بے وجہ شرعی عورت کا شوہر کے ساتھ نہ رہنا حرام ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس اہم مسئلہ میں میں کہ نظر محمد خاں ولد جعفر خاں ساکن فراش پور وہ پوسٹ دھانے پورضلع گونڈہ کا ہوں۔ میری شادی اجودھیا ضلع فیض آباد میں ہوئی تھی، اس وقت سسرال والے کے کہنے پر تقریبا ۲/ سال سسرال میں رہتا تھا اور ان کی کھیتی باڑی کا کام کرتا تھا۔ سسرال والوں سے جب دو سال کے بعد اپنے گھر آنے کا ارادہ کیا تو ناراض ہو گئے، بہر حال میں اپنے گھر چلا آیا، اس کے بعد میں بمبئی چلا گیا، بمبئی سے آنے کے بعد پھر اپنے گھر رہنے لگا۔ اس بنا پر سسرال والے اور میری عورت سب ناراض ہو گئے اور کہا کہ میری لڑکی دیہات میں نہیں رہے گی، بہت کہنے سننے پر بھیجا مگر ایک دو مہینہ ہمارے گھر پر رہ کر بلا بتائے اپنے میکے چلی جاتی تھی اور میکے میں چھ سات مہینہ رہتی تھی۔ اسی طرح سے برابر کرتی رہی، اس عورت سے چار بچے پیدا ہوئے۔ آخر میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہمارے گھر چھوڑ دیا اور ایک لڑکا اور ایک لڑکی لے کر اپنی مرضی سے بلا بتائے چلی گئی اپنے میکے کو ، اور تب سے ہمارے گھر کو نہیں آتی ہیں جس کو کافی عرصہ گزر رہا ہے۔ نہ تو طلاق مانگتی ہے نہ گھر آتی ہے، میں اپنی جان کا خطرہ سمجھ کر سسرال نہیں جاتا ہوں۔ اس کے بارے میں غور فرماکر جواب دینے کی زحمت گوارا کریں۔ المستفتی: نظر محمد خاں، فراش پورہ، پوسٹ دھانے پور ، ضلع گونڈہ
الجواب: صورت مسئولہ میں وہ عورت اور اس کے ہمنو اسب اشد گناہ گار مستوجب نار حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہیں۔ عورت پر فرض ہے کہ آپ کا ہر جائز حکم مانے اور بے وجہ شرعی آپ کے ساتھ نہ رہنا اسے حرام ہے اور وہ اس صورت میں ناشزہ ہے تو نفقہ کی مستحق نہیں۔ ان لوگوں پر لازم ہے کہ عورت کو اس کے شوہر کے یہاں بھیجیں ورنہ افسادِ زن کے مرتکب ہو کر ستحق لعنت ہوں گے۔ حدیث میں ہے: "لعن الله من خبب امرأة على زوجها " (1) اللہ کی لعنت ہے اس پر جو بیوی کو اس کے شوہر سے بگاڑے۔ واللہ تعالیٰ اعلم تكملة فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۲۴/ ذی الحجہ ۱۴۰۴ھ (1) سنن ابی داؤد، کتاب الطلاق، باب فی من خبب امرأة على زوجها، ص ٢٩٦، فیصل پبلکیشنز