بے وجہ شرعی کسی کی زمین پر قبضہ کرنا جائز نہیں !
کیا فرماتے ہیں مفتیان شریعت مندرجہ ذیل معاملہ میں کہ ؟ (1) میں جس زمین پر ہوں وہ مکان میں نے ۱۹۳۹ء اور ۱۹۵۲ء میں بیعنامہ خریدا تھا، میرے مکان کے سامنے مسجد ہے اور مسجد کو کسی زمانے میں لگن نام کی ایک طوائف نے بنوایا تھا جو ذات کی شیعہ تھی۔ مسجد صرف ایک نمبر پر قائم ہے جو جلد اول بندو بست کاغذ تحصیل میں سیکڑوں سال سے قائم ہے۔ ہمارا مکان جس نمبر پر بنا ہے وہ گداگروں کی زمین تھی اور جب سے ہم لوگوں نے مکان خرید کر بنوایا ہے تب سے آج تک ہم سب کا قبضہ چلا آرہا ہے۔ اب کچھ لوگ جو میرے دشمن ہیں وہ مسجد کی آڑ لے کر میرے صحن دروازے کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور مسجد کی اتر جانب میرے صحن دروازہ پر کچھ بڑھ کر بنا بھی لیا ہے اور ایک دروازہ بھی زبر دستی لگایا ہے جبکہ اس زمین کا مقدمہ اور اس کے آرڈر بھی ہیں۔ (۲) مسجد کی اتر جانب جو زمین ہے وہ گداگروں کا امام باڑہ ہے جس پر ایک چبوترہ ہے، اس کو بھی چند لوگوں نے کھود کر پھینک دیا ہے ۔
ان لوگوں کو بے وجہ شرعی کسی کی زمین پر قبضہ کرنا جائز نہیں، ان پر تو بہ لازم ہے اور زمین اس کے مالک کو پھیر ناضروری ہے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے کہ مسجد کو ضرورت نہ ہو اور اگر فی الواقع مسجد کو تنگی لاحق ہو تو حاکم شرعی کی طرف رجوع کریں، وہ بعد ثبوت و تحقیق حال مسجد کے متصل مطلوبہ زمین کو لینے کا حکم فرمادے تو لے لی جائے اور مالک کو اس کی قیمت ادا کی جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله