نسبندی، حج، فرضی مزار، چرم قربانی، بینک ملازمت اور اللہ میاں کہنے کے متعلق سوالات
(۴) نسبندی کرائے ہوئے کو امام بنانا اور اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ (۵) زید کسی وجہ سے حج کے لئے والدین کی اجازت نہیں لے سکتا، اس صورت میں اس کے حج کا کیا حکم ہوگا؟ (1) ہمارے محلہ میں ایک مزار بنایا گیا ہے جس میں کوئی دفن نہیں ہے، لیکن لوگ اس کی زیارت کرتے ہیں اور فاتحہ بھی پڑھتے ہیں۔ اس بارے میں بھی رہنمائی فرمائیں۔ (۷) چرم قربانی کچھ لوگ مسجد یا مدرسہ میں دے دیتے ہیں اور کچھ لوگ امام صاحب کو دے دیتے ہیں، تو آپ سے عرض ہے کہ چرم قربانی کہاں کہاں دے سکتے ہیں، بیان فرمائیں اور یہ بھی بتائیں کہ کیا اس سے خود بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؟ (۸) زید کہتا ہے کہ بینک میں کام کرنا اور بینک سے جور تم بڑھ کر ملے اسے لینا جائز نہیں، اس لئے کہ وہ سود ہے۔ (۹) ہمارے یہاں ایک بزرگ ہیں، لوگ انہیں ”اللہ میاں “ کہتے ہیں ، کیا کسی انسان کو اللہ میاں کہ سکتے ہیں ؟
الجواب: (1) کافر کو عذاب سے نجات نہیں البتہ ابولہب کے متعلق حدیث میں آیا کہ اس کے لئے دوشنبہ کے دن عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے کہ اس نے حضور علیہ السلام کی پیدائش کی خوشی میں ثوبیہ کو آزاد کیا تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) صحابہ میں کسی مجتہد متعین کی تقلید کا رواج نہ تھا بلکہ غیر مجتہد صحابی جن مجتہد صحابی کو پاتے ان سے مسئلہ دریافت فرماتے اور اس مسئلہ میں انہی کی تقلید کرتے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) حدیث میں فرمایا: "اختلاف امتی رحمة" (1) كنز العمال، ج ۱۰، ص ٥٩ ، حدیث نمبر ٢٨٦٨٢ ، كتاب العلم، دار الكتب العلمية، بيروت فروع میں میری امت کا اختلاف مسائل شرع میں وسعت اور امت پر رحمت ہے ۔ وھواعلم (۴) بغیر توبہ اسے امام بنانا گناہ ہے اور نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی واجب الاعادہ جبکہ بخوشی نسبندی کرائی ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) حج ہو جائے گا اور والدین سے اجازت لینا بہتر ہے۔ پھر اگر وہ اجازت دیں تو خیر ورنہ یہ حج کو ضرور جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) فرضی مزار بنانا اور اس کی زیارت کرنا اور اس کے لئے جلسہ اور اس پر فاتحہ پڑھنا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) چرم قربانی کی رقم مسجد و مدرسہ میں صرف کرنا جائز ہے اور اسے مدرسین کی تنخواہ میں صرف کرنا بھی جائز ہے اور اس رقم سے امامت کی تنخواہ دینی بھی جائز ہے بلکہ چرم کو باقی رکھتے ہوئے اپنے کام میں بھی لانا جائز ہے جیسے مصلی ڈول وغیرہ۔ ہاں اگر چرم کو اپنے لئے دیا تو اس رقم کا صدقہ کرنا واجب ہے ، اپنے کام میں لانا جائز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) بینک میں ملازمت کرنا جائز ہے۔ شرعاً کوئی ممانعت نہیں اور بینک سے رقم جمع کرنے پر جو منافع ملتا ہے وہ بھی جائز ہے وہ سود نہیں بلکہ اسے سود کہنا ہی ناجائز ہے کہ سود دو مسلمانوں یا مسلمان اور کافرذمی کے درمیان ہوتا ہے۔ ہدایہ میں ہے: لا ربؤ بين المسلم والحربي (۱) تفصیل کے لئے رسالہ جینک ملاحظہ کریں۔ واللہ تعالی اعلم (۹) کسی بشر کو اللہ میاں کہنا سخت ناجائز و حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱) الهداية الجزء ان الآخران، باب الربوا، ص۷۰، مجلس بركات فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله شب ۱۲؍ رجب المرجب ۱۴۰۲ھ