ایک بکرے میں سات آدمی کی شرکت، روزہ افطار اور قربانی کے احکام
ایک بکرے میں سات آدمی کی شرکت جائز نہیں! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے چند مسائل میں آپس میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے، امید کہ جواب سے ضرور مطلع فرمائیں گے ۔ (1) ایک بکرے پر سات آدمیوں کی قربانی میں شرکت درست ہے یا نہیں ؟ (۲) بعد نماز مغرب رمضان شریف میں روزہ افطار کرنا کیسا ہے ؟ (۳) قربانی کا گوشت اور سر بیچنا کیسا ہے ؟ نیز ہندؤوں میں تقسیم کرنا کیسا ہے ؟ المستني: مظہر الدین انصاری مقام میاں ٹولہ ، پوسٹ سلیم گڑھ ضلع دیوریا، یوپی
(۱) نہیں۔ ہندیہ میں ہے: "يجب ان يعلم ان الشاة لا تجزئ الا عن واحد وان كانت عظيمة " والله تعالى اعلم (۲) نماز مغرب سے قبل افطار کرنا مستحب ہے تو بعد مغرب افطار کرنا خلاف اولیٰ ہے ۔ ہندیہ میں ہے: "وتعجيل الافطار افضل فيستحب ان يفطر قبل الصلاة "(۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جس نے قربانی کی، اسے جائز نہیں کہ گوشت و چرم اپنے لئے یا اپنے اہل و عیال کے لئے نیچے اور اگر بیچ دیا تو اس کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے۔ ہندیہ میں تبیین سے ہے: "ولا يبيعه بالدراهم لينفق على نفسه وعياله واللحم بمنزلة الجلد فى الصحيح اور ہندؤوں کو دینا بھی جائز نہیں۔ "لأنا نهينا عن برهم، كذا في رد المحتار (۴) واللہ تعالیٰ اعلم