لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نماز میں جائز نہیں!
مکر می جناب مفتی اعظم صاحب ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں زید کہتا ہے کہ اگر جمعہ یا عیدین کی نماز میں لوگ اتنے ہو جائیں کہ تمام نمازیوں کو امام کی قرآت یا تکبیر کی آواز نہیں پہنچتی ہے تو ایسی حالت میں کیا لاؤڈا پیکر کا استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ برائے مہربانی
الجواب: قرآت کی آواز پہنچنا کچھ ضرور نہیں اور تعمیر کی آواز نہ پہنچنے کا علاج ہوں ہو جاتا ہے کہ تکبر تکبیر کہتے ہیں جس سے امام کے انتقالات کی دور والے مقتدیوں کو خبر ہو جاتی ہے اور امام ہی کی تکبیر پہنچے یہ کچھ ضروری نہیں بلکہ اسے ضروری سمجھنا خیال فاسد ہے، مدار کار صحت نماز کا اس پر ہے کہ امام کا حال مشتبہ نہ ہو، نہ کہ قرآت کی آواز اور تکبیر کی آواز پہنچنے پر ۔ اور جب مکبر امام کے انتقالات پہنچانے کے لئے کافی اور مکبر ہونا مسنون تو لاؤڈاسپیکر کے لئے سنت قدیمہ مسلمین بلکہ سنت سرکار علیہ الصلاۃ والسلام کو اُٹھا دینا کون سی خیر خواہی اسلام و سنت ہے ؟ پھر لاؤڈ اسپیکر مظنہ فساد نماز اور بعض صورتوں میں مفسد نماز ہے اس لئے ہمارے اکابر علمائے اہلسنت خصوصا سیدی حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کا فتویٰ یہی ہے کہ لاؤڈاسپیکر کا استعمال نماز میں جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ۱۸/ ذی الحجه ۱۴۰۴ھ