نافرمان اولاد کو جائیداد سے عاق کرنا، وراثت کے احکام اور بدتمیز بیوی کے متعلق شرعی رہنمائی
شرط پر کہ وہ دوڑ دھوپ اور الٹ پلٹ سے جو بھی کرے گا اگر بکر چھ ماہ بعد یہ رقم واپس لے گا تو یہ اس کے نفع میں سے پانچ سورو پیہ ماہوار اور اگر چھ ماہ سے پہلے رقم لے گا تو دو سو پچاس روپے ماہوار نفع میں سے ہر ماہ دے گا۔ یہ کہاں تک جائز اور ناجائز ہے ؟ (۴) بکر کے تین لڑکے پندرہ سال سے ہیں سال کی عمر کے ہیں، ہمیشہ ناپاک رہتے ہیں، بہت کہنے پر استجا نہیں کرتے، کبھی کبھی جمعہ کی نماز جیسے جیسے پڑھ لیتے ہیں بہت کہنے پر، نہ نماز پڑھتے ہیں نہ سپارہ پڑھتے ہیں، کہنا نہیں سنتے ہیں، عورتوں جیسے بال رکھتے ہیں، ان سے کہنے پر کہ اگر وہ بال ٹھیک نہ کریں گے ، نماز اور سپارہ نہ پڑھیں گے ، کہنا نہ کریں گے تو ان کو منقولہ غیر منقولہ جائیداد میں کوئی حصہ نہ ملے گا، اس کو آدھے پونے فروخت کر دیا جائے گا۔ مگر کوئی فکر اور اثر نہیں ہوتا، یہ سب بھی بے کار ہیں۔ ایک لڑکا پڑھتا ہے مگر صرف نام کا، پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا۔ جی میں آتا ہے کہ کسی کو کوئی حصہ نہ دیں۔ (۵) بیوی کا بھی یہ حال ہے کہ جس کام اور بات کو کرنے کو روکا جاتا ہے تو وہ وہی کرتی ہیں اور کتیا کی طرح بولنے لگتی ہیں، ٹیچر ہیں اور گھمنڈی بھی ہیں، نوکری سے لوٹ کر زیادہ تر بلاؤز اور پیٹی کوٹ ہی پہنتی ہیں اور شلوار اور غرارہ پہنا معیوب سمجھتی ہیں۔ ان سب باتوں سے بڑی کوفت رہتی ہے۔ بکر ایسی عورت سے کیسے چھٹکارا حاصل کرے؟ عمر بھی ادھیڑ ہے ، کوئی کم عمری بھی نہیں ہے، چھوڑ دینے کو کہنے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
المستفتی: شیخ کریم الدین صدیقی پروف ایم ایس اے کے برادرس، گونڈہ الجواب: (۱) وہ شخص سخت گنہ گار مستوجب نار غضب جبار، حق اللہ و حق پدر میں گرفتار ہے ۔ اس پر توبہ لازم ہے اور پدر سے عذر خواہی اور معافی چاہنا لازم ہے اور باپ کے ساتھ حسن سلوک فرض مگر شرعا عاق کرنا کوئی چیز قابل اعتبار نہیں لہذا باپ کے بعد بیٹا اس کا ترکہ ضرور پائے گا اور دوسری اولاد کو وصیت کر دینے سے وہ محروم نہ ہو گا بلکہ اولاد کے لئے وصیت ہی بے اجازت ورثہ جائز نہ ہوگی۔ لہذ ابعد موت پدر جب تک تمام وارث اس کی وصیت کو جائز نہ کر دیں وہ نافذ نہ ہوگی۔ واللہ تعالی اعلم (۲) جن کا قرض آتا ہے انہیں جلد دے دیں، وہ نہ ہوں تو ان کے وارثوں کو دیں اور اگر وارثوں کا بھی پتہ نہ چلے تو بے نیت ثواب کسی مسلم فقیر کو دے دیں۔ یہ حکم سب کے حقوق کا ہے ،مسلم ہوں خواہ غیر مسلم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یہ شکل مضاربت فاسدہ کی ہے جو نا جائز ہے اس لئے کہ اس میں قطع شرکت کا احتمال ہے اس لئے کہ اس میں نفع کی رقم معین کی گئی ہے اور یہ بوجہ احتمال قطع شرکت جائز نہیں ، جواز کے لئے شرط یہ ہے کہ نفع کی رقم معین نہ ہو بلکہ نفع شائع ہونا چاہئے ، مثلاً چو تھائی، تہائی وغیرہ۔ واللہ تعالی اعلم (۴) بکر کو اپنی حیات میں اپنی جائیداد کا اختیار ہے ، جو چاہے کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) بکر کو اختیار ہے، چاہے طلاق دے دے، چاہے رکھے اور اسے تنبیہ کر تار ہے، پھر اگروہ نہ مانے تو بکر ملزم نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۰ محرم الحرام ۱۴۰۸ھ