دیہات میں جمعہ، غیر مسلم کا سلام، رہن سے نفع اور نماز کے مسائل
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین حسب ذیل مسائل میں (۱) دیہات میں جمعہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور کیا شرائط ہیں؟ اور جن دیہاتوں میں شرائط نہیں پائے جاتے اور وہ لوگ جمعہ پڑھتے ہیں تو وہ ظہر کی نماز سے کس طرح بری الذمہ ہوں گے ؟ (۲) غیر مسلم کسی مسلمان کو اسلامی طریقہ سے سلام کرے تو کس طرح جواب دینا چاہئے ؟ (۳) کوئی کافرکسی مسلمان کے پاس کھیت گروی رکھے پانچ سو روپیہ پر اور یہ طے ہو جائے کہ جب تک ہم روپیہ آپ کو واپس نہ کر دیں اس وقت تک آپ کھیت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو اس طرح کھیت گروی رکھنا اور کھیت کی پیداوار اپنے خرچ میں لانا جائز ہے یا نہیں ؟ (۴) نابالغ بچوں سے پڑھائی کے دوران استاذ اُن سے اپنے پیر یا بدن دبواسکتا ہے یا نہیں ؟ (۵) چار رکعت نفل نماز میں یا سنت غیر موکدہ میں تیسری رکعت میں ثنا پڑھنا کیسا ہے ؟ اور دوسری
الجواب: سائل: محمد حنیف، اونچی والی مسجد ، محلہ چھوٹی بازار ، شہر فتح پور ہسوا، یوپی (1) دیہات میں جمعہ صحیح نہیں کہ اسکی صحت کیلئے شہر شرط ہے مگر جہاں عوام پڑھتے آئے ہوں وہاں رو کا نہیں جاتا اور دیہات والے ظہر سے بے ادائے ظہر بری الذمی نہ ہوں گے ) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بس ”وعلیک “ کہ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جائز ہے۔ لان مالهم مباح فى دارهم فبأي طريق اخذه المسلم اخذ مالا مباحا اذا لم يكن فيه غدر، كذا فى الهداية . (۲) تفصیل کے لئے رسالہ بینک دیکھو جو قادری بک ڈپونو محلہ بریلی سے ملے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ہاں ، ولی کی اجازت سے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) ثنا پڑھنا چاہئے اور درود شریف وغیرہ بھی دوسری رکعت کے تشہد کے بعد پڑھنا چاہئے. لأن كل شفع من النفل صلاة عليحدة. (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (1) در مختار و عامه کتب (2) الهدايه ، كتاب البيوع، باب الربوا ، ج ۲، ص ۷۰، مجلس بركات (3) در مختار وغيره