متینی کو اپنی حیات میں جائیداد کا مالک کرنا کیسا ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید صاحب جائیداد تھا مگر کوئی اولاد نرینہ نہ ہونے کے باعث اپنی سالی کے لڑکے عمرہ کو گو دلیا اور اپنا منہ بولا بیٹا بنا کر پرورش و تعلیم و تربیت کرتا رہا۔ عمرو جب سن شعور کو پہنچا تو زید نے اپنے کنبے و دیگر گردو نواح کے متمول لوگوں کو مدعو کیا اور مجمع عام میں اس بات کا اعلان کیا کہ آج سے عمرو میری جملہ جائیداد کا مالک ہے ، کچھ عرصہ کے بعد زید کا انتقال ہو گیا۔ عمرو کے دو بھائی حقیقی جو کہ عمرو اور زید کی
زید کے اگر فی الواقع بدرستی ہوش و ثبات عقل اپنے متنبی عمرہ کو ساری جائیداد اپنی زندگی میں ہمہ کر دی اور اس پر عمرو کو قابض و دخیل و متصرف کر دیا اور خود کوئی حق مالکانہ نہ رکھا تو عمر و اس کی ساری جائیداد کا مالک ہو گیا اور کسی وارث کو زید کی جائیداد پر کوئی حق نہیں پہنچتا اور اگر ہبہ زید کا محض زبانی تھا، زید نے عمرہ کو اپنے حقوق سے دستبردار ہو کر جائیداد پر قبضہ تامہ نہ دیا تھا تو جائیداد زید کے ترکہ میں شامل ہوگی اور زید کے حقیقی بھائی ترکہ پائیں گے ، عمرو کو کچھ نہ ملے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم