نسبندی کرانے والے کی امامت کا حکم ، سٹہ کھیلنے والے سے نکاح پڑھوانے کا حکم
محترمی و مکرمی مفتی اختر رضاخاں صاحب قبلہ دامت بر کاتہم ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کاتہ طالب خیر بخیر ہے۔ چند استفسارات پیش خدمت ہیں۔ جواب باصواب سے مطلع فرماکر شکریہ کا موقع دیں۔ کیا فرماتے ہیں علمائے امت اسلامیہ اس مسئلہ کے بارے میں کہ (1) زید امامت کرتا ہے اور وہ منصوبہ ضبط تولید کیے ہوئے ہے ، بذات خود ۔ آیا ایسے امام کی امامت درست ہے یا نہیں ؟ مدلل جواب سے سرفراز فرمائیں۔ (۲) عمرہ بحیثیت قاضی، قاضی کے یہاں فرائض انجام دیتا ہے اور شخص مذکور سٹہ کھیلتا ہے اور سنیما دیکھتا ہے۔ کیا صورت مسئلہ میں عمرو سے عقد پڑھوانا درست ہے یا نہیں ؟ جواب باصواب سے سے مطلع فرمائیں۔ فقط المستفتی: حافظ نور احمد خاں رضوی، پیش امام مسجد کھی
الجواب: (۱) اگر شرعا ثابت و مشتہر ہے کہ امام مذکور نے بے جبر و اکراہ شرعی نسبندی کرائی ہے تو فاسق معلن ہے، جب تک تو بہ صحیحہ نہ کرے ، اس کی اقتدا مکروہ تحریمی ہے اور اس کے پیچھے نماز واجب الاعادہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) درست ہے مگر اس سے نکاح پڑھوانا نہ چاہئے کہ یہ اس کا اعزاز ہے اور شرعا اس کی تعظیم ناجائز و ممنوع ہے۔ تبیین میں ہے: "وقد وجب عليهم اهانته شرعاً " والله تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله شب ۱۴ جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ