نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور ایسے امام کی اقتدا کا حکم
سوال یہ ہے کہ مائک یعنی لاؤڈ اسپیکر رکھ کر نماز پڑھتے ہیں ، قرآت کی آواز باہر ایک فرلانگ تک جاتی ہے ، اس کا جواب آپ نے ہمیں لکھ کر سمجھائے کہ مائک رکھ کر نماز پڑھنا مکروہ ہے، امام کی آواز مائک میں آئی تو نماز پھر سے پڑھ لینا، ایسا لکھے تھے۔ وہ تحریر ہم نے پیش امام کو اور جماعت کو دکھائی، وہ دیکھ کر چند روز بند کیے، اس کے بعد رمضان شریف کا مہینہ آیا پھر مائک رکھ کر تراویح اور وقت کی نماز پڑھنی شروع کی۔ تھوڑے لوگوں نے نکالنے کو کہا مگر شرارت کر کے ویسے ہی رکھ کر آج تک نماز پڑھتے ہیں۔ جو لوگ مائک میں نماز پڑھنا نہیں کر کے کہتے تھے وہ لوگ مسجد کو جانا بند کیے، کیونکہ جماعت کے لئے جانا تھا جماعت کی نماز مائک میں ہوتی ہے اس لئے گھر میں پڑھتے ہیں۔ براہ مہربانی ہم کو آگاہ کر دینا شرارت کر کے مائک میں نماز پڑھنے والوں کے حق میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ اور اس امام کے پیچھے اقتدا کر سکتے ہیں کیا؟ اتنا ہم لوگوں کو معلوم کرانا آپ کا فرض ہے کیونکہ آپ نائب رسول ہیں۔ جمعہ کا خطبہ اور نماز بھی ماتک رکھ کر ادا کرتے ہیں۔ المستفتی: ایوب صاحب، کرناٹک
الجواب: فی الواقع اکابر علمائے اہلسنت و جماہیر مفتیان دین متین کا مسلک مبین یہی ہے کہ لاؤڈاسپیکر کا استعمال نماز میں جائز نہیں اور مجوزین کے نزدیک بھی اس کا استعمال فرض و واجب نہیں اور بچنا ان کے نزدیک بھی بہتر ہے۔ اب جبکہ اس کے سبب تقلیل جماعت و تفریق بین المسلمین لازم بلکہ واقع ہوئی تو اس سے احتراز یوں بھی لازم ہے اور اس کے خلاف جو مصر ہو اور لاؤڈاسپیکر استعمال کرے اور اتحاد کو نظر انداز کرے وہی باعث فتنہ ، اور امام کی اقتدا سے پر ہیز کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۲۱ صفر المظفر ۱۴۰۵ھ