قبرستان میں گھوڑے باندھنا، ان میں اُپلے جلانا اور کوڑا کرکٹ ڈالنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں زید ایک گاؤں کی مسجد میں امام ہے، مسجد کے متصل ہی ایک پرانا قبرستان ہے جواب بھی مدفن میں استعمال ہوتا ہے ، اس میں گاؤں کے لوگ جانور باندھتے ہیں، اُپلے تھوپتے ہیں ، اپلوں کے ڈھیر لگاتے ہیں، گھوڑے باندھتے ہیں، کوڑا کرکٹ کا ڈھیر بھی ڈالتے ہیں۔ زید نے گاؤں والوں سے کہا کہ قبرستان کو صاف رکھو اور متذکرہ بالا کام قبرستان میں مت کرو تو کچھ لوگوں نے مان بھی لیا کہ ہاں آپ ٹھیک کہتے ہیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں، تم ایک نئے مولوی آئے ہو، ہمیں سمجھانے ، اس میں کیا حرج ہے؟ تم لوگ نئی نئی باتیں نکالتے ہو اور زید سے ناراض رہتے ہیں۔ اس بنا پر بستی والوں کے لئے اور امام صاحب اور قبرستان کے لئے کیا حکم ہے؟ المستفتی: عزیز احمد ، ساکن موضع ردھولی، تحصیل فرید پور ضلع بریلی شریف
الجواب: فی الواقع قبرستان میں گھوڑے باندھنا، اسے اپلوں کی نجاست سے آلودہ کرناجائز نہیں ، امام نے صحیح کہا اور جولوگ اس سے ناراض ہیں وہ بر سر خطا ہیں، تو بہ کریں اور اس حرکت سے باز رہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۲۰/ ذی الحجہ ۱۴۰۴ھ