کلمہ طیبہ، پیر کی بدعنوانیوں، توہینِ بزرگان اور نمازِ عیدین کے متعلق ایک تفصیلی سوال
مسائل کو جھاڑ پھونک ، بھوت، پری، جنات، وغیرہ کا دھوکہ دے کر اپنی بزرگی جتاتے ہیں، اس پر بھی سائل نے لقمہ دیا مگر کچھ اثر نہ ہوا۔ اسی طرح ایک دن کلمہ شریف کی بھی بات آئی تو سائل نے بتایا جو کہنا و سننا تھا ارشد القادری نے ماہنامہ جام نور کلکتہ میں لکھا ہے کہ کسی سائل نے قاری طیب سے سوال کیا کہ جو طریقہ سے کلمہ شریف پڑھا جا رہا ہے اس ترکیب کے ساتھ قرآن مقدس کے اندر میں پایا جاتا، کیا اسی طرح سے کلمہ ظاہری زندگی میں پڑھا جاتا رہا یا کہ اور مقتدر علمائے سلف صالحین نے اس طرح رائج کیا جس پر مولانا ارشد القادری نے لکھا کہ ایسا عقیدہ دونوں فرقوں و جماعت اسلامی و دیو بندی کا ہے کہ ”لااللہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ کو ملا کر پڑھنا بدعت حسنہ ہے۔ اسی کو سائل نے پیر جی سے ایک دن دوران گفتگو بتلائی جس پر پیر جی نے سائل کے خلاف یہ افتر اشروع کیا کہ یہ کلمہ شریف بدعت بدعت کہتے ہیں حالانکہ سائل علمائے احناف ہی کے مسلک پر چلتا ہے، اس کو ترجیح بھی دیگر مسلکوں پر دیتا ہے ، نہ کہ اعتراض کے طور پر کہا جیسا کہ پیر جی سائل کے خلاف فتویٰ طلب کر رہے ہیں، ویسے پیر جی کو جو سائل نے اپنے ہاتھوں سے لکھ کر تحریر دی ہے اسے علماء کے سامنے انہوں نے پیش نہیں کیا۔ دیگر گاؤں مذکورہ سے ملا ہوا موضع رسول آباد کے ایک بزرگ کا مزار ہے جن کا نام معین الدین چشتی ہے، اس نام سے عرس کے موقع پر ایک پوسٹر شائع ہوا جس میں صاحب مزار شریف کی تعریف علمائے کرام نے جس انداز سے کی ہے اسے بھی پیر صاحب برداشت نہ کر سکے بلکہ بڑا بھلا کہ کر پوسٹر کو چیڑ پھاڑ ڈالا۔ دوسرے یہ کہ ایک دن سائل سے نماز عیدین کے مسائل پر گفتگو ہوئی تو سائل نے بتایا کہ علمائے احناف منع فرماتے ہیں کہ جس مسجد میں نماز پنجگانہ ادا کی جاتی ہو نماز عیدین پڑھنا مکروہ ہے اور نماز جمعہ بھی جہاں جواز شارع نہ پایا جاوے اس پر بھی پیر جی بہت صحیح چلائے ، یہ ہیں عقائد سائل اور پیر جی کے ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ سائل نے جن جن سوالوں کے جوابات پیر جی کو دیے ہیں وہ صحیح ہیں یا غلط؟ اس طرح کے سوالات و جوابات پر سائل کو توبہ و استغفار کرنا لازم آتا ہے یا پیر صاحب مذکور کو ؟ کیا ان کی پیری مریدی یا امامت نماز جائز ہے ؟ مفصل و مدلل جواب سے فورا آگاہ کریں۔ المستفتی: مولوی محمد حنیف خاں جیبی گرام بھٹی جرولی، سلطان پور ، اودھ
الجواب: نیاز و فاتحہ اور اولیائے کرام کے مزارات پر چادر ڈالنا اور کلمہ شریف کا ورد بہیئت مروجہ معمولات اہلسنت میں ہے جن کی ممانعت پر شرع مطہر سے اصلا دلیل نہیں ، بلکہ ان کے جواز واستحسان پر دلیل ہے اور ان امور میں سنیوں پر طعن ممنوع و حرام ہے بلکہ گمراہی و بے دینی ہے کہ قرآن کریم نے اسے صاف مسلمانوں سے الگ راہ چلنا بتایا ہے ۔ قال تعالى : وَ مَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَ يَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ - وَ سَاءَتْ مَصِيرًا (۱) آیت کریمہ سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمانوں کا تعامل حجت ہے اور اس کی ممانعت اللہ ورسول جل و علا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کی دشمنی اور مسلمانوں کی راہ سے ہٹنا ہے جن پر آدمی کو یہ وعید ہے کہ ہم اسے آخرت میں اسی گھر ہی کے سپرد کر دیں گے اور جو ان سے جدائی اختیار کرے جہنم میں پہنچادیں گے اور وہ کتنا برا ٹھکانہ ہے۔ خازن میں ہے: " (نوله ما تولى) نكله في الآخرة الى ما تولى فى الدنيا وتتركه وما اختار لنفسه ") (۲) اسی میں ہے: " ان اتباع غير سبيل المؤمنين وهى مفارقة الجماعة حرام فوجب ان يكون اتباع سبيل المؤمنين واجبا فثبت بهذا أن اجماع الامة حجة "(۳) مدارک میں ہے: "(و يتبع غير سبيل المؤمنين) هو دليل على ان الاجماع حجة لا تجوز مخالفتها كما لا تجوز مخالفة الكتاب والسنة لان الله تعالى جمع بين اتباع غير سبيل المؤمنين وبين مشاقة الرسول فى الشرط [الى] فكان اتباعهم واجبا كموالاة الرسول " اور اس میں شک نہیں کہ ان اعمال کے استحسان پر تمام اہل سنت کا اتفاق اور بلانکیر اس پر تعامل دیار و امصار میں از منہ طویلہ سے چلا آتا ہے اور شرع مطہر سے اصلا ان کی ممانعت نہیں، تو انہیں جائز و سحسن جاننا واجب ہے ، ومن ادعی فعلیہ البیان۔ اور بے دلیل شرع محض زور زبان سے ناجائز و حرام بتانا حرام اور بد کام گمراہی و بے دینی انجام کہ ممانعت خد اور رسول جل و علا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بلکہ ان کی تکذیب ہے۔ حدیث میں ہے کہ فرماتے ہیں رسول کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم : "ما رأه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ اور فرماتے ہیں علیہ السلام: "لا تجتمع امتى على الضلالة " میری امت گمراہی پر اکٹھانہ ہوگی۔ توان امور میں سنیوں پر گمراہی کی تہمت خد اور رسول کی تکذیب اور خود بے دین بننا ہے ۔ البتہ یہ اعتقاد کہ چولہے ہی کے پاس بیٹھ کر کھانا ضروری ہے ، ممنوع ہے۔ جس کا یہ عقیدہ ہو اسے اس سے (1) مدارك التنزيل، سورة النساء، آیت: ۱۱۵، ج ١ ، ص ٣٦٥، دار النفائس (2) المقاصد الحسنة للسخاوى ، ص ٤٢٢ ، حدیث نمبر ، ٩٥٧ ، بركات رضا پور بندر گجرات (3) المقاصد الحسنه ، باب حرف اللام الف، حديث ١٢٨٦ ، ص ٥٢٦ ، برکات رضا رجوع لازم ہے اور نماز میں رونا مطلقا ممنوع نہیں بلکہ اس میں تفصیل ہے جو کتاب مذکور میں مسطور ہے۔ فلیر اجع اور عیدین کے متعلق سائل نے جو مسئلہ بتایا وہ بھی غلط ہے۔ سائل پر اپنے خیالات سے توبہ فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ