مسجد کے لئے کفار کے دیئے ہوئے چندے کا حکم
محترم المقام قابل احترام شاہ ذیشان جناب مولانا مفتی عبدالرحیم صاحب قبلہ دامت برکاته جناب حال چوں احوال گزارش خدمت میں یہ ہے کہ بشنپور کے مسلمان باہر عمارت بنانے کا کام کرتے ہیں ان کے ساتھ غیر مسلم ہندو بھی کام کرتے ہیں۔ بشنپور میں مسجد بن رہی ہے ، جب لوگ مسجد کے چندہ کے لئے گئے تو مسلمان کے علاوہ غیر مسلم بھی مسجد کے لئے چندہ دیے۔ غیر مسلم والے پیسہ کو کیا کریں؟ اور کہاں خرچ کریں ؟ مسجد میں خرچ کریں یا مدرسہ کے کام میں خرچ کریں ؟ اس پیسہ کو کہاں خرچ کیا جائے؟ اس لئے حضور والا سے گزارش ہے کہ کرم فرما کر اس مسئلہ کا فتویٰ لکھ دیا جائے۔ عین کرم ہو گا۔ آپ کا خاکسار : محمد غلام رسول، مدرسہ اسلامیہ گلشن رضا گونا ہی بشنپور ضلع سیتا مڑاھی (بہار)
الجواب: اگر انہوں نے محض نیاز مندانہ دیا اور اپنی رسوم شرک میں بدلہ لینے کی نیت سے نہ دیا تو اس پیسہ کولینا جائز ہوا، اگر چہ بہتر یہ تھا کہ نہ لیتے۔ اب اسے مسجد میں لگانا جائز ہے ۔ وھو تعالیٰ اعلم تکملة فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۳/ رجب المرجب ۱۴۰۵ھ