بیوہ کی وفات کے بعد اس کے بھائی اور شوہر کے رشتہ داروں کے درمیان جائیداد کی وراثت اور کرایہ داروں کے دعووں کا بیان
(۲) زید کی خود کی کمائی نہ تھی، زید صاحب اولاد نہیں تھا، کئی لڑکوں کی پرورش کی مگر لڑکے بھاگ گئے یا تو مر گئے۔ زید نے اپنے بھتیجے یعنی اہلیہ کے بھائی کے لڑکے کو گود لیا، بھتیجہ بھی اپنے والد کا تنہا تھا لہذا وہ کچھ دن اپنے والد کے پاس بھی رہتا تھا اور پھوپھی کے پاس بھی۔ زید کے انتقال کے بعد جائیداد زید کی بیوی ہندہ کے نام منتقل ہو گئی۔ زید کے سوتیلے بھائی و بہن نے دعویٰ دائر کیا مگر کچہری میں ان کا مقدمہ خارج ہوا۔ سگی بہن ( زید کی) اپنا حق پاگئی، ہندہ کے انتقال کے بعد ہندہ کا بھائی جو ہندہ کی نگہبانی کر رہا تھا یعنی میت پر خرچ، نتیجہ ، دسواں وغیرہ بھی اور مقدمہ معاملات کی دیکھ بھال، کھانا پکا کر کھلانا اور بیماری میں تیار داری، ہندہ کے انتقال کے بعد اس کی جائیداد بھائی نے اپنے نام منتقل کرالی۔ بھائی کا بیٹا آپسی خلش سے علیحدہ ملازمت کرتارہا اور اپنی شادی وغیرہ اپنے خرچ سے کر لی مگر گھر آتا رہا۔ چونکہ مکانات میں جو کرائے دار ہیں وہ شروع سے ہی تکلیف دیتے آئے ہیں یعنی ہندہ کے زمانے سے اب تک کرائے داروں پر جب مقدمہ قائم کیا گیا تو وہی کرائے دار اب کچہری میں یہ بیان دیتے ہیں کہ ان کا کوئی حق نہیں، حقدار کا انتقال ہو گیا اور جو جائیداد کے وارث ہیں وہ بمبئی میں رہتے ہیں، ہم ان کو کرایہ کیسے دیں اور زید کے علاقی بھائی کی بیوی و ان کے لڑکے لڑکیوں کو حقدار بتلاتے ہیں۔ حالانکہ جب آپس میں معاہدہ ہوتا ہے تو ہندہ کے بھائی کے ساتھ کرایہ انہی کو دیتے ہیں۔ از روئے شرع ہندہ کے بھائی کا اس جائیداد میں حق ہے یا نہیں ؟ اور وہ اس جائیداد کا وارث ہے یا نہیں ؟ جبکہ اس نے اپنی پوری جمع پونجی اپنی بہن کے مقدمات میں لگادی جبکہ نہ تو زید کے علاتی بھائی اور نہ ان کی کوئی اولاد کسی کام میں شریک ہوئی اور نہ کچھ کیا اور نہ ہی ہندہ یا زید ان لوگوں کو چاہتے تھے۔ جائیداد بھی والدین کی نہیں ہے۔ خود زید کی اپنی کمائی ہے۔ کیا زید کے سوتیلے بھائی کی بیوہ اور ان کی اولاد ہی جائز وارث ہے ؟ اور بھتیجہ آج کل مستقل وہیں جو بچپن میں تھا جسے گود لیا تھا مگر لکھا پڑھا نہیں ہے وہ اصلی حقدار ہے ؟ کیا ہندہ کے بھائی بھتیجے کے ہوتے ہوئے کوئی کرایہ دار یہ (جھوٹا) دعویٰ کرے کہ مرتے وقت ہندہ نے میرے نام مکان کر دیا اور مجھے بطور دان دے دیا، مانا جائے گا؟ جبکہ مرنے سے چند ساعت قبل ہو، اور کرایہ دار نہ کوئی رشتہ دار ہے اور نہ ہی کبھی اس کا گھر میں آناجانا میل محبت رہی ہو۔
ہندہ اپنے شوہر کے ترکہ میں بصورت عدم اولاد چوتھائی ترکہ کی وارث ہوئی، اور ہندہ کے انتقال کے بعد اس کا ترکہ اس کے ورثا کو منتقل ہوا اور ہندہ کا بھائی منجملہ وارثان ہے اور ہندہ کا بھتیجہ اصلا زن و شوہر میں کسی کا وارث نہیں اور زید شوہر ہندہ کا باقی ترکہ اس کے ورثہ پر بٹے گا اور علاتی بھائی بھی بوجہ عصوبت حق پائے گا۔ ورثہ کی تفصیل لکھ کر بھیجے توجواب مفصل ہو گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم