شہر کی جامع تعریف اور جمعہ و قربانی کے احکام
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین شرائط مصر میں کہ شہر کے احکام جاری ہونے کے لئے کن کن شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے ؟ مسلمانوں کا وہ مسکن جہاں کثرت جماعت ہو، دوکان اور بازار کے لحاظ سے ضروریات کے سامان مل جاتے ہوں، چوراہے اور سڑکوں کے اعتبار سے ہر وقت سواریاں مل جاتی ہوں ، عدل و انصاف کے لئے حکومتی تھانہ موجود ہو، جہاں مظلوم کے ظلم کا بدلہ ظالم سے لیا جا سکے، مختلف گلیاں اور سڑکیں بھی پائی جاتی ہیں، مسلمانوں کا ایسا مسکن شہر کا حکم رکھتا ہے یا نہیں ؟ اگر رکھتا ہے تو نماز عید الاضحیٰ سے پیشتر قربانی کرنا کیسا ہے ؟ اگر کسی نے ایسی قربانی کی تو درست ہے یا غیر درست؟ اور اگر یہ شہر کا حکم نہیں رکھتا توکیوں ؟ بینوا توجروا بالدلائل العقلية والنقلية المستفتی: غلام رسول ، مہتمم مدرسہ اہل سنت والجماعت اشرف العلوم قصبہ شیش گڑھ ضلع بریلی شریف (یوپی)
الجواب: شہر وہ جگہ ہے جو ضلع یا پرگنہ ہو، جس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور وہاں متعد دگلی کوچے ، دوامی بازار ہوں اور اس جگہ حاکم ( والی و قاضی ) رہتا ہو جو ظالم سے مظلوم کا انصاف لے سکے۔ غنیہ شرح منیہ و تبیین شرح کنزور دالمختار میں ہے: واللفظ للأخير" فى التحفة عن ابي حنيفة انه بلدة كبيرة فيها سكك واسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على انصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه او علم غيره يرجع الناس اليه فيما يقع من الحوادث وهذا هو الأصح - اس تعریف سے شہر کے شرائط معلوم ہو گئے اور مدار کار اور اصل مقصود ان شرائط میں حاکم رہے ( والی یا قاضی) جو تنفیذ احکام پر مستقلا قادر ہو، اسی لئے در مختار وغیرہ میں شہر کی تعریف یوں فرمائی: " انه كل موضع له امير وقاض يقدر على اقامة الحدود" اور گلی کوچوں اور دیہاتوں کا ذکر اس وجہ سے چھوڑ دیا کہ حاکم اس شان کا ایسے ہی شہر میں ہوتا ہے جو ضلع یا پرگنہ ہو جس کے متعلق دیہات ہوں اور اس میں گلی کوچے متعد د ہوں۔ رد المختار میں ہے: "الا ان صاحب الهداية ترك ذكر السكك والرساتيق لان الغالب ان الامير والقاضي الذي شانه القدرة على تنفيذ الاحكام واقامة الحدود لا يكون الا في بلد كذلك - اهـ الہذا جس جگہ حاکم نہ رہتا ہو، وہ شرعا شہر نہیں ، اگر چہ متعد د گلی کوچوں اور دوائی بازار کی وجہ سے شہر میں گنتی ہو یا عر فا شہر شہر ہوتی ہو وہ شرعا شہر نہیں، وہ دیہات ہے اور اس جگہ عیدین صحیح نہیں ۔ لہذا ار ذی الحجہ کی صبح صادق کے بعد اس جگہ قربانی کرنا صحیح ہے اور حکومتی تھانہ ہونا اس جگہ کو شہر نہ بنادے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ۱۲/ ذی الحجہ ۱۴۰۴ھ