ہندؤوں سے چندہ لینا اور ان کے مذہبی تہواروں میں چندہ دینا اور تاڑ کے باغ کی آمدنی کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ زید کے پاس ایک تاڑ کا باغ ہے، جسے ہر سال کسی کے ہاتھ فروخت کر دیا جاتا ہے کہ وہ تاڑی نکال کر اپنا کاروبار کرے۔ چونکہ تاڑ کے باغ سے دوسری کوئی آمدنی نہیں ہے اس لئے پاسیوں کو تاڑی نکالنے کے لئے دے کر کچھ آمدنی کر لی جاتی ہے۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ ایسا کرنا از روئے شرع کیسا ہے اور اس سے جور قم ملتی ہے وہ جائز ہے یانہیں؟ دیگر اینکہ آج کل کسی کارخانہ میں ہندو مسلم دونوں ور کر کام کرتے ہیں اور سال میں جب کبھی کسی فرقے کا تیوہار آتا ہے تو کار خانہ میں جلسہ میلاد النبی یا مورتیوں کی پوجا کا پروگرام ہوا کرتا ہے اور دونوں فرقے کے لوگ دونوں محفلوں میں ہر طرح کا تعاون دیتے ہیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ محفل میلاد النبی کے لئے ہندؤوں سے چندہ لینا اور پوجا کے لئے ہندؤوں کو چندہ دینا از روئے شرع کیسا ہے ؟ واضح رہے کہ چونکہ ہندؤوں کے ساتھ کارخانہ کی وجہ سے برابر کے تعلقات ہیں اور چندہ نہ لینے یا نہ دینے پر دل شکنی ہوگی اور تعصب کی بنا پر فضا کشیدہ ہو سکتی ہے ، مل مالکان جو اکثر ہندو ہیں انہیں بھی رنجش کا موقع ملے گا۔ لہذا کون سی صورت اختیار کی جائے کہ شرعی طور پر گرفت بھی نہ ہو اور باہمی اختلاف بھی نہ ہو؟ فقط ۔ المستفتی: محمد اشرف سیوانی قادری رضوی، ۲/۲، بی کے روڈ ، کلکتہ - ۳۳
الجواب: اس باغ کو تاڑی نکالنے والوں سے فروخت کرنا مکروہ وگناہ ہے کہ گناہ پر اعانت ہے اور یہ گناہ ہے مگر اس کی آمدنی حلال ہے اور ہندؤوں سے چندہ لینا حرام اور انہیں ان کے مذہبی تیوہاروں کے لئے چند و دینا اور زیادہ سخت حرام ہے اور اگر اندیشہ فتنہ و فساد کا ہو تو یہ صورت مجبوری کی ہے ، اس صورت میں اجازت ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۲۵/ ذی الحجہ ۱۴۰۴ھ