تین بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم اور پوتی کے حصے کا مسئلہ
تین لڑکے پانچ لڑکیوں میں ترکہ کتنے سہام پر منقسم ہو گا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مشتاق حسین مرحوم نے اپنے مرنے کے بعد تین لڑکے (عبدالستار ، محمد حنیف، محمد حسین عرف ننھے پہلوان) اور پانچ لڑکیاں (سمیدن، شکیران، عزیزن ، بسم اللہ ، آمنہ ) چھوڑیں۔ نیز مذکورہ تین بھائیوں کے علاوہ مسمی خلیل احمد مرحوم ایک بھائی اور تھے جن کا مشتاق حسین مرحوم کے حیات میں ہی انتقال ہو گیا تھا، ان کی ایک لڑکی فاطمہ ہے۔ براہ کرم جواب دیا جائے کہ مشتاق حسین مرحوم کی میراث میں کس کا کتنا حصہ ہے ؟ اور یہ کہ خلیل مرحوم جن کا انتقال باپ کے سامنے ہوا، ان کی لڑکی کو حصہ ملے گا یا نہیں ؟ اگر ملے گا تو کتنا ملے گا؟ بینوا توجروا۔ لمستفتی: قاری غلام محی الدین خان خطیب جامع مسجد بلد وانی ضلع بینی تال (یوپی)
بر تقدیر صدق سوال و انحصار ورثہ فی المذكورين بعد تقدیم ما تقدم وادائے دیون و غیر ها کل ترکہ مشتاق حسین مرحوم کا اار سہام پر منقسم ہو گا جن میں سے ۲، ۲/ سہام ہر لڑکے کو اور ا، ارسہم ہر لڑکی کو ملیں گے اور فاطمہ کو کچھ نہ ملے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله الجواب صحیح۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۸/ ذوالحجہ ۱۴۰۲ھ تحسین رضا غفرلہ