد کو واضح کرتی ہیں۔ ایک یہ کہ ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک ایک قبضہ تھی آپ بڑھے ہوئے بال مبارک قینچی سے کاٹ لیتے تھے قبضہ بھر رکھتے تھے۔ دوسری صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر حج کے موقع پر منی میں حجاج سے فرماتے اپنی داڑھی قبضہ میں لے لو زائد کو کاٹ دو۔ اس سے ثابت ہوا کہ قبضہ بھر ہونا چاہئے ۔ نیز فتاوی ”در مختار “ میں ہے: واما دون القبضہ یہ فلم بیوہ احد کہ قبضہ سے کم کو کسی نے بھی مباح نہیں ٹھہرایا۔ لہذا معلوم ہوا کہ قبضہ بھر واجب ہے، اس سے زائد ایک دو انگشت تک کوئی حرج نہیں مگر بہت لمبی ہونا جمہور کے نزدیک مستحب ہے جہاں تک ہو مگر امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک بہت لمبی داڑھی نہ رکھی جائے کہ لوگ اسکا مذاق اڑائیں گے لہذا قبضہ سے زائد کا کاٹناواجب ہے۔ ملاعلی قاری شرح شفاء میں لکھتے ہیں کہ بہت لمبی داڑھی کم عقلی کی علامت ہے۔ فقط ڈاکٹر مفتی غلام سرور قادری جامعہ رضویہ ماڈل ٹاؤن ۶ ، پاکستان ۱۹۹۹/۹/۱۳ الجواب: داڑھی منڈا یا حد شرع سے کم کرانے والا فاسق معلن ہے اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے کہ پڑھنی گناہ اور اسکو پھیرنا واجب اس سلسلے میں پریٹوریا جنوبی افریقہ سے میرے پاس انگریزی میں سوال آیا تھا۔ جسکا جواب میں نے انگریزی ہی میں کئی برس پہلے دے دیا تھا۔ اب جو سوال کیا گیا ہے۔ اس کا بھی صحیح جواب یہی ہے ۔ پیش نظر فتوی جو اس سوال پر دیا گیا ہے اس میں ایک قول مرجوح کو اختیار کیا گیا ہے اور قول مرجوح پر فتویٰ دینا جائز نہیں ہے ۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ اس قول کو فاسق معلن کے بارے میں قرار دیں ورنہ کوئی اختلاف نہیں جیسا کہ آگے آتا ہے۔ در مختار میں ہے: (۱) "اما نحن فعلينا اتباع ما صححوه ورجحوه كما لوا فتونا في حياتهم" اس کے بر عکس اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور جمہور علماء کرام نے جو قول اختیار کیا وہ راجح ہے اور احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ خود اسی بحر الرائق میں جس کی عبارت پیش نظر انگریزی فتوی میں پیش کی گئی۔ ابو داؤد شریف سے ایک حدیث نقل کی جس کا اقتضاء یہ ہے کہ فاسق معلن کی امامت مکروہ تحریمی ہو۔ حدیث یہ ہے: " " ثلاثة لا يقبل الله منهم صلاة من تقدم قوما و هم له كارهون (۲) یعنی تین لوگ ایسے ہیں کہ اللہ ان کی کوئی نماز قبول نہیں کرتا ایک وہ جو قوم میں سے نماز پڑھانے کیلئے آگے بڑھے اور وہ اسے ناپسند کرتے ہوں۔ اسی لئے بحر الرائق میں فرمایا: "و ينبغي أن تكون تحريمية في حق الامام في صورة الكراهة "(۳) یعنی امام کے ناپسندیدہ ہونے کی صورت میں یہ کراہت امام کے حق میں تحریمی ہونا چاہئے ۔ اور اسی ”بحر الرائق میں مستدرک حاکم سے روایت کیا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: ان سركم ان يقبل الله صلاتكم فليؤمكم خياركم فانهم و فدكم فيما بينكم و بين ربكم (1) یعنی اگر تمھاری یہ خوشی ہے کہ اللہ تمھاری نماز قبول فرمائے تو تمھاری امامت تمھارے اچھے لوگ کریں اس لئے کہ وہ تمھارے درمیان اور تمھارے رب کے درمیان تمھارے قاصد ہیں۔ اس حدیث کا بھی اقتضاء یہی ہے کہ با شرع کو امام بنانا ضروری ہے ۔ اسی بحر الرائق میں ہے: " وذكر الشارح وغيره ان الفاسق اذا تعذر منعه يصلي الجمعة خلفه وفى غيرها ينتقل الى مسجد آخر و علل له في المعراج بان في غير الجمعة يجد اماما غيره فقال في فتح القدير و على هذا فيكره الاقتداء به فى الجمعة اذا تعددت اقامتها في المصر على قول محمد و هو المفتى به لانه بسبيل من التحول حينئذ (۲) یعنی شارح کنز اور ان کے علاوہ دوسرے علماء نے ذکر کیا کہ فاسق کو اگر منع کرناممکن نہ ہو تو اس کے پیچھے جمعہ پڑھ لے اور جمعہ کے علاوہ اور نمازوں میں دوسری مسجد کی طرف منتقل ہو جائے ۔ اور ”معراج الدرایہ میں اس حکم کی وجہ یہ بتائی کہ جمعہ کے علاوہ نمازوں میں دوسرا امام مل جاتا ہے۔ لہذا فتح القدیر میں کہا اور اس بنا پر فاسق کی اقتدا جمعہ میں بھی مکروہ و نا جائز ہوگی۔ جبکہ جمعہ شہر میں متعدد مقامات پر قائم ہوتا ہو۔ امام محمد علیہ الرحمہ کے قول پر اور وہی مفتی بہ ہے۔ اس لئے کہ اس صورت میں وہ دوسری مسجد کی طرف جانے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس عبارت سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ فاسق کی اقتدا مکروہ تحریمی ہے۔ جبھی تو یہ فرمایا کہ جمعہ میں فاسق کو امامت سے روکناناممکن ہو تو اس کی اقتدا کی اجازت ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ اجازت بشرط ضرورت ہے اور بلا ضرورت اس کی اجازت نہیں۔ اسی لئے ”فتح القدیر میں یہ فرمایا کہ جبکہ جمعہ متعدد مقامات پر ہوتا ہو تو ایسی صورت میں فاسق کی اقتدا مکروہ ہے اور اس مکروہ سے مراد ضرور مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ جو از اقتدا کو محض جمعہ میں ضرورت سے مشروط کیا۔ اور عدم ضرورت کی صورت میں جمعہ میں بھی اس کی اجازت نہ دی۔ ہماری منقولہ عبارت کے بعد ”بحر الرائق میں وہ عبارت ہے جسے پیش نظر فتوی میں مفتی نے لکھا ہم نے جو مختلف عبارتیں بحر الرائق کی لکھیں ۔ ان سے ظاہر ہے کہ صاحب بحر الرائق نے مختلف اقوال جمع فرما د کیے اور صاف طور پر نہ بتایا کہ راجح قول کیا ہے اور پہلے جو فرما چکے یہ پچھلی عبارت اس کی معارض ہے ۔ مفتی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس بات کا اطمینان کر لے کہ کون سا قول راجح ہے اور دلیل سے کس قول کی تائید ہوتی ہے پھر راجح قول پر فتوی دے یہ نہیں کہ محض اپنی خواہش نفس سے گزشتہ و پیوستہ سے آنکھیں بیچ کر جو بات اپنے مطلب کی جائے اسے نقل کر لائے یہ محض اتباع ہوا ہے نہ کہ اقتداء شریعت۔ اسی ”بحر الرائق “ کے بیانات گذشتہ سے یہ معلوم ہوا کہ وہ حدیث جسے مفتی صاحب نے نقل کیا جس میں وارد ہوا: ”صلوا خلف كل برو فاجر محل فتنہ اور موضع ضرورت پر محمول ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "زمانہائے خلافت میں سلاطین خود امامت کرتے اور حضور عالم ماکان ومایکون صلے اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ ان میں فساق و فجار بھی ہوں گے کہ ستكون عليكم امراء يو خرون الصلاة عن وقتھا اور معلوم تھا کہ اہل صلاح کے قلوب ان کی اقتدا سے تنفر کریں گے اور معلوم تھا کہ ان سے اختلاف آتش فتنہ کومشتعل کرنے والا ہو گا اور دفع فتنہ دفع اقتدائے فاسق سے اہم واعظم تھا۔ قال الله تعالى: " وَ الْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ " لہٰذا دروازه فتنه بند کرنے کیلئے ارشاد ہوا: " صلوا خلف کل بر و فاجر "یہ اس باب سے ہے۔ "من ابتلي ببليتين اختار اهونهما" اور فقہاء کا قول "تجوز الصلاة خلف کل بر و فاجر " اس معنی پر ہے جو او پر گزرے کہ نماز فاسق کے پیچھے بھی ہو جاتی ہے۔ اگر چہ غیر معلن کے پیچھے مکروہ تنزیہی اور معلن کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوگی۔ مگر ان مدعیوں کے لئے اس حدیث و مسئلہ فقہ میں کوئی حجت و سند نہیں نفس جواز و صحت سے مساوات کیوں کر نکلی کہ منافی ترجیح ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اَمْ نَجْعَلُ المُتَّقِيْنَ كَالْفُجَارِ "(۱)" یہاں سے ظاہر ہوا کہ حدیث مبارک صلوا خلف كل بروفاجر “میں اقتدائے فاسق کی اجازت بحالت اضطرار دفع فتنہ اشرار کیلئے ہے نیز بیان جواز بمعنی صحت کیلئے یہ اجازت وارد ہوئی اور جواز صحت واباحت دونوں معنی میں بولا جاتا ہے۔ لہذا تجوز الصلاة خلف كل بروفاجر “ کا معنى "تصح الصلاة خلف كل بروفاجر“ ہوگا اور ”لاتجوز الصلاة خلف اهل الاهواء“ کا معنی ”لا تحل قرار پائے گا۔ اس کی نظیر اذان جمعہ کے وقت بیع ہے جس کے بابت فقہاء فرماتے ہیں ” یجوز البيع عند اذان الجمعة و يكره “ یعنی جمعہ کی اذان کے وقت خرید و فروخت جائز ہے مگر مگر وہ ہے ۔ اور مراد یہ ہوتی ہے کہ بھی صحیح ہے مگر مکروہ تحریمی وممنوع ہے ۔ اور جو از بمعنی حلت واباحت کی نظیر فقہاء کا قول " لا تجوز الصلاة في الارض المغصوبة“ یعنی نماز زمین غصب میں جائز نہیں، مطلب یہ ہے کہ زمین غصب میں نماز پڑھنا حلال نہیں اگر چہ نماز صحیح ہو جائے گی۔ یہاں سے مبسوط کی اس عبارت کا جواب ہو گیا جو انگریزی میں لکھے ہوئے فتویٰ میں درج کی گئی تو مبسوط کی عبارت کا مطلب یہ ہوا کہ فاسق کی تقدیم صحیح ہے یعنی نماز اس کی اقتدا میں ہو جائے گی اگر چہ مکروہ و ممنوع ہے اور مکر وہ جب مطلق بولتے ہیں تو اس سے اکثرو بیشتر مکروہ تحریمی ہی مراد ہوتا ہے جیسا کہ خود صاحب بحر الرائق نے تصریح کی ہے کمافی رد المحتار وغیرہ۔ تو عبارت مبسوط بشر را تصحیح نقل جمہور علماء کرام کی تصریحات کے اصلا مخالف نہیں۔ اور فاسق معلن وغیر معلن کا حکم الگ الگ معلوم ہوا۔ اور وہ یہ کہ فاسق معلن کی اقتدا مکروہ تحریمی ہے اور غیر معلن کی اقتدا مکروہ تنزیہی ہے۔ لہذا اگر ”بحر الرائق“ کے اس فرمان اخیر کو فاسق غیر معلن پر محمول کیا جائے تو باہم علماء کے درمیان کوئی اختلاف ہی نہیں رہتا۔ فقہا تصریح فرماتے ہیں۔ " ابداء الوفاق اولى من ابقاء الخلاف ولذا صرحوا بانه يوفق بين الروايات مهما امكن كما فى الشامية بالجمله بکثرت دلائل سے فاسق معلن کی اقتدا کا ناجائز و مکروہ ہونا ثابت ہے جسکی تفصیل سید نا اعلیٰ حضرت عظیم البرکت فاضل بریلوی مولانا الشاہ امام احمد رضا خاں رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسالہ مبارکہ ”المنهى الاكيد عن الصلاة وراء عدى التقلید “ میں فرمائی۔ ہم وہیں سے ایک حدیث خاص فاسق کی امامت سے ممانعت پر نقل کرتے ہیں۔ "ابن ماجہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: "لا يؤمن فاجر مومنا الا ان يقهره بسلطانه يخاف سيفه اوسوطہ ہر گز کوئی فاسق کسی مسلمان کی امامت نہ کرے ۔ مگر یہ کہ وہ اس کو بزور سلطنت مجبور کر دے کہ اس کی تلوار یا کوڑے کا ڈر ہو۔ بلکہ ابن شاہین نے کتاب الافراد“ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ، حضور سید عالم ﷺ فرماتے ہیں: "تقربوا الى الله ببغض اهل المعاصي والقوهم بوجوه مكفهرة والتمسوا رضا الله بسخطهم وتقربوا الى الله بالتباعد عنهم " اللہ کی طرف تقرب کرو فاسقوں کے بغض سے اور ان سے ترش رو ہو کر ملو اور اللہ کی رضا مندی ان کی خفگی میں ڈھونڈو اور اللہ تعالیٰ کی نزدیکی ان کی دوری سے چاہو ۔ جب فساق کی نسبت یہ احکام ہیں تو مبتدعین کا کیا پوچھنا ہے کہ یہ تو فساق سے ہزار درجہ بد تر ہیں۔ (۲)" تو انہیں امام بنانا اور تعظیم دینا کیوں کر جائز ہوگا ؟ نیز اعلیٰ حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں: "فاسق متتک (معلن) کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی۔ دلیل اول میں اس مسئلے پر بعض کلام اور صغیری و طحطاوی “ کا نص گزرا اور اسی طرف امام علامہ زبیعی نے تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق اور علامہ حسن شرنبلالی نے شرح نور الایضاح اور علامہ ابو السعود نے حاشیہ مراقی الفلاح میں اشارہ فرمایا اور یہی فتاوی حجہ کا مفاد اور تعلیل مشائخ کرام سے مستفاد یہاں تک کہ علماء نے تصریح فرمائی اگر غلام یا گنوار یا حرامی یا اندھا علم میں افضل ہوں تو انہیں کو امام بنانا چاہئے مگر فاسق اگر چہ سب سے زیادہ علم والا ہو، امام نہ کیا جائے کہ امامت میں اس کی عظمت اور وہ شرعا ستحق اہانت ہے۔ امداد الفتاح میں ہے: "کرہ امامة الفاسق العالم لعدم اهتمامه بالدين فتجب اهانته شرعا فلا يعظم بتقديمه للامامة وإذا تعذر منعه ينتقل عنه الى غير مسجده للجمعة وغيرها "سيدى احمد مصرى اس کے حاشیے میں فرماتے ہیں: "قوله فتجب اهانته شرعا فلا يعظمه بتقديمه للامامة تبع فيه الزيلعي و مفاده كون الكراهة في الفاسق تحريمية "اور حاشیہ شرح علائی میں فرماتے ہیں: "أما الفاسق الاعلم فلا يقدم لان في تقديمه تعظيمه و قد وجب عليهم اهانته شرعا و مفاد هذا كراهة التحريم في تقديمه ابو السعود، انتھی "علامہ محقق حلبی منیہ میں فرماتے ہیں: "العالم اولى بالتقديم إذا كان يجتنب الفواحش و ان كان غيره اورع منه ذكره في المحيط ولو استويا في العلم والصلاح واحدهما اقرأ فقدموا الاخر اساؤا ولا ياثمون فالاسائة لترك السنة وعدم الاثم لعدم ترك الواجب لانهم قد موار جلا صالحا كذا فى فتاوى الحجة و فيه اشارة الى انهم لو قدموا فاسقا يأثمون بناء على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم لعدم اعتنائه بامور دينه وتساهله في الاتيان بلوازمه فلا يبعد منه الاخلال ببعض شروط الصلاة و فعل ماينا فيها بل هو الغالب بالنظر الى فسقه ولذالم تجز الصلاة خلفه اصلا عند مالك ورواية عن احمد" (1)" خلاصہ عبارات یہ ہے کہ فاسق کی امامت مکروہ و ممنوع ہے اگر چہ وہ عالم ہو اس لئے کہ وہ دین کی پرواہ نہیں رکھتا شرعا اسکی الہانت واجب ہے تو لعامت کے لئے اس کو آگے بڑھا کے اس کی تعظیم نہ کریں گے اور اگر اس کو روکنا ممکن نہ ہو تو جمعہ اور دیگر نمازوں کے لئے دوسری مسجد کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔ سیدی احمد مصری اس کے حاشیے میں فرماتے ہیں۔ مصنف نے اس ارشاد میں زبیعی کا اتباع کیا۔ اور اس کا مفاد فاسق کی امامت میں کراہت تحریمی ہے اور یہی سیدی احمد مصری در مختار کے حاشیے میں فرماتے ہیں۔ عالم جبکہ فاسق ہو تو امامت کیلئے آگے نہ بڑھایا جائیگا۔ اس لئے کہ اس کو آگے بڑھانے میں اس کی تعظیم ہے اور لوگوں پر فاسق کی توہین شرعا واجب ہے۔ اور اس کا مفاد یہ کہ اسے امامت کے لئے آگے بڑھانے میں کراہت تحریمی ہے۔ علامہ محقق حلبی نے غنیہ میں فرمایا کہ عالم کو امامت کے لئے آگے بڑھانا افضل ہے جبکہ وہ خلاف شرع باتوں سے بچتا ہو اگر چہ دوسرا اس سے زیادہ پر ہیز گار ہو۔ اس مسئلے کو محیط میں ذکر کیا اور اگر دونوں علم و تقوی میں برابر ہوں اور ایک قرات میں اس سے اچھا ہو تو اگر لوگوں نے دوسرے کو آگے بڑھا دیا۔ تو برا کیا اور گنہ گار نہ ہوئے۔ برا اس لئے کیا کہ سنت چھوڑ دی اور گنہ گار یوں نہ ہوئے کہ انہوں نے کسی واجب کو نہیں چھوڑا ۔ اس لئے کہ انہوں نے نیک مرد کو امامت کے لئے آگے کیا فتاوی حجہ میں یہ مسئلہ اس طور پر ہے اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ لوگ اگر فاسق معلن کو امامت کے لئے بڑھائیں گے گنہ گار ہوں گے ۔ اس لئے کہ اس کو امامت کے لئے بڑھانا مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ وہ دین کے کاموں کا اہتمام نہیں رکھتا اور دین کے ضروری احکام کی تعمیل میں ستی سے کام لیتا ہے تو اس سے کچھ دور نہیں ہے کہ بعض شرائط نماز میں خلل ڈالے اور وہ کر بیٹھے جو نماز کے منافی ہو۔ بلکہ اس کے فسق کو دیکھتے ہوئے اس سے یہی غالب گمان ہے اس لئے امام مالک علیہ الرحمہ کے نزدیک اس کے پیچھے اصلا نماز درست نہیں اور امام احمد علیہ الرحمہ سے بھی ایسی روایت آئی۔ اور مفتی صاحب کا یہ کہنا کہ یادر ہے کہ تقدیم کو مکروہ کہا ہے نماز کو مکروہ نہیں کہا لہذا دوسروں کا اس کے پیچھے نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے۔ اس کا جواب اسی غنیہ کی عبارت سے ظاہر ہے جسکا صاف مفاد یہ ہے کہ مقتدی فاسق معلن کو امامت کے لئے آگے بڑھائیں گے تو گنہ گار ہوں گے اس لئے کہ فاسق معلن کی تقدیم مکروہ تحریمی ہے اور کراہت تحریم کے ساتھ جو نماز ادا کی جائے اس کا اعادہ واجب ہے۔ در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعاد تها (1) لہذا یہ حکم لگانا کہ دوسروں کا اس کے پیچھے نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے غلط اور فقہاء کے فرمان کے صریح خلاف ہے۔ اور جو حدیث یہاں ذکر کی وہ محض اس صورت میں ہے ۔ جبکہ فاسق معلن کو روکنا ممکن نہ ہو۔ اور دوسری مسجد کی طرف منتقل ہونے کا اختیار نہ ہو اور بیان جواز بمعنی صحت کے لئے ہے جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا تو اس سے مطلقا فاسق معلن کی اقتدا کے حلال ہونے پر استدلال کرنا صیح نہیں اخیر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ایک حدیث اور درج کروں جس سے فاسق کی حیثیت اور اسے تقدیم و تعظیم دینے والوں کا حکم ظاہر ہو۔ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں: "و قرصاحب بدعة فقد اعان على هدم الاسلام (۱)" یعنی جو کسی بدعت والے کی تعظیم کرے تو اس نے اسلام کے ڈھانے پر مدددی۔ رد المختار میں فاسق کے بارے میں فرمایا: "هو كالمبتدع تكره امامته بكل حال بل مشى في شرح المنية على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم لما ذكرنا (۴)" یعنی فاسق معلن بدعتی کے مثل ہے کہ اس کی امامت بہر حال مکر وہ ہے بلکہ شرح منیہ میں شارح اس طرف گئے کہ اس کو امامت کیلئے مقدم کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔ اس دلیل سے جو ہم نے ذکر کی ۔ اب جبکہ یہ بخوبی ظاہر ہو گیا کہ فاسق مبتدع کی نظیر ہے۔ لہذا مناسب ہے کہ خلاصہ کلام میں فاسق و مبتدع کے احکام اور فاسق کے بارے میں تفصیل و توفیق اقوال به طور اجمال بیان ہو اور اختتام یہاں امام اہل سنت اعلیٰ حضرت کے کلام پر ہو کہ امام الکلام ہے اور وہی مسک الختام ہے ۔ فتاوی رضویہ ج سوئم صفحہ ۲۷۱ سے ایک فتویٰ مع سوال و جواب بعینہ نقل کیا جاتا ہے: مسئلہ : از سر کار مارہرہ مطہرہ ضلع ایله در گاه کلاں مسئولہ حضرت صاحبزادہ والا مرتبت بالا منقبت حضرت سید شاہ محمد میاں صاحب زید مجد ہم ۲۰ ذیقعده ۱۳۳۰ھ جامع کمالات منبع برکات مولنا المعظم زادت برکاتہم ، پس از سلام مسنون عارض ہوں فساق کی امامت علی المذهب مفتی به مکروہ تحریمی قابل اعادہ یا مکروہ تنزیہی یا کچھ تفصیل ، اگر فساق کی امامت سے صلحا بھی اور فساق دونوں نمازیں پڑھیں بر تقدیر اعادہ صرف صلحا کے لئے نماز مکروہ تحریمی قابلِ اعادہ ہے یا صلح و فساق دونوں کے لئے ، اور صلحا اگر منع فساق عن الامامتہ سے عاجز ہوں تو صلوت خمسہ بے جماعت پڑھنا یا فساق کی امامت سے پڑھنا اولی، در مختار میں ہے کہ فساق دائمی وعبد و ولد الزنا وغیرہ کی امامت تب مکروہ ہے جب دوسرے ان سے اچھے موجود ہوں ورنہ نہیں ،اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ جو لوگ مکروہ کہتے ہیں ان کے نزدیک بھی یہی حکم ہے یا کچھ اور ؟ بینوا توجروا۔ الجواب: امامت فساق کی نسبت علما کے دونوں قول ہیں کراہت تنزیہیہ کمافی الدر اور کراہت تحریمی کمافی الغنية وفتاوى الحجة والتعيين والي السعود والطحطاوی علی مراقی الفلاح و غیرہا، اور ان میں توفیق یہ ہے کہ فاسق غیر معلن کے پیچھے مکروہ تنزیہی اور معلن کے پیچھے تحریمی ، مبتدع کی بدعت اگر حد کفر کو پہنچی ہو اگرچہ عند الفقہا یعنی منکر قطعیات ہو اگر چہ منکرِ ضروریات نہ ہو، تو صیح یہ ہے کہ اس کے پیچھے نماز باطل ہے کمافی فتح القدیر و مفتاح السعادة والغاشیۃ وغیر ہا۔ کہ وہی احتیاط جو متکلمین کو اس کی تکفیر سے باز رکھے گی اس کے پیچھے نماز کے فساد کا حکم دے گی فان الصلاة اذا صحت من وجوه وفسدت من وجہ حکم بفسادھا۔ ورنہ مکروہ تحریمی ، جن صورتوں میں کراہت تحریم کا حکم ہے صلحاء وفساق سب پر اعادہ واجب ہے ، جب مبتدع یا فاسق معلن کے سوا کوئی امام نہ مل سکے تو منفر د آ پڑھیں کہ جماعت واجب ہے اور اس کی تقدیم بکراہت تحریم اور واجب و مکروہ تحریم دونوں ایک مرتبہ میں ہیں۔ ودرء المفاسد اھم من جلب المصالح ۔ ہاں اگر جمعہ میں دوسرا امام نہ مل سکے تو جمعہ پڑھیں کہ وہ فرض ہے اور فرض اہم ۔ اسی طرح اگر اُس کے پیچھے نہ پڑھنے میں فتنہ ہو تو پڑھیں اور اعادہ کریں کہ القننہ اکبر من القتل ۔ واللہ تعالیٰ اعلم "سوال نمبر ۱۴ کے جواب میں مفتی نے جو یہ لکھا ہے قبضہ سے زائد کا کاٹنا واجب ہے محل نظر و نا قابل تسلیم ہے۔ یونہی جمہور کا مذہب جو بایں الفاظ بیان کیا کہ بہت لمبی داڑھی ہونا جمہور کے نزدیک مستحب ہے جہاں تک ہو اس پر تصحیح نقل مطلوب ہے ۔ یہاں سے خوب ظاہر ہوا کہ وہ فتوی جو تبصرے کیلئے پیش کیا گیا اور اس کا انگریزی ترجمہ دونوں تحقیق سے دور تفصیل سے خالی توفیق سے مہجور ۔ داڑھی کی اہمیت کو عوام کی نظر میں کم کرنے والے اور داڑھی تراشنے والوں کا حوصلہ بڑھانے والے اور نماز جو بڑی احتیاط کا محل ہے۔ اس میں لا پرواہی و بے احتیاطی کو روا ر کھنے والے جن میں محض خواہش نفس سے ترجیح و تفصیل و توفیق و تطبیق سے صرف نظر کر کے ایک قول مرجوح کو مفتیوں نے اختیار کیا ہے ۔ تراویح میں ختم قرآن سنت موکدہ ہے جبکہ امام جامع شرائط امامت کی اقتدا میسر ہو تو اس فضیلت کا حاصل کرنا خوب اور شرعا مطلوب ۔ مگر امام جبکہ فاسق معلن ہو اور ترک اقتدا سے کوئی فتنہ نہ ہو تو اس فضیلت کی تحصیل کے لئے مکروہ تحریمی کے ارتکاب کی کس نے ٹھہرائی اور اس کی اجازت کہاں سے آئی ۔ ہاں اگر وہ فاسق معلن ہی جماعت موجودین میں قرآن صحیح طور پر پڑھتا ہو تو اس صورت میں فرض و تراویح سب میں تصحیح صلاۃ کیلئے اس کی اقتدا جائز ہے یا ترک اقتدا میں فتنے کا صحیح اندیشہ ہے تو اقتدا کی اجازت ہے۔ مگر اس صورت میں اعادہ ضروری ہے ۔ واللہ تعالی اعلم محمد اختر رضا القادری الازھری غفرلہ