مرحوم کی جائیداد کی تقسیم زوجہ، ایک لڑکا، چار لڑکیاں اور ایک بہن کے درمیان اور دوسری شادی کی شرط کا حکم
(1) زید کا انتقال ہوا، اس نے اپنے انتقال کے بعد ترکہ میں ایک مکان چھوڑا جس کا وہ اپنی زندگی میں بلا شرکت غیر پورا پورا مالک تھا اور پسماندگان میں زوجہ ، ایک لڑکا، چار لڑکیاں اور ایک حقیقی بہن یہ سات وارث چھوڑے، لڑکیوں میں تین کی شادی ہو چکی ہے اور ایک غیر شادی شدہ ہے ۔ زید نے انتقال سے پہلے اپنی بیوی سے یہ کہ دیا تھا کہ میرے مرنے کے بعد تو دوسرا نکاح مت کرنا، اپنے بچوں میں ہی رہنا، ان کی دیکھ بھال کرنا، اگر تو نے دوسرا نکاح کر لیا تو میرے اس مکان میں تیرا کوئی حق اور حصہ نہ ہو گا۔ مگر زید کی بیوی نے اس کے اس قول کا کوئی لحاظ پاس نہ کیا اور انتقال کے ایک عرصہ کے بعد اپنا دوسرا نکاح کر لیا۔ تواب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کا مترو کہ مکان ان ساتوں وارثوں میں کس طرح تقسیم ہو گا ؟ بیوی کو کتنا ملے گا اور لڑکے کو کتنا اور چاروں لڑکیوں کو کتنا اور بہن کو کتنا سمجھا کر تحریر فرمایئے۔ (۲) زید کے اپنی بیوی سے یہ کہنے کے باوجود کہ اگر تو نے دوسرا نکاح کر لیا تو میرے اس مکان میں تیرا کوئی حق نہ ہو گا اور نہ حصہ ملے گا، زید کی بیوی اپنا دوسرا نکاح کرلے تو کیا وہ زید کے ترکہ سے شرعا محروم کر دی جائے گی ؟ یا پھر بھی وہ حصہ لینے کی حقدار ہوگی ؟ ان دونوں باتوں کا جواب اچھی طرح سمجھا کر تحریر فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔ السائل : محمد فخر عالم ، بلد وانی ضلع نینی تال
الجواب: ۴۸ = X۸ زوجہ ابن بنات اربع اخت ۲۸ IN 1/4 صورت مسئولہ میں زید مرحوم کا کل ترکہ بر تقدیر صدق سوال و انحصار ورثہ فی المذکورین بعد تقدیم ما تقدم وادائے دیون وغیرہ اڑتالیس ۴۸ / سہام پر تقسیم ہو گا، جن میں سے ۶/ سہام زوجہ اور ۱۴/ سہام زید کے لڑکے اور ۷-۷ / سہام ہر لڑکی کو ملیں گے اور بہن کو کچھ نہ ملے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۳/ ربیع الاول ۱۴۰۵ھ