عقیقہ کا مستحب و مسنون طریقہ اور مشترکہ قربانی و عقیقہ کا حکم
۱۸ محرم الحرام ۱۴۰۵ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل میں : (1) عقیقہ کا مسنون و مستحب طریقہ کیا ہے ؟ جبکہ عقیقہ مسنون و مستحب ہے تو کیا بجائے بکرا، بکری، مینڈھا، بھیڑ، دنبہ، لڑکے کے لئے دو بکرے، لڑکی کے لئے ایک بکرا کے اگر پاڑا (چھوٹا بیل) کے ذبیحہ سے عقیقہ کیا جائے تو کیا ایسا عمل سنت متوارثہ کے مطابق ہوگا؟ (۲) آج کل بحوالہ بہشتی زیور بنظر کفایت عقیقه و قربانی مشترکہ طور پر کی جارہی ہے، کیا یہ طریقہ عمل عین سنت کے مطابق ہے؟ (۳) مشترکہ عقیقہ و قربانی سے ولادت نومولود کے ساتویں دن کا شمار کیونکر ہو سکے گا؟ نیز بوقت ذبیحہ جانور جو دعائے ماثورہ مستحب و مندوب ہیں ان کی تلاوت کسی طور پر ہوگی ؟ یا اس کی ضرورت ہی نہیں ؟ جیسا کہ آج کل ہر مستحب، مباح، مندوب عمل کو غیر ضروری کہا جارہا ہے اور جس کو شرع کے بدعت سے موسوم کیا جاتا ہے۔ بحوالہ احکام بہ طریق مسنونہ وضاحت فرمائیے۔ المستفتي : مفتی الحاج محمد تراب الدین صدیقی خطیب آر ایل او، ہاؤس نمبر ۱،۶/۱۸، ناندیڑ ، ۴۳۱۶۰۴
(1) ساتویں دن لڑکے لڑکی کا نام رکھیں اور اس کے بال منڈوائیں اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کو صدقہ کریں اور بال منڈواتے وقت جانور ذبح کریں ، لڑکے کی طرف سے دو بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔ یہ حکم استحبابی ہے اور بکرے کے بجائے گائے بھینس ذبح کریں یہ بھی جائز ہے۔ ردالمختار میں ہے: " يستحب لمن ولد له ولدان يسميه يوم اسبوعه ويحلق رأسه و يتصدق بزنة شعره فضة او ذهبا يعق عند الحلق عقيقة اباحة او تطوعاً على مافى شرح الطحاوى شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الافكار ملخصا " . وهو تعالى اعلم (۲) رد المحتار میں ہے: "وكذا لو اراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد من قبل "(٢). وهو تعالى اعلم (۲) جائز ہے اور مستحب پہلے بیان ہوا۔ (۳) ساتویں دن عقیقہ کرنا واجب نہیں، بلکہ مباح علی قول الامام المجبول، یا مستحب علی قول آخر ہے لہذا اس سے اصل جواز میں حرج نہ ہو گا۔ ذبح کرتے وقت اتنی آواز سے کہ خود سنے ، دعا پڑھ لے۔ وھو تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ شب اار محرم الحرام ۱۴۰۵ھ