نماز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال لانے کا حکم اور اسماعیل دہلوی کی عبارت کا رد
نماز میں حضور کا خیال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز میں خیال آنا یا لانا درست ہے یا نہیں ؟ میری نظر سے ایک کتاب ”صراط مستقیم گزری ہے جس کے مصنف مولانا اسمعیل دہلوی ہیں۔ انہوں نے تحریر فرمایا ہے: ”زنا کے وسوسہ سے اپنی بیوی کی مجامعت کا خیال بہتر ہے اور شیخ یا اس جیسے اور بزرگوں کی طرف خواہ جناب رسالت مآب ہی ہوں اپنی ہمت کو لگا دینا اپنے بیل اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے بڑا ہے کیونکہ شیخ کا خیال تو تعظیم اور بزرگی کے ساتھ انسان کے دل میں چپٹ جاتا ہے اور بیل اور گدھے کے خیال میں نہ تو اس قدر چیدگی ہوتی ہے اور نہ تعظیم بلکہ حقیر اور ذلیل ہوتا ہے اور غیر کی یہ تعظیم اور بزرگی جو نماز میں ملحوظ ہووہ شرک کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔“ مہربانی کر کے جواب مرحمت فرمائیں کرم ہو گا۔ سائل : مقصود علی صدیقی
الجواب، اللهم حداية الحق والصواب : حضور پر نو شفیع یوم النشور ﷺ کی تعظیم لازم ایمان بلکہ جان ایمان و مدار فلاح و شرط نجات و صلاح دارین ہے۔ قال تعالى : الَّذِيْنَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِي الَّذِي يَجِدُوْنَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَيةِ وَالْاِنْحِيلَ - يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَيهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ هَمُ الطَّيِّبَتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبيثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْأَغْلَلَ الَّتِى كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِيْنَ آمَنُوْا بِهِ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِى أُنْزِلَ مَعَةَ ) - أوليئكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ . وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع فرمائے گا اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں اُن پر حرام کرے گا اور اُن پر سے وہ بوجھ اور گلے کے پھندے جوان پر تھے اُتارے گا تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اتر اوہی بامراد ہوئے۔ ابن جریر و ابن منذر وابن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ انہوں نے عروہ کی تفسیر میں فرمایا کہ عظموه و و قروہ “ یعنی رسول کی تعظیم و توقیر کریں۔ کذافی الدر المنثور ۔ اسی لیے اہل ایمان کی عادت قدیمہ مستمرہ رہی ہے کہ سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم کرتے اور اسے مدار فلاح و نجات جانتے مانتے آئے ہیں اور اگلی امت کے لوگوں کو بھی فلاح دارین اسی سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام کے نام پاک کے احترام سے ملی ہے۔ چنانچه علامه اصل سی ملی علیه الرحمه والرضوان در منثور میں فرماتے ہیں کہ ابو نعیم نے حلیہ میں ہب سے روایت کی۔ قال كان في بني اسرائيل رجل عصى الله تعالى مائتي سنة ثم مات فأخذوه فألقوه على مزبلة فأوحى الله الى موسى عليه السلام أن اخرج فصل عليه قال يارب بنو اسرائيل شهد وا انه عصاك مائتي سنة فأوحى الله اليه هكذا كان لأنه (1) كان كلما نشر التوراة و نظرالى اسم محمد صلى الله عليه وسلم قبله ووضعه على عينيه وصلى عليه فشكرت له ذلك و غفرت ذنوبه و زوجته سبعين حوراء۔ یعنی بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے دو سو برس تک اللہ کی نافرمانی کی پھر وہ مرگیا تو لوگوں نے اسے اٹھا کر گھورے پر ڈال دیا۔ پھر اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی کہ باہر آئیں اور اس شخص کی نماز جنازہ پڑھیں انہوں نے عرض کی یارب بنی اسرائیل شاہد ہیں کہ یہ شخص دو سو برس تک تیرانا فرمان رہا ہے تو اللہ نے فرمایا وہ ایسا ہی تھا۔ مگر اس کی یہ عادت تھی کہ جب توریت کھولتا اور نام محمد دیکھتا تو اس نام کو وہ چوم لیتا اور اپنی آنکھوں پر رکھتا اور محمد ﷺ پر درود بھیجتا تو میں نے اس کا یہ عمل پسند کیا اور اس کے گناہ بخش دیئے اور اسے ستر حوروں سے بیاہ دیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تعظیم سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام المدرار سنت قدیمہ اور معمول اہل ایمان ہے اور نیز یہ کہ عین عبادت الہی میں سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم اصلا مخل عبادت نہیں بلکہ یہ امر عند اللہ محبوب ہے اور ہمہ وقت مطلوب ہے اور بار گاہ الہی میں قبول اور مغفرت کے حصول کا سبب ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِيْنَ كَفَرُوْانَ - فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوا بِهِ - فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَفِرِيْنَ . یعنی اور اس سے پہلے اس نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے توجب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس کے منکر ہو بیٹھے تو اللہ کی لعنت منکروں پر۔ ابن الحق و ابن جریر وابن المند رو ابونعیم و بیہقی ہر دو نے دلائل میں عاصم بن عمر بن قتادہ الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کی: وفيهم حد ثني الاشياخ منا قالوالم يكن احد من العرب اعلم بشان رسول الله صلى الله عليه وسلم مناكان معنا يهود وكانوا اهل كتاب وكنا أصحاب وثن و كنا اذا بلغنا منهم ما يكرهون قالوا ان نبيا مبعوثا الآن قد أظل زمانه تتبعه فنقتلكم قتل عادوارم فلما بعث الله عز وجل رسوله اتبعناه وكفرو ابه ففينا والله انزل الله وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا الآية كلها . () یعنی مجھے ہمارے قبیلے کے بزرگوں نے بتایا کہ عرب میں کوئی ہم سے زیادہ رسول پالیسی کے حال سے خبر دار نہ تھا۔ ہمارے پڑوسی یہودی تھے اور وہ اہل کتاب تھے اور وہ عرب بت پوجتے تھے اور جب ہم ان پر نصرت پاتے جو انہیں ناگوار ہوتی تو وہ کہتے ابھی ایک نبی معبوث ہونا ہے اس کا زمانہ قریب ہے ہم اس کی پیروی کریں گے پھر ان کے ساتھ ہو کر تمہیں ایسا قتل کریں گے جیساعا دوارم قتل ہوئے تو جب اللہ نے اپنار سول بھیجا ہم اس کے پیرو ہوئے اور یہودی ان کے منکر ہوئے تو قسم بخدا ہمارے اور ان یہودیوں کے بارے میں یہ پوری آیت اللہ نے اُتاری۔ ابونعیم نے دلائل میں بطریق عطا اور ضحاک نے سید نا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ، کمافی الدرر : قال كانت يهود بني قريظة والنضير من قبل ان يبعث محمد صلى الله عليه وسلم يستفتحون الله يدعون على الذين كفر واو يقولون اللهم انا نستنصرك بحق النبي الأمي الا نصرة نصرتنا يشكوا فيه كفر وابه۔ 136 تكملة فلما جاء هم ماعرفوا ير يد محمد اولم يشكوا فيه كفر وابه۔ (۱) یعنی بنو قریظہ اور نضیر قبیلوں کے یہودی سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ان کے وسیلے سے اللہ تعالی سے نصرت مانگتے، کافروں پر بد دعا کرتے تو یوں کہتے کہ اے اللہ ہم تجھ سے اس نبی امی کے وسیلے سے نصرت مانگتے ہیں۔ اس نبی علیہ السلام کا تجھے واسطہ ہمیں کافروں پر فتح یاب فرما توانہیں سرکار کے وسیلے سے مدد ملتی تو جب ان کے پاس تشریف لے آیا وہ جانا پہچانا، یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور انہیں اس میں شک نہ تھا تو اس کے منکر ہو بیٹھے۔ اس آیت کریمہ اور حدیثین کریمین سے سرکار ابد قرار علیہ السلام کے نام پاک کی تعظیم و احترام کا حال معلوم ہوا اور سرکار کی تعظیم کا حال معلوم ہوا اور سر کار کی تعظیم کا معنی بھی معلوم ہوا اور وہ یہ کہ سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام کو وسیلہ جناب الہی جانے اور فتح و نصرت اور فلاح دارین کو ان کے نام نامی سے وابستہ جانے اور عبادت کی قبولیت انہی کے وسیلے سے سمجھے اور یہ بھی کھلا کہ یہ اگلوں کی سنت مستمرہ ہی نہیں بلکہ قرآن وحدیث نے اس طریقہ قدیمہ کو حکایت کیا اور اسے مقرر رکھا جس سے ظاہر ہوا کہ یہ مدار ایمان ہے۔ اسی لئے جب یہودیوں نے یہ طریقہ قدیمہ چھوڑا قرآن نے ان کے متعلق فرمایا کفروا بہ “ وہ اس کے منکر ہو کر کافر ہو گئے۔ یہاں سے ظاہر ہوا کہ تعظیم سرکار مدینہ علیہ الصلوۃ والسلام نہ صرف عبادت کے قبول کا ذریعہ ہے بلکہ شرط ایمان ہے اسی لئے تو اللہ تعالی نے اسے ایمان کے بعد اپنی عبادت پر مقدم رکھا۔ چنانچہ رب تعالیٰ کا فرمان ہے : اِنَّا اَرْسَلْنَكَ شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُوْلِهِ وَ تُعَرِّرُوْهُ وَ تُوقِّرُوْهُ - وَ تُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيْلًا۔ (۲) (1) الدر المنثور في التفسير بالماثور، تحت الآية ۸۹، من قبل يستفتحون على الذين كفروا، ج ١ ، ص ١٩٦ ، دار احياء التراث العربي (2) الفتح: ۸ تا ۹ یعنی بیشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ اے لوگو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔ اقول : آیت کریمہ میں لفظ ”تُعَزِرُوہ میں ضمیر منصوب متصل اکثر علماء کے نزدیک رب تعالیٰ کے طرف راجع ہے اور معنی وہی ہے کہ اللہ کے دین اور اس کے رسول کی تعظیم کرو۔ (1) قال الزمخشري والضمائر الله تعالى والمراد بتعزير الله تعالى تعزیر دینه و رسوله صلى الله تعالى عليه وسلم ومن فرق الضمائر فقد ابعد و قال غيره الكنايات في قوله يعزروه و يوقر وه راجعة الى الرسول صلى الله عليه وسلم وعندها تم الكلام . اور بعض علماء کے نزدیک ضمیر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ وآلہ وسلم کی طرف لوٹتی ہے اور سیدنا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان کا مختار یہی ہے اور من حیث المعنیٰ بھی مال کار یہی ہے کہ ضمیر کا مرجع رسول علیہ السلام ہیں جیسا کہ ”تعز روہ کی تاویل سے جو اکثر علماء نے بتائی ظاہر ہے اور روایت کی روسے بھی یہی مشرب مؤید ہے ۔ چنانچه در منشور علامه امام سیوطی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ہے: اخرج ابن جرير و ابن المنذر و ابن ابی حاتم عن ابن عباس رضی الله تعالى عنهما في قوله و تعزروه يعنى الاجلال و تو قروه يعني التعظيم يعنى محمداً صلى الله تعالى عليه وسلم ) یعنی ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے سید نا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ”تعزر وہ“ کی تفسیر میں روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا۔ ”یعزر وہ “ یعنی احترام اور ”یو قروہ “یعینی تعظیم محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔ نیز فرماتا ہے: يْأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَ رَسُوْلِهِ وَ اتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيْمٌ. يَّأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَ أَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ إِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَ أَجْرٌ عَظِيمٌ. إِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ. وَ لَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ - وَ اللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ . یعنی اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سنتا اور جانتا ہے۔ اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمھارے عمل اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں رسول اللہ کے پاس وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پر ہیز گاری کیلئے پرکھ لیا ہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ بیشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں اکثر بے عقل ہیں اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ انکے پاس تشریف لے آتے تو یہ ان کیلئے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ بخاری و ابن منذر وابن مردویہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی ہیں: أنه قدم ركب من بني تميم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال أبو بكر أمر القعقاع بن معبد و قال عمر بل أمر الأقرع بن حابس فقال أبو بكر ما اردت الى أو الا خلافى فقال عمر ما اردت خلافك فتمار يا حتى ارتفعت اصواتهما فنزل في ذلك "يايها الذين امنو لا تقدموا بين يدي الله و رسوله" حتى انقضت الآية . تكملة یعنی بی میلی ﷺ کی خدمت اقدس میں بنو تمیم کا ایک وفد حاضر ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا سر کار قعقاع بن معبد کو امیر بنائیں اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی بلکہ حضور اقرع بن حابس کو امیر مقرر کریں تو حضرت ابو بکر نے فرمایا اے عمر تم نے تو میری مخالفت چاہی حضرت عمر نے ان سے عرض کی میں نے آپ کی مخالفت نہ چاہی دونوں حضرات میں گرماگرمی ہوئی یہاں تک کہ دونوں کی آوازیں اونچی ہو گئیں تو اللہ تعالیٰ نے آیت اتاری : ”اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو “ یہاں تک کہ آیت ختم ہوئی۔ اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ بارگاہ اقدس میں بے حکم سر کار کچھ عرض کرنے کی خاص صحابہ کو بھی اجازت نہیں اور یہ کچھ کلام ہی پر نہیں بلکہ ہر قول و فعل جس سے سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام پر تقدم لازم آتا ہو وہ ممنوع ہے کہ مخل تعظیم بارگاہ عرش پناہ ہے اگر چہ فی نفسہ وہ طاعت و عبادت ہو۔ ابن جریر و ابن ابی حاتم و ابن مردویہ سید نا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے زیر آیت کریمہ "لا تقد موابين يدي الله و رسوله راوی قال: نهوا ان يتكلموا بين يدى كلامه . (0) یعنی سید نا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے آیت کریمہ کا معنی بتایا کہ لوگوں کو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام المدار سے پہلے یا آپ کی گفتگو کے در میان بولنے سے ممانعت ہوئی۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن منذر سید ناحسن رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی: أن ناسا ذبحوا قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم النحر فأمرهم ان يعيدوا ذبحا فأنزل الله " يا يها الذين امنو لا تقدموا بين يدي الله ورسوله (۲) یعنی کچھ لوگوں نے قربانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پہلے جانور ذبح کئے تو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام المدار نے انہیں حکم دیا کہ دوبارہ قربانی کریں تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (ٹايُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَ رَسُوْلِهِ) اتاری یعنی اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔ ابن مردویہ نے سیدنا جابر بن عبد اللہ سے (لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَ رَسُوْلِهِ ) کی تفسیر میں روایت کیا: (1) قال لا تصوموا قبل ان يصوم نبيكم. یعنی جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اپنے نبی ﷺ سے پہلے روزہ نہ رکھو۔ ابن النجار نے اپنی تاریخ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا: كان اناس يتقد مون بين يدى رمضان بصيام يعني يوما و يومين فانزل الله تعالى : يايها الذين امنو لا تقدموا بين يدي الله و رسوله. (۲) یعنی کچھ لوگ رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ رکھے لیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔ طبرانی نے معجم اوسط میں اور ابن مردویہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی: ان ناسا كانوا يتقدمون الشهر فيصومون قبل النبي ﷺ فأنزل الله : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَ رَسُوْلِهِ . (۳) یعنی کچھ لوگ رمضان کا مہینہ پہلے ٹھہرا لیا کرتے تھے تو وہ نبی ﷺ سے پہلے روزہ رکھ لیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اے مسلمانوں ! اللہ اور اس کے رسول۔ الخ عبد بن حمید وابن جریر و ابن منذر وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت مجاہد سے (لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَ رَسُوْلِهِ ) کی تفسیر میں روایت کیا: قال لا تفتانوا على رسول الله ﷺ بشئ حتى يقضى الله على لسانه . (1) یعنی حضرت مجاہد نے فرمایا کہ رسول اللہ علی سے کوئی بات کہ کر (عبادات و معاملات میں سے کسی چیز میں سبقت نہ کرو بلکہ انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کی زبانی حکم سنائے۔ ان روایات سے سید نا محمد رسول اللہ ﷺ کی شان عظیم اور کمال تعظیم ظاہر ہے اور صاف آشکارا ہوا کہ اللہ کے بندے سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام المدار کے حکم کے (بعطائے الہی ) بندھے ہوئے اور سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام المدار ان کے حاکم اور یہ سب ان کے محکوم ہیں ایسے کہ کسی کو ان کے حکم احکم کے بغیر کسی معاملے کا اپنی طرف سے اختیار نہیں ۔ یہاں تک کہ عبادات بھی ان کی اتباع کے بغیر نا مقبول ہیں ، بالفاظ دیگر وہ عبادت ہی نہیں بلکہ بارگاہ نبوی میں اساءت ادب ہے تو قطعات مصطفی عبادت میں ملحوظ ہے۔ ایسی کہ بغیر اس کے عبادت مقبول ہی نہیں اور کیوں نہ ہو کہ تعظیم سر کار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام المدرار مدارِ ایمان ہے اسی لئے قرآن کریم میں ایمان کے بعد تعظیم رسول مقبول علیہ الصلوۃ والسلام کو ذکر کیا ایمان کی تفسیر کے طور پر اور تعظیم کے بعد عبادت الہی کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہو بم مصطفیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کو جانبین ایمان و عبادت میں ایسا دخل ہے کہ کوئی ایک بھی اصلا بغیر ت مصطفیٰ علیہ الصلوۃ والسلام ہو ہی نہیں سکتا اور جب تعظیم مصطفی علیہ الصلوۃ والسلام ایمان کا موقوف علیہ ہے اور ایمان صحت عبادت کی شرط ہے جس کا اقتران شروع عبادت سے ختم عبادت تک صحت عبادت کے لئے ضروری ہے اور تعظیم مصطفی علیہ الصلوۃ والسلام مدار ایمان ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ عبادت کے ساتھ ساتھ تعظیم مصطفیٰ علیہ الصلوۃ والسلام لگی بندھی چلے در نہ عبادت قبول نہ ہوگی۔ یہ تو وہ ہے جو قرآن و حدیث سکھا رہے ہیں اور نام نہاد ”صراط مستقیم “ یہ سکھا رہی ہے کہ نماز میں سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام المدار کا خیال مقدس عیاذ باللہ گاؤخر کے خیال میں مستغرق ہونے سے کئی گنا برا ہے۔ معاذ اللہ سر کار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام کے خیال سے بیوی سے مباشرت کا خیال بہتر ہے اور اس کے نزدیک کیونکر نہ ہو کہ ”تقویت الایمان“ میں اس نے محبوبان خدا کو چوہڑے چہار سے زیادہ ذلیل بنایا۔ یہ ہے دین کی تقویت اس کے گھر ، یہ ہے مستقیم صراط شر جوشقی کے دل میں ہے گاؤخر - تو زبان پہ چوہڑا چمار ہے۔ اس لئے صراط مستقیم نے ترک تعظیم مصطفیٰ علیہ الصلوٰہ والسلام کی راہ سے دلوں سے ایمان کا نقش مٹانے کی سعی مذموم کی ہے ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔ مگر ایمان والوں کیلئے اپنے نبی عظیم واجب التعظيم سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام المدار کی بارگاہ میں افضل البشر بعد الانبیاء سید ناصدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ روش ادب درس کافی ہے جو انہوں نے اس جان جہاں وجان ایمان علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے عین نماز میں اختیار کی۔ مواہب و شرح مواہب للرزقانی میں ہے: وانظر ادب الصديق رضى الله تعالى عنه معه عليه الصلوة والسلام في الصلوة أى فيه فعله فيها اذ تقدم بين يديه كيف تأخر روى مالك والشيخان من طريقه عن أبي حازم عن سهل بن سعد انه ذهب الى بني عمر و بن عوف وحانت الصلاة فجاء المؤذن إلى أبى بكر فقال اتصلى للناس فاكيم قال نعم فصلی ابو بكر فجاء رسول الله والناس في الصلوة فتخلص حتى وقف في الصف فصفق الناس وكان أبو بكر لا يلتفت في صلاته فلما اكثر الناس من التصفيق التفت ابو بكر فرائ رسول الله ﷺ فاشار اليه أن امكث مكانك فرفع أبو بكر يديه وحمد الله على ما امر به من ذلك ثم استاخر حتى استوى في الصف و تقدم صلى الله عليه وسلم فصلی بالناس ثم انصرف فقال یا ابا بكر ما منعك ان تثبت اذا مرتك (فقال) ابو بكر ما كان لا بن أبي قحافة أن يتقدم وفي رواية أن يصلى بين يدى رسول الله ﷺ وفي رواية أن يؤم النبي ﷺ كيف أورثه مقامه والامامة بعده و كان بمعنى صار ذلك التاخر الى خلفه والحال أنه قد أو ماً اليه أن اثبت مكانك وفى رواية فأشار اليه يأمره أن يصلى و أخرى فدفع في صدره لتقدم فأبى سعيا الى قدام فنال بكل خطوة الى وراء مراحل الى قدام تنقطع فيها اعناق المطى - اهـ ، ملتقطاً زرقاني على المواهب. (0) یعنی سر کار بد قرار علیہ الصلوۃ والسلام المدار کے ساتھ سید ناصدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ادب دیکھو جب وہ امامت کیلئے آگے بڑھ چکے تھے تو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کے خیال سے کیسے پیچھے کو ہٹے ۔ امام مالک اور ائمہ بخاری ومسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ابو حازم سے روایت کی ۔ ابو حازم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ سے راوی ہیں کہ سرکار علیہ الصلوۃ والسلام بنو عمر و بن عوف کے محلہ کو روانہ ہوئے اور نماز کا وقت ہو گیا تو موذن نے صدیق اکبر سے آکر عرض کی : کیا آپ لوگوں کی امامت کریں گے تو میں تکبیر کہوں انہوں نے فرمایا ہاں تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھانے لگے تو رسول اللہ اللہ جلوہ فرما ہوئے۔ پھر صفوں سے گزر کے پہلی صف میں سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام نے قیام فرمایا تولوگوں نے تالی بجائی اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ التفات نہیں کرتے تھے تو لوگوں نے جب زیادہ تالیاں بجائیں تو صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا تورسول اللہ ﷺ کا دیدار کیا تو سر کار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ٹھہریں تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر سرکار ابد قرار علیہ علیہ الصلوۃ والسلام کے اس حکم پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ پھر معا پیچھے ہٹ کر صف میں سیدھے کھڑے ہو گئے اور سر کار بد قرار علیہ الصلوۃ والسلام آگے آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر کر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: تمہیں کس چیز نے اپنی جگہ ٹھہر نے سے روکا جبکہ میں نے حکم دیا تھا ؟ تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : ابوبکر کو یہ حق نہیں کہ آگے بڑھے اور ایک روایت میں ہے کہ رسول خدا سے آگے ہو کر نماز پڑھائے اور ایک روایت میں ہے کہ بنی بیالیس اللہ کی امامت کرے۔ دیکھو کیونکر اس طرز ادب نے انہیں ان کا مقام دیا اور سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد انہیں سر کار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام کی خلافت دی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیچھے ہٹنا۔ حالانکہ سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں اپنی جگہ پر رہنے کا اشارہ کیا اور ایک روایت میں ہے کہ سرکار نے اشارہ کیا کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امامت کریں اور ایک روایت میں (1) ص ٢٨٦ تا ص ۲۸۷، ج ۲ ہے کہ سرکار نے ان کے سینہ مبارک پر اپنا دست مبارک رکھ کر آگے کرنا چاہا تو ابو بکر نے ادبا انکار کیا۔ در اصل آگے بڑھنے کی سعی تھی تو انہوں نے پیچھے کی طرف ہر قدم کے بدلے آگے کی طرف ایسے مراحل پائے جن کی راہ میں سواریوں کی گردنیں ٹوٹ جائیں۔ اس روایت سے خاص حالت نماز میں سر کار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام المدار کی تعظیم کا سید ناصدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ سے ثبوت ملا مگر وہابیہ سے کیا بعید کہ وہ انہیں بھی مشرک ٹھہرا دیں اور ان کا مزعوم شرک ایسا ہی ہے جو امت میں کسی کو نہیں چھوڑتا۔ اب نماز میں خود تعظیم سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام اور بزرگان دین کے جلوے دیکھئے۔ نماز میں سورہ فاتحہ پڑھی جاتی ہے اور سورۃ فاتحہ میں ہر نمازی پڑھتا ہے: "اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ. صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ (اے اللہ ہم کو سیدھا راستہ چلا۔ راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا نہ ان کا جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا ) عبد بن حمید وابن جریر و ابن ابی حاتم وابن عدی و ابن عساکر ابو العالیہ سے بطریق عاصم احول ”صراط مستقیم کی تفسیر میں راوی ہیں : قال هو رسول الله ﷺ و صاحباه من بعده قال فذكرنا ذلك للحسن فقال (1) صدق ابو العالية ونصح. صراط مستقیم رسول اللہ علیہ السلام اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے صاحبین کریمین ہیں حضور کے بعد بعینہ یہی تفسیر سید نا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی مروی ہے۔ صراط مستقیم کی تفسیر میں اور بھی اقوال ہیں۔ چنانچہ صراط مستقیم سے کسی نے قرآن مراد لیا اور کسی نے اسلام کو صراط مستقیم بتایا اور کسی نے کہا کہ صراط مستقیم خلق سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وعلیہم اجمعین ہے اور یہ قول اس تفسیر سے جو ابھی نقل ہوئی متحمد یا متقارب ہے اور کسی نے کہا کہ صراط مستقیم سنت نبوی ہے اور یہ بھی تفسیر منقول کے ہم معنی ہے اور کسی نے کہا کہ اہل بیت واصحاب نبی علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور کسی نے کہا کہ صراط مستقیم راہ (1) الدر المنثور في التفسير بالماثور، تحت سورة الفاتحه، ج ١ ، ص ٣٦، دار احياء التراث العربي حقدار ان بہشت ہے اور کسی نے کہا کہ اس سے مراد سواد اعظم ہے ان سب کا جامع مسلک اہل سنت و جماعت ہے اس لئے کہ اہل سنت و جماعت نبی علیہ السلام و اہل بیت و اصحاب کرام حضور علیہ السلام و سواد اعظم سب کو مانتے ہیں۔ یہاں سے ظاہر ہوا کہ ان تفاسیر میں اختلاف محض صوری ہے اور معنی یہ سب تفسیر میں متلازم و متقارب ہیں اور کیوں نہ ہو کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور وہ اختلاف سے منزہ ہے۔ در منثور میں تفاسیر مختلفہ کے بعد بعض اجلہ سلف سے نقل فرمایا: "ليس في القرآن اختلاف و انما هو كلام جامع یراد به هذا و هذا"(۱) یعنی قرآن میں اختلاف نہیں وہ تو ایک جامع کلام ہے۔ جس سے یہ بھی مراد لیا جاتا ہے اور یہ بھی مراد ہوتا ہے۔ اور اس آیت کریمہ سے اور اس کے بعد والی آیت کریمہ سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم اور بزرگان دین کی تکریم کو شامل عبادت کیا ہے کہ ہمیں ان کی اقتداء پر قائم رہنے کی دعا تلقین فرمائی۔ تفسیر کبیر امام فخر الدین رازی میں ہے: فالمراد بقوله اهدنا الصراط المستقيم هو الاقتداء بانبياء الله في الصبر على الشدائد والثبات عند نزول البلاء (الى قوله فانا اقول اهدنا الى مثل ذلك الصراط المستقيم طلبا لمرتبة التائبين فاذا وجدتها فاطلب الاقتداء بدرجات الانبياء عليهم السلام (۲) اسی میں ہے: لما طلبت الاقتداء بالصالحين طلبت الاقتداء بالجميع (۳) اور نماز میں نور اینت حضور پر نور شفیع عاصیاں محمد مصطفیٰ اور ان سے منور ہونے والی ارواح طیبہ سے مصلی کو حاصل ہوتی ہے چنانچہ بندہ جب ”اہد نا الصراط المستقیم “کہتا ہے تو اس کے دل میں ہدایت (جو سرکار ابد قرار بادی انس و جان علیہ الصلوۃ والسلام کا کام ہے) کا نور ظاہر ہوتا ہے اور جب دل اس نور ہدایت محمدی سے مجلی ہو جاتا ہے تو اس پر ان نفوس قدسیہ کے درجات کی تجلی پڑتی ہے۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے اس نور مجسم ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ میں قدسی تجلیات سے احسان فرمایا ہے تو یہ ارواح قدسیه روشن آئینوں کی مثال ہوتی ہیں جن سے شعاعین منعکس ہو کر نمازیوں پر پڑتی۔ تفسیر کبیر امام فخر الدین رازی میں درجات مکاشفہ کے بیان میں فرمایا: (1) ثم شرع بعده فی بیان درجات المكاشفات وهى على كثرتها محصورة في امور ثلثة اولها حصول هداية النور في القلب وثانيها أن يتجلى له درجات الابرار المطهرين من الذين أنعم الله عليهم بالجلايا القدسية والجواذب الالهية حتى تصير تلك الأرواح القدسية كا المر يا المجلوة فينعكس الشعاع من كل واحدة منها إلى الاخرى وهو قوله صراط الذين أنعمت عليهم . " پھر ان آیات کریمہ سے ظاہر ہے کہ بندہ کو حق پر قائم رہنے اور اقوال وافعال اور جملہ احوال میں غلطی سے بچنے اور صواب کو اختیار کرنے کی تلقین ہے اور اکثر بندوں کی عقول ناقص ہیں لہذا ایسے کامل کی ضرورت ہے جو انہیں غلطی سے بچائے اور صواب کی طرف راہ دکھائے۔ تو بندہ کو کمال عبادت اور درجہ سعادت بغیر کاملین کی اقتداء کے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت میں ہم ناقصین کو اپنے برگزیدہ بندوں سے جن کے سردار ہم سب کے سیر کار مدینہ کے شہر یار دوعالم کے تاجدار احد ما بالا بیاییم ہیں، وابستہ رکھا۔ اس سے بڑھ کر ان نفوس قدسیہ کی تعظیم کیا ہوگی اور یہ تعظیم منجانب اللہ ہے۔ اسی تفسیر کبیر میں ہے: قال بعضهم انه لما قال اهدنا الصراط المستقيم لم يقصر عليه بل قال صراط (1) التفسير الكبير الباب الاول، ذكر اسماء الفاتحه ، ج ۱، . ١٤٥ ، دار الكتب العلمية، بيروت تكملة الذين انعمت عليهم وهذا يدل على أن المزيد لا سبيل له إلى الوصول الى مقامات الهداية والمكاشفة الا اذا اقتدى شيخ يهديه الى سواء السبيل و ذلك لأن النقص غالب على اكثر الخلق و عقولهم غير وافية بادراك الحق و تمیز الصواب عن الغلط فلا بد من کامل يقتدى به ذلك الناقص حتى يتقوى عقل ذلك الكامل فح يصل الى مدارج السعادات و معارج الكمالات - اهـ ، ملتقطا . یہاں ایک نکتہ اور ہے وہ یہ کہ بندوں کے اجسام اور نفوس شہوانیہ اور نفوس غضبیہ اور نفوس شیطانية حسب مراتب جب طاعت میں لگے اور اقرار کیا کہ اے رب ہم بھی تبھی کو پوجیں اور ترک شہوات پر ربانی مدد طلب کی اور اللہ تعالیٰ سے رشد و ہدایت اور دین پر ثبات کا سوال کیا اور استقامت اور انحراف سے حفاظت مانگی تو بندوں کی ملکی قدسی روحیں ارواح عالیہ مطہرہ سے ملنے کی مشتاق ہوئیں تو انہوں نے تواضع سے عرض کیا ” صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا۔ قال الفخر الرازي في التفسير الكبير هذا نصه تواضعت الارواح القدسية الملكية الله أن يوصلها بالأرواح القدسية العالية المطهرة المعظمة فقالت: صِرَاطَ فطلبت من الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ - اهـ، ملتقطا . (۲) اور اس تواضع اور بزرگان دین کی اس تعظیم اور ان کی طرف اس درجہ اشتیاق کا نمازی کو یہ صلہ ملتا ہے کہ رب تعالیٰ اسے اپنے حضور میں بیٹھنے کا شرف عطا فرماتا ہے اور یہ غایت شرف اور کمال عروج ہے اسی وجہ سے نماز کیلئے وارد ہوا: الصلاة معراج المومن (۳) یعنی نماز مومنین کی معراج ہے۔ (1) التفسير الكبير ، الباب الاول، ذكر اسماء الفاتحه ، ج ۱، ص ١٤٥ ، دار الكتب العلمية، بيروت (2) التفسير الكبير ، الباب الاول، ذكر اسماء الفاتحه ، ج ۱، ص ١٤٥ ، دار الكتب العلمية، بيروت (3) مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الصلاة، باب القراءة، الفصل الثانى، تحت الحديث: إن المصلى يناجي ربه، ج ۲، ص ٥٣٦ ، دار الكتب العلمية، بيروت اور یہ مدینہ کے تاجدار دو عالم کے مختار محمد احمد مصطفی محبوب کردگار سر کار ابد قرار علیہ الصلوة والسلام المدار کی معراج کی ایک جھلک ہے اور بحر کرم مصطفی بالای سی ایل ایلیا کا ایک قطرہ ہے لہذا اللہ تعالی نے اپنی اس عبادت میں بندے پر لازم کیا کہ از راہ احسان شناسی و تعظیم بارگاہ نبوی و شکر الہی کرے۔ " من لم يشكر الناس لم يشكر الله (9) جولوگوں کا شکر نہ کرے اس نے اللہ کا شکر نہ کیا۔ عرض کرے: السلام عليك يا يها النبي ورحمة الله وبركاته. قال سيدي الفخر الرازي في الكبير : والصلاة معراج المؤمن فلما وصل المؤمن في معراجه الى غاية الاكرام و هي أن جلس بين يدى الله وجب أن يقرء الكلمات التي ذكرها محمد عليه السلام فهو ايضا يقرء التحيات و يصير هذاكا لتنبيه على أن هذا المعراج الذي حصل له شعلة من شمس معراج محمد عليه السلام و قطرة من بحره وهو تحقيق قوله (فاولئك مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين) الأية". (۲) یعنی نماز مومن کی معراج ہے جب مومن اپنی معراج میں غایت شرف کو پہنچا کہ اللہ کے حضور بیٹھا تو اس پر واجب ہے کہ وہ کلمات پڑھے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے (معراج میں ) عرض کئے تھے اور یہ گویا اس بات پر تنبیہ ہے کہ مومن کو حاصل ہونے والی معراج محمد علیہ الصلوۃ والسلام کی معراج کے آفتاب سے حاصل شدہ ایک نور ہے اور ان کے سمندر سے ایک قطرہ ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کی تحقیق ہے ( جو اللہ تعالیٰ نے ”صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “ کہنے والوں بالفاظ دیگر اللہ ورسول ی ی ی ی ی ی ی کے طاعت گزاروں سے کیا ہے) یعنی اور جو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا ، یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔ پھر جب نمازی اللہ تعالیٰ کے حضور بیٹھ کر التحیات عرض کرتا ہے اسکی روح کا نور بلند ہوتا ہے اور کرم والے آقا احمد مصطفی مجتبی مرتضی روحی فداہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی نورانیت نازل ہوتی ہے اور دونوں روحیں ملتی ہیں اور ملاقات کے وقت سلام کرنا مشروع ہے لہذا بندے کو منجانب اللہ حکم ہے کہ وہ عرض کرے ”السلام عليك ايها النبی اور نبی علیہ السلام کی اس طرح تحیت اور مدحت بجالائے۔ اب اس عالیجناب سے ہم بدوں کو دامن کرم میں لے کر جواب ملتا ہے ”السلام علینا وعلی عباد الله الصالحين“ ہم پر سلام ہو اور نیک بندوں پر۔ بندہ یہ جواب اپنی زبان سے گویا نیابت دوہرا تا ہے۔ پھر گویا کوئی پوچھتا ہے کہ یہ مرتبہ تجھے کیو نکر ملا تو بندہ عرض کرتا ہے مجھے یہ مرتبہ کلمہ شہادت (اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمدا عبدہ و رسولہ) کے ذریعہ ملا تو کہا جاتا ہے کہ یہ معراج تجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور ہدیہ دی ہے تو تو انہیں کیا ہدیہ دیتا ہے تو بندہ عرض کرتا ہے: اللهم صل علی محمد، توکہا جاتا ہے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خلیل الرحمن ابراہیم علی نبینا و علیہ السلام کی دعا ہیں تو ان کیلئے بھی کچھ نذر کر تو بندہ عرض کرتا ہے: کما صلیت علی سیدنا ابراھیم اور پھر گویا اس سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ خیرات دینے والا حقیقتا کون ہے تو بندہ اقرار کرتا ہے کہ معلم حقیقی اللہ تعالیٰ ہے لہذا اللہ سے عرض کرتا ہے:انك حميد مجيد۔ امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں: ثم في هذا المقام يصعد نور روحك و ينزل نور روح محمد صلى الله تعالى عليه وسلم فيتلاقى الروحان و يحصل هناك الروح والراحة والريحان فلا بد لروح محمد عليه الصلوة والسلام من محمدة وتحية فقل السلام عليك ايها النبي ورحمة وبركاته فعند ذلك يقول محمد عليه الصلوة والسلام السلام علينا و على عباد الله الصالحين وكانه قيل لك فهذه الخيرات والبركات باى وسيلة وجدتها و بأي طريق وصلت اليها فقل بقولى : اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمدا رسول الله فقيل لك إن محمدا هو الذي هداك اليه فأى شئ هديتك له فقل: اللهم صل على محمد و على آل محمد فقيل لك ان ابراهيم هو الذي طلب من الله أن يرسل اليك مثل هذا الرسول فقال "ربنا وابعث فيهم رسولا منهم" فما جزاء ك له فقل كما صليت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم فيقال لك فكل هذه الخيرات من محمد أو من ابراهيم أو من الله فقل بل الحميد المجيد انك حميد مجيد - اهـ . یہ نکات جو علماء نے افادہ فرمائے التحیات میں سرکار علیہ السلام پر بصیغہ مخاطب سلام سے ماخوذ و مستفاد ہیں اور اس طرز سلام سے خوب ظاہر ہے کہ سر کار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام ہمہ وقت و ہر حال میں مومنوں کے نصب العین اور قرۃ العین اور ان کے دلوں کا چین ہیں۔ خصوصا حالت عبادت میں خاص کر عبادت کے اخیر حصہ میں اور آپ پر صلاۃ و سلام یکے بعد دیگرے آپ کے شکر اور آپ کی تقسیم کا حق ادا کرنے کیلئے شرعا مطلوب ہے تاکہ اقرار ہو کہ خیر جو ملی جو مل رہی ہے اور جو ملے گی مدینہ والے تاجدار علیہ الصلاۃ والسلام کے دست کرم کی عطا ہے ۔ یہاں تک کہ ہمار اوجود انہیں سے ہے اور ان کانور ہمارے بلکہ تمام موجودات کے اندر جاری وساری ہے۔ اسی لئے جمعہ کے دن درود شریف کی کثرت مستحب ہے حضرت شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: و نیز آں ہمیشہ نصب العین مؤسنان وقرة العین عابدان ست در جمیع احوال و اوقات خصوصا در حالت عبادت و آخر آن که وجود نورانیت و انکشاف در بی محل بیشتر و قوی ترست و لعبضی از عرفا گفته اند که این خطاب بہت سریان حقیقت محمدیه است و روزا شر موجودات و افراد مسکنات پس آنحضرت در دوات مصلیان آگاه موجود و حاضر است پس مصلی (را) باید که از لیس معنی باشد و ازیں شہود غافل بنود تا با نوار قرب واسرار معرفت تنور وفائز گردو۔ تمام وہابیہ کے معتمد و مستند ابن القیم "زاد المعاد" میں رقم طراز ہیں: الخاصة الثانية استحباب كثرة الصلاة فيه أى يوم الجمعة على النبي صلى الله تعالى عليه وسلم وفى ليلته لقوله صلى الله عليه وسلم اكثروا من الصلوة على يوم الجمعة وليلة الجمعة ورسول الله سيد الانام و يوم الجمعة سيد الايام ولا صلاة عليه فى هذا اليوم مزية ليست لغيره مع حكمة اخرى وهى ان كل خير لته الامة فانما نا لته على يده فجمع الله لامته به بين خير الدنيا والآخرة وأعظم كرامة تحصل لهم فانها تحصل يوم الجمعة فان فيه بعثهم الى منازلهم و قصورهم في الجنة وهو يوم المزيد له اذا دخلوا الجنة وهو عيد لهم فى الدنيا و يوم فيه يسعفهم الله تعالى بطلباتهم وحوائجهم ولا يرد سائلهم وهذا كله انما عرفوه وحصل لهم بسببه و على يده فمن شكره وحمده واداء القليل من حقه صلى الله عليه وسلم أن يكثر من الصلاة عليه فى هذا اليوم وليلتہ ۔ اب شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی سے درود شریف پڑھنے کا طریقہ سن لیجئے تاکہ سرکار ابد قرار علیہ الصلاۃ والسلام کی تعظیم اور ہر حال میں ان کے ساتھ طرز ادب کی مزید سند ہو وہ بھی ایسی کہ مخالف و موافق سب کیلئے مستند ہو اس لئے کہ حضرت شیخ ممدوح کبرائے وہابیہ بلکہ امام الطائفہ کے بزرگوں اور پیروں کے معتمد ہیں۔ وہ مدارج میں فرماتے ہیں: ذکر کن اور او در و د بفرست بروئے با و باش در حال ذکر گویا حاضر است پیش در حالت حیات وے و می بینی تو اور امتادب با جلال و تعظیم و ہمت و خیابد آنکه صلی اللہ علیہ وسلم می بیند و می شنود کلام تر از یر کہ وے متصف است بصفات اللہ تعالی و یکے از صفات الہی آنست کہ انا جلیس من ذكرني - بالجمله سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم ایمان کی جان اور عبادت کی روح اور اللہ تعالی تک پہنچنے کا وسیلہ ہے اور سالک پر راہ خدا بے وسیلہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اسی لیے بند ہے بلکہ جو یہ گمان لائے کہ ان کے وسیلہ کے بغیر خدا تک پہنچنا ممکن ہے وہ سالک کیا مومن ہی نہیں ہے اور اس پر امام الوہابیہ ابن تیمیہ ابن تیمیہ نے الفرقان میں کہا: الايمان به الايمان بانه هو الواسطة بين الله و بين خلقه في تبليغ أمره ونهيه ومن ووعده ووعيده وحلاله وحرامه فالحلال ما أحله الله ورسوله والحرام ما حرمه الله ورسوله والدين ما شرعه الله ورسوله صلى الله عليه وسلم فمن اعتقد أن لأحد من الأولياء طريقاً إلى الله من غیر متابعة محمد ﷺ فهو كافر من أولياء الشيطان . (1) یہاں سے صراط مستقیم کی اس عبارت کا حال معلوم ہوا اور وہ یہ کہ اس عبارت کا حاصل ترک تعظیم سرکار علیہ الصلوۃ والسلام ہے جبکہ اس کا حکم قرآن سے معلوم ہوا اور ابن تیمیہ کی عبارت وہابیہ کیلئے مزید تازیانہ ہے ۔ واللہ تعالی ھو الہادی وھو تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ۱۲۶ رجب المرجب ۱۴۰۸ھ