کسی شخص کو مقبولِ خدا سے بڑھ کر کہنا اور اس سے متعلق ایک شعر کا شرعی حکم
مقبول خدا کہئے ، محبوب خدا کہئے زید عمر یا بکر کو کچھ اس سے سوا کہئے جس نیک وصالح اور متقی بندہ پر رحمت الہی کا کرم ہو جائے وہ بندہ مومن مقبولیت و محبوبیت کے درجہ پر فائز ہو سکتا ہے لیکن دریافت طلب امر یہ ہے کہ مقبول و محبوب ہو جانے کے بعد کسی بندہ کے لئے اس سے بھی سوا کیا درجات ہو سکتے ہیں ؟ اور اس سے سوا اس کو کن القابات و اوصاف سے یاد کیا جاسکتا ہے؟ محبوبیت خداوندی کے بعد کون سا درجہ آتا ہے ؟ اور کیا وہ کسی مرد مومن بندہ کے لئے ماننا یا تصور کرنا جائز ودرست ہوسکتا ہے ؟ یہ شعر ایک سنی صحیح العقیدہ مسلمان کی تخلیق ہے اور ایک مذہبی جریدہ میں نشر و شائع ہوا ہے اور ناشر و مالک جریدہ خود کو علامہ، مولانا فارغ التحصیل عالم سنی کہتا ہے اور تشہیر کرتا ہے۔ برائے کرم جوابات مفصل سے آگاہ فرمائیں۔ شاعر اور مالک و ناشر جریدہ شخص کے لئے حکم و فیصلہ شرعی سے مطلع فرمائیں۔ المستفتی: اخلاق احمد ، نوری چک، پرانہ شہر، بریلی
الجواب: یہ شعر صحیح نہیں۔ مقبول خدا سے سوا کہنے سے لازم آئے گاکہ معاذ اللہ زید و عمرو کو نبی کہا جائے، بلکہ اس سے بھی سوا کہا جائے کہ مقبول خدا اور نبی میں منافات نہیں بلکہ مقبول خدا مفہوم عام ہے جو ولی و نبی دونوں کو شامل ہے اور نبی اس کا مصداق ہے تو اس کا لازم معنی یہ ہوا کہ زید و عمر و معاذ اللہ مقبول خدا سے بڑھ کر خدا کہلانے کے مستحق ہیں۔ شاعر پر اس شعر سے تو بہ لازم ہے اور احتیاطاً تجدید ایمان و تجدید نکاح بھی کرے اور جس نے دانستہ سمجھ کر ان اشعار کو مقرر رکھا اس پر بھی توبہ و تجدید ایمان کا حکم ہے اور بیوی والوں پر تجدید نکاح کا بھی۔ ناشر اگر باخبر ہے اور اس کے معنی پر مطلع ہے تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۵/ صفر المظفر ۱۴۰۸ھ