مناسخہ کا ایک اہم مسئلہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ ایک مکان جو آدھا زید کی ملکیت اور آدھا زید کی بیوہ ہندہ کی ملکیت میں تھا۔ زید اور اس کی بیوی دونوں کا انتقال ہو گیا، انہوں نے ۲ بیٹے اور ایک بیٹی وارث چھوڑے۔ تینوں اولادوں میں صرف ایک چھوٹے بھائی کی شادی ہوئی، وہ علیحدہ کرایہ پر رہنے لگے۔ بڑے بھائی اور بہن اسی والدین والے مکان میں رہتے تھے ۔ بڑے بھائی ان کے پاس ہی بیمار پڑے اور ان کا انتقال ہو گیا، تمام مصارف بہن نے برداشت کیے ، چھوٹے بھائی نے کچھ نہیں کیا کیونکہ ان سے تعلقات ٹھیک نہیں تھے۔ بڑے بھائی کے کچھ عرصے بعد چھوٹے بھائی کا بھی انتقال ہو گیا، اب صرف بہن اور چھوٹے بھائی کی اولاد ہے۔ بڑے بھائی جو لاولد فوت ہوئے، اپنا حصہ مسجد یا مدرسہ کو دینے کو کہتے تھے لیکن وہ رجسٹری نہ کروا سکے اور اچانک فالج کا دورہ ہوا اور کئی دن زبان بند رہی پھر انتقال کر گئے ۔ اب سوال یہ ہے کہ والدین کے مکان میں بیٹی کا حصہ کتنا ہے اور جو بھائی لاولد فوت ہوئے ان کی جائیداد میں کتنا ہے اور مسجد یا مدرسہ کے لئے وہ کہتے تھے تو وہ دے نہ سکے تو اب مسجد یا مدرسہ کا ان کی جائیداد میں حصہ مانا جائے گا یا نہیں ؟ اگر مانا جائے گا توکتنا؟ اور بہن نے جو ان کی تجہیز و تکفین اور فاتحہ وغیرہ میں خرچ کیا تھا اور برابر خرچ کر رہی ہے، ان کی جائیداد سے اس کو ملے گا یا نہیں ؟ ان سب باتوں کا جواب وضاحت کے ساتھ مرحمت فرما دیں تاکہ آسانی سے سمجھ میں آسکے۔ سائلہ :سر تاج بیگم
الجواب: صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ما تقدم وادائے دیون و غیرہا کل ترکہ زید ۱۵/ سہام پر تقسیم ہو گا جن میں سے ۱۰ر سہام پسر کو اور ۵/ دختر کو ملیں گے اور بھائی نے اگر مسجد و مدرسہ کے لئے وصیت بحالت ہوش و ثبات عقل کی تھی تو ایک تہائی میں نافذ ہوگی اور اگر وصیت نہ کی تھی ، محض ارادہ تھا تو مسجد و مدرسہ کو کچھ دینا لازم نہیں اور تجہیز و تکفین کا خرچ اگر اس نے اپنے پاس سے کیا تو اس کا مطالبہ اسے نہیں پہناتا مگر اس صورت میں جبکہ اس نے شرط کرلی ہو کہ تجہیز و تکلین کا خرچہ لے گی یاور نہ نے کہ دیا ہو اور فاتحہ وغیرہا کا خرچہ بہر حال وہ ترکہ کمیت سے نہ پائے گی۔ سائلہ نے چھوٹے بھائی کی اولاد کی تفصیل نہ لکھی، دوبارہ لکھ کر سوال کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله