کسی مسلمان کو بلا دلیل شرعی دیوبندی کہنے اور تارک نماز کو کافر قرار دینے کا حکم
جناب مفتی صاحب ، دار الافتاء ! السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ : (1) ایک شخص جو کہ کہتا ہے وصیت نامہ کا ایجاد کرنے والا شیخ احمد د یو بندی ہے تو یہ کہ اس وصیت نامہ سے شیخ احمد کا دیوبندی ہونا ثابت ہوتا ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں ہوتا تو کیا علمائے اہل سنت نے اس کو دیوبندی کہا ہے ؟ اگر نہیں کہا تو اس شخص کے لئے کیا حکم ہے ؟ کیا اس کا یہ فعل درست ہے کہ علما پر جھوٹا الزام لگائے اور بے وجہ اپنے کو بہت جاننے والا اس سلسلہ میں ظاہر کرے کہ لوگوں میں رعب بیٹھے ؟ کیا اس کی بات ماننا جائز ہے ؟ اگر وہ شخص نماز پڑھائے تو کیا اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے ؟ میں نے سنا ہے کہ شیخ حمد نام مجد دالف ثانی کا ہے اور یہ وصیت نامہ بہت برسوں سے ہم نے دیکھا ہے اور آج کل بھی لوگ اس کو چھپوا کر لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ (۲) ایک شخص کہتا ہے کہ جو شخص نماز نہیں پڑھتا وہ مسلمان نہیں ہے ، جبکہ آج کل مسلمانوں کی زیادہ تعداد نماز سے غافل ہے ، تو اس شخص کے نزدیک وہ سب مسلمان ہی نہیں ، تو کیا اس شخص کا یہ قول معتبر ہے؟ اور کیا امام اعظم کے نزدیک وہ شخص جو نماز چھوڑے ہوئے ہے یا غافل ہے نماز سے توہ شخص کیا کافر ہے یا نہیں ؟ اور وہ شخص جو کافر جانے اس شخص کو اس کے لئے شرعاً کیا حکم ہے ؟ اگر وہ شخص امام ہے تو کیا امامت اس کی درست ہے ؟ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ المستفتی: محمد حسین ، محلہ ڈونگر سرائے سنبھل ضلع مراد آباد
الجواب: (1) وصیت نامہ کا حکم وصیت نامہ ہی پر لکھ دیا ہے، البتہ ہے دلیل شرعی کسی مسلمان کو دیوبندی کہنا حرام بد کام کفر انجام ہے ، اس سے قائل پر توبہ فرض ہے اور تجدید ایمان بھی کرے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) فی الواقع ترک نماز اشد کبیرہ عظیم گناہ، سخت جریمہ ہے اور بعض احادیث میں ترک نماز پر کفر کا حکم بھی وارد ہوا جو جمہور ائمہ کے نزدیک اپنے ظاہر پر نہیں بلکہ تہدید کے طور پر ہے اور بعض علمائے سلف نے تارک نماز کو کافر بھی کہا ہے اور اس کی وجہ اس زمانہ کے لحاظ سے ظاہر کہ اس زمانہ میں بے نمازی ہونا شعار کفر تھا اور کافروں کی خاص پہچان تھی مگر جماہی ائمہ کا یہ مذ ہب نہیں اور اس دور میں یہ حکم مطلقا دینا مناسب نہیں کہ ایک گروہ عظیم کو اسلام سے خارج کہنا ہے اور یہ سنی کا کام نہیں بلکہ وہابیہ اور مودودیوں کا کام ہے۔ امام مذکور اگر مودودیوں کی اتباع کرتا ہے، مودودیوں کو مستند سمجھتا ہے اور اتباع مودودی میں یہ حکم لگاتا ہے تو ہر گز لائق امامت نہیں کہ وہ اپنے عقائد کفریہ کے سبب کافر ہیں تو ان کو دین میں مستند سمجھنا کفر ہے اور کافر کی افتد ا باطل محض۔ کفایہ میں ہے: اما الكافر فلا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل اس کے عقائد کی تحقیق کی جائے ، اگر مودودی یا وہابی ثابت ہو تو اس سے سخت پر ہیز لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ