علماء کی توہین اور قرآن و حدیث کے بارے میں گستاخانہ کلمات کا حکم
امام صاحب نے فرمایا کہ میں دوسرے کی قربانی کر رہا تھا۔ بایں سبب تاخیر ہوگئی ہے ۔ حاجی نے فورا کہا کہ مولا نالوگ کم بخت ہیں۔ مولانا صاحب نے کہا کہ علماء کو بد زبانی سے یاد کرنا حدیث کے خلاف ہے۔ حاجی نے جواب دیا کہ تیر اقرآن و حدیث میرے عضو تناسل پر ہے (استغفر اللہ ، معاذ اللہ ) لوگوں کا کہنا ہے کہ توبہ کر لو ۔ حاجی انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم حاجی ہو کر توبہ کریں ؟ نہیں کریں گے ! پیش امام کا کہنا ہے کہ حاجی ایمان سے خارج ہو گیا، اس سے تعلق ختم کرو، اس کا حقہ پانی بند کرو۔ کچھ لوگ امام صاحب کی باتوں کے پیرو ہیں اور کچھ حاجی کے۔ ایسے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ اور حاجی کے یہاں کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا کیسا ہے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں سوالات کے جواب عنایت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی ۔ فقط
الجواب: من جانب کمیٹی مسجد توجیه و فیض الحق صاحب نوری موضع گوشیه، پوسٹ دھونرا انڈہ، ضلع و تحصیل بریلی شریف (1) فی الواقع زید اگر فاسق ہے تو اس سے میل جول ممنوع ہے اور ان تینوں کے اس خبر میں دروغگو ہونے پر جب کہ کوئی ظاہر دلیل نہیں تو اس معاملہ میں ان کا اعتبار کیا جائے گا کہ بے ثبوت شرعی کسی مسلم کو کسی گناہ کا مرتکب جاننامنع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہ ہر گز ولی نہیں ، نہ باشرع کہ نشہ کرتا ہے اور نشہ شرعا حرام، اسے با شرع کہنے سے توبہ لازم ہے۔ اور یہ اس کی جہالت ہے کہ فقیری کو شرع سے جدا گانہ کوئی چیز سمجھتا ہے اور فقیر کو احکام شرع سے آزاد سمجھتا ہے۔ ان سب پر تو بہ لازم ہے ، خلاف شرع کام کرنے والا واصل بہ خدا نہیں ہو سکتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) علم دین و علماء کی توہین کفر ہے۔ اشباہ میں ہے: "الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر " (1) (1) الاشباه والنظائر مع الحموى باب الردة، كتاب السير، ج ۲، ص ۲۰۲ ، دار الكتب العلمية، بيروت اس نام نہاد نے تو قرآن و حدیث ( کہ علم دین کا سر چشمہ ہیں ) ہی کی توہین کی۔ فی الواقع جس نے قرآن و حدیث اور علماء کی وہ توہین کی جو سوال میں مذکور ہوئی، کافر ہے۔ اس پر اور اس کے اقوال سے جو راضی ہوں ان سب پر توبہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی فرض ہے اور بیوی والوں پر تجدید نکاح بھی اور یہ لوگ جب تک تو بہ صحیحہ نہ کر لیں ان سے میل جول حرام ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ