کسی بزرگ سے ان کے وصال کے بعد ان کے سلسلہ میں غائبانہ بیعت ہونے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین دریں مسئلہ کہ ہم چند آدمیوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان سے مرید ہو جائیں گے لیکن ہم لوگوں کی بدقسمتی کہ اسی درمیان میں حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان کا وصال ہو گیا لیکن عرس کے موقع پر وہاں سے اعلان ہوا کہ جو لوگ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان سے بیعت ہونے کی تمنا اپنے دل میں رکھتے تھے وہ داخل سلسلہ کر لیے گئے اور کئی آدمی کے پاس دستی اشتہار بھی آیا۔ جن لوگوں نے عرس میں شرکت کی تھی وہ لوگ بھی اشتہار لائے، اس میں لکھا ہوا تھا کہ جن لوگوں کی نیت حضور مفتی اعظم ہند سے بیعت ہونے کی تھی اور وہ کسی وجہ سے حضور مفتی اعظم ہند کے نزدیک نہ پہنچ سکے یا حضور مفتی اعظم ہند ان کے پاس نہ پہنچ سکے وہ داخل سلسلہ ہو گئے اور وہاں سے شجرہ بھی آگیا۔ کچھ لوگوں کا یہ اعتراض ہے کہ بیعت ہونے کے لئے پیر کا چہرہ دیکھنا ضروری ہے ، اگر پیر کی شکل نہیں دیکھی ہے تو شیطان ہر شکل میں آکر انسان کو بہکاتا ہے تو اگر پیر کو یاد کرے اور پیر مدد کو آویں تو کیسے پہچان سکیں گے کہ یہ ہمارے پیر ہیں یا شیطان پیر کی شکل میں بہکانے آیا ہے ؟ رہا پیر کا تصور تو کیسے کر سکتے ہیں جبکہ دیکھا ہی نہیں ؟ اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ تین لوگوں نے اس طرح بیعت حاصل کی، یہ بیعت درست ہوئی یا نہیں ؟ بینوا توجروا
لمستفتی: ایم ڈی ڈی ایچ خاں میٹ اسٹال اسٹیم ریلوے کالونی، پتر اتو، پوسٹ پیترا تو ضلع ہزار باغ الجواب: بیعت بلاشبہ درست ہے اور اس بیعت کی اصل بیعت سید نا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے، کہ آپ بیعتہ الرضوان کے موقع سے حاضر نہ تھے، حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے انہیں غائبانہ بیعت فرمایا اور پیر جامع شرائط بیعت کا فیض و مد دہر مرید صادق کو پہنچتا ہے اور تصور شیخ بیعت کا موقوف علیہ نہیں اور مرید کو پیر کی صورت نظر نہ آنا اور منجانب اللہ التقاء ہونا کہ یہ تیر اشیخ ہے کوئی مستبعد نہیں اور امر بالمعروف اور القاء خیر امر شیطانی سے متغائر۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۲۹ شوال المکرم ۵۱۴۰۳ الجواب ھوالجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی