صاحب نصاب میاں بیوی کی قربانی اور ایصال ثواب کے لیے قربانی کا حکم
جو صاحب نصاب ہو قربانی اس پر واجب ہے! ہمارے دین پروری علمائے عظام ستون دین اہل سنت والجماعت کیا فرماتے ہیں کہ جناب زید نے آج سے کئی سال آگے اپنی اہلیہ زبیدہ خاتون کے نام ایک مکان خرید کر رجسٹری کرادی ، فی الحال اس مکان کی قیمت تقریبا پچاسوں ہزار سے زائد کی ہے ، کرایہ دار بھی رہا کرتے ہیں، غرض کہ جناب زید بھی اہل نصاب ہیں مگر فی الوقت جناب زید نے ایک بکرا خرید ابقر عید کے موقع و نیت اپنی اہلیہ زبیدہ خاتون کے نام قربانی دینے کے لئے اب درمیان میں ان کے دوست جناب جمال کا کہنا ہے کہ یہ قربانی زبیدہ کے نام پر درست نہیں بلکہ زید کے نام پر درست ہے جبکہ بکرا خرید ہی ہوا قربانی و نیت زبیدہ کے نام پر دینے کے لئے۔ اب علمائے کرام ہی اس کو حق فیصلہ دیں گے اگر چہ زید بھی اہل نصاب اہلیہ بھی اہل نصاب یہاں نیت کر کے خریدا اپنی زوجہ کے نام پر اب بکر از ید کے نام پر درست یا زبیدہ کے نام پر ؟ علمائے دین متین فرما دیں! (۲) جناب زاہد صاحب نے بحیثیت اہل نصاب رہتے ہوئے ایک بکرا خرید کی ونیت قربانی دینے کے لئے اپنے والد مرحوم اصغر علی کے نام پر بقر عید کے موقع پر ، اب جناب کمال صاحب کا کہنا ہے کہ یہ قربانی مرحوم کے نام پر درست نہیں ، جناب بکر کا کہنا ہے کہ بکرا کی قربانی جس کے نام کی نیت سے خریدی کی گئی گرچہ مردہ یا زندہ، اس کے نام ہی ہوگی۔ اب علمائے عظام فرمادیں کہ یہ بکرا زاہد کے نام درست ہے یا مرحوم اصغر کے ؟ جبکہ نیت قربانی مرحوم اصغر علی کے لئے خریدا۔
المستفتی: مولوی لطف الرحمن ، امام با گڈوڈ گرا، دار جنگ، مغربی بنگال اہلیہ کی طرف سے باجازت اہلیہ اس کی قربانی درست ہوگی اور زید جب خود صاحب نصاب ہے تو اس پر اپنی قربانی کرنا بھی واجب ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) مرحوم کی طرف سے اس بکرے کی قربانی کرنا درست ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم