کسی مسلمان کو بلا ثبوت شرعی وہابی کہنا حرام ہے اور اذان ثانی میں 'بین یدیہ' کی تشریح
(1) زید مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم القدسیہ کے دست پاک پر بیعت ہے اور ساتھ ہی ساتھ دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف سے ۱۹۷۸ء میں فاضل کی سند بھی حاصل کی ہے۔ کسی وجہ سے زید سند اور شجرہ ساتھ نہیں لا سکے۔ کیا ان کو وہابی یا دیوبندی کہا جا سکتا ہے ؟ اور نہیں تو کہنے والے پر از روئے شرع شریف کیا حکم ہے؟ بہتفصیل بیان کریں۔ عین کرم ہو گا !(۲) اذان ثانی جو خطیب کے سامنے روبرو ہونی چاہئے ، بیچ میں دیوار حائل ہے جس سے خطیب منبر پر بیٹھنے کے بعد دکھائی نہیں دیتا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ”بین ایدیھم کا ترجمہ روبرو آمنے سامنے نہیں ہے اور مفصل طریقے سے اس مسئلہ کو بھی تحریر فرمائیں۔ حدیث پاک مکان لیوڈن بین یدی رسول یا ای پی ای ایم اذا جلس على المنبر يوم الجمعۃ علی باب المسجد “ اس حدیث پاک کا خلاصہ تحریر فرمائیں کہ ”بین یدی“ سے مراد ہم سیدھ لیں یا آمنے سامنے ؟ بہت ہی جلد اس کا جواب مرحمت فرمائیں کیونکہ اذان ثانی میں بیچ میں دیوار حائل ہونے کے کافی تنازع ہے ولی محمد پیر بریلی کے مرید لوگوں کا اس پر بہت زیادہ اعتراض ہے اور لوگ مفتی اعظم ہند کے مرید کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ہیں۔ فقط
الجواب: (1) بے ثبوت شرعی اس شخص کو ہالی دیو بندی جانا حرام بد کام کفر انجام ہے ۔ ان لوگوں پر تو یہ لازم ہے جو اسے بے ثبوت شرعی وہابی بتارہے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بین یدیہ“ کے معنی سامنے کے ہیں اور حضور پیا ہے اور ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ” عہد مبارک میں خطبہ کی اذان منبر کے سامنے دروازہ مسجد پر ہوتی تھی۔ یہ حدیث پاک کا خلاصہ ہے جس سے ثابت کہ اذان خارج مسجد حدود مسجد میں مسنون ہے اور خاص موضع صلاۃ میں کوئی اذان جائز نہیں۔ دیوار میں روشندان کھول لیں کہ منبر کا سامنا ہو جائے اور محض تعصب سے کسی کی اقتدا نہ کرنا گناہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله