قربانی کے وقت، شرکاء کی موجودگی اور گوشت کی تقسیم سے متعلق سوالات
جانب سے قربانی دی جارہی ہو تمام بقید حیات ہوں تو یہاں عید گاہ نماز کے لئے گئے ہوئے حضرات جو کہ قربانی کے ذبیحہ کے وقت قریب موجود نہ تھے اور ان کی نماز عید اضحی بھی ادا نہ ہوئی تو کیا عید گاہ گئے ہوئے شرکاء کی قربانی ادا ہو گئی ؟ (۳) سات حضرات نے اکٹھا ہو کر قربانی کی نیت سے ایک جانور خریدا جس میں کہ سات آدمیوں کی شرکت روا ہے۔ نیت تو سب کی قربانی کی تھی مگر بوقت ذبیحہ جانور صرف تین حضرات شرکاء موجود تھے مابقی چار حضرات موجود نہیں تھے۔ تین شرکاء اپنی نماز عید مسجد میں جلد ساڑھے آٹھ بجے صبح ادا کر لی اور بقیہ چار حضرات (شرکاء) نماز عید ادا کر نے عید گاہ گئے تھے جہاں پر وقت نماز ساڑھے نو بجے صبح مقرر تھا۔ مذکورہ تین شرکاء نے اپنی نماز ساڑھے آٹھ بجے صبح ادا کر کے جانور قربانی نو بجے صبح ذبح کر دیا تو ایسی صورت میں دیگر چار شرکاء کی نماز بھی ادانہ ہوئی تھی اور وہ بوقت ذبیحہ جانور قربانی موجود بھی نہیں تھے۔ تو کیا ان چار شر کاء کی قربانی درست ہو سکتی ہے؟ (۴) قربانی کے جانور کے گوشت کے بموجب احکام شرعی تین حصے کیے جاتے ہیں۔ ایک حصہ صاحب قربانی کے لئے ، دوسرا حصہ عزیز واقارب احباب میں تقسیم کیا جاتا ہے، تیسرا حصہ فقراء، محتاجوں، غریبوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے بر خلاف اگر صاحب قربانی جانور کا تمام گوشت تین حصے نہ کر کے اپنے ہی استعمال کے لئے رکھ لے یا تمام کا تمام گوشت غریبوں فقراء محتاجوں میں تقسیم کر دے تو کیا اس کا یہ عمل از روئے احکام شرع شریف درست ہو سکتا ہے؟ (۵) قربانی کے جانور کے گوشت کو صاحب قربانی زیادہ سے زیادہ کتنے یوم تک اپنے پاس استعمال کر کے رکھ سکتا ہے ؟ ہمارے یہاں بعض روایات ہیں کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ استعمال میں صاحب قربانی نہ رکھے ۔ کیا یہ روایات درست ہو سکتی ہیں؟ براہِ کرم متذکرہ صدر مسائل کے بحوالہ شرع شریف جوابات معلوم فرمائیں تو احسن ہے۔ بینوا توجروا۔ المستفتی: محمد حسن محی الدین برو تھ قاضی محلہ عادل پور شاہ پور ضلع گلبرگہ (کرناٹک)
الجواب: تكملة (۱) درست ہے۔ نیت سے کام ہے ، وہ جب ہوئی کہ اب۔ تبیین میں ہے: "لو اشترى بقرة يريد ان يضحى بها عن نفسه ثم اشترك معه ستة اجزاه استحساناً) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) سب کی قربانی ہوگئی جبکہ غیر حاضر لوگوں نے اپنی طرف سے قربانی کرنے کا کسی کو وکیل بنادیا ہو، ور نہ کسی کی نہ ہوئی۔ شہر میں قربانی جائز ہونے کی شرط یہ ہے کہ صلاۃ معتبرہ کے بعد ہو اور یہ شرط صورت مسئولہ میں موجود ۔ لہذا قربانی سیح۔ نبیین میں ہے: "ولو ضحى بعد ما صلى اهل المسجد قبل ان يصلى اهل الجبانة اجزاه استحسانا لأنها صلاة معتبرة حتى لو اكتفوا بها اجزأتهم فيكون الذبح عقيب صلاة معتبرة "(۲) نیز اسی میں ہے: ولو ذبحوها بغير اذن الورثة فيما اذا مات احدهم لا يجزئهم لان بعضها لم (۳) يقع قربة " والله تعالى اعلم (۳) درست ہے تفصیل مذکور در گزشتہ۔ واللہ تعالی اعلم (۴) درست ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) جب تک قابل استعمال رہے اور وہ روایات معمول بہا نہیں بلکہ منسوخ ہیں، سرکار ابد قرار علیہ الصلاة والسلام المدار نے ابتداء فقراء کی مصلحت کے لئے یہ حکم دیا تھا اور وہ بھی استخبابی تھا پھر جب اس کی حاجت نہ رہی، سرکار نے گوشت کو تین دن کے بعد بھی جمع رکھنے کی اجازت فرمادی۔ چنانچہ موکا شریف میں ہے: " اخبرنا مالك عن ابى الزبير المكي عن جابر بن عبد الله ان رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم نهى عن أكل لحوم الضحايا بعد ثلث ثم قال بعد كلوا وتصدقوا وتزودوا وادخروا"() یعنی امام مالک نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے بسند خود روایت کیا کہ رسول اللہ صلی لی لی نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا، پھر فرمایاکھاؤ اور فقیروں پر صدقہ کرو اور جمع کر رکھو۔ زرقانی علی الموطا میں ہے: (M)" " واختلف فى انه كان نهی تحریم او تنزیه وصححه المهلب لقول عائشة (رضی الله تعالى عنها) الضحية كنا نملح منها فتقدم الى النبي صلى الله تعالى عليه وسلم بالمدينة فقال لا تأكلوا الا ثلثة ايام قالت وليست بعزيمة ولكن اراد ان يطعم منه والله اعلم رواه البخارى یعنی اس میں اختلاف ہے کہ یہ ممانعت تحریمی تھی کہ تنزیہی اور مہلب نے دوسرے قول کو صحیح فرمایا، اس لئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم قربانی کے گوشت میں نمک لگاکر رکھتے ، پھر وہ گوشت بی میلی سی کی خدمت میں مدینہ پیش ہوتا تو سرکار علیہ السلام نے فرمایا کہ قربانی کے گوشت میں سے تین دن سے زیادہ نہ کھاؤ، وہ فرماتی ہیں یہ حکم عزیمت (لازم) نہ تھالیکن سرکار ابد قرار علیہ السلام کی مراد یہ ہے کہ اس سے فقراء کو بھی کھلایا جائے۔ اسی زرقانی میں ہے: "وفى البخاري ومسلم عن سلمة بن الأكوع مرفوعاً من ضحى منكم فلا يصبحن بعد ثلاثة وفى بيته منه شيء فلما كانوا العام المقبل قالوا يا رسول الله نفعل كما فعلنا بالعام الماضى قال كلوا واطعموا وادخروا فان ذلك العام كان بالناس جهد فأردت ان تعينوا فيها "() یعنی بخاری و مسلم میں حضرت سلمہ بن الاکوع سے ہے ، سرکار ابد قرار علیہ السلام نے فرمایا: تم میں سے جو قربانی کرے تو تین دن بعد اس حال میں صبح نہ کرے کہ اس کے گھر میں اس کا کچھ گوشت ہو، پھر جب اگلے سال ہوئی صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ ہم اس طرح کریں جس طرح سال گزشتہ کیا ؟ فرمایا کھاؤ اور کھلاؤ اور بچار کھو اور یہ اس لئے کہ اس سال لوگوں کو مشقت تھی تو میں نے چاہا کہ اس میں تم مدد کرو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۲ محرم الحرام ۱۴۰۵ھ