حلال جانور کے حرام اجزاء، علم غیب کا دعوی، تبلیغی جماعت کے پیچھے نماز اور قیام میلاد کا حکم
حلال جانور میں کتنی چیزیں حرام ہیں اور کتنی چیزیں مکروہ ؟ علمائے دین کیا فرماتے ہیں مسئلہ مندرجہ ذیل میں کہ (۱) ایک جانور میں کتنی چیزیں حرام ہیں اور کتنی چیزیں مکروہ ہیں ؟ کون کون سی ہیں؟ (۲) زید نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ میں کیسے مرونگا، میرالڑ کا کیا بنے گا، وہ بھی جانتا ہوں۔ صرف میں تارک الصلوۃ ہوں ورنہ میں بہت کچھ کر لیتا۔ اس پر اعتراض ہو رہا ہے لوگوں کا۔ (۳) امام تبلیغی (دیوبندی) جماعت کے امامت کرتے ہیں، ان کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟ زید کا کہنا ہے کہ کیا ہو گا، حامد کا کہنا ہے کہ نہیں ہوگی۔ (۴) میلاد میں قیام کرنا جائز ہے یاناجائز ؟ اگر جائز ہو توسنت ہے یا نفل ؟ المستفتی: محمد شعیب الرحمن خان مہولیا پوسٹ بھوتنی ، ضلع سیتا مڑھی (بہار) - ۸۴۳۳۲۷
الجواب: (۱) بائیس ۲۲ اجزا ہیں جن کا کھانا مکروہ تحریمی ہے، ان کی تفصیل ہمارے فتوی منقولہ میں ملاحظہ ہو۔ (۲) زید بے قید اپنے اس دعویٰ میں جھوٹا ہے۔ قال تعالى : (وَ مَا تَدْرِكْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا وَ مَا تَدْرِكْ نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضِ تَمُوْتُ الآي (۱)) اسپر تو بہ لازم ہے۔ جبتک تو بہ صحیحہ نہ کرے، اسے ہر واقف حال مسلم چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) تبلیغی جماعت دیوبندی گروہ ہے اور دیو بندی اپنے عقائد کفریہ کے سبب کافر مرتد ہیں، ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے اور دانستہ دیو بندی کو امام بنا نا حرام بد کام کفر انجام ہے۔ کفایہ میں ہے: " اما الكافر فلا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (۲)" در مختار میں ہے: " تبجیل الکافر کفر (۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۴) جائز و مستحسن ہے کہ صدیوں سے مسلمانوں کا معمول ہے اور اس کی حرمت پر شرع مطہر سے اصلا کوئی دلیل نہیں اور شرع مطہر میں جو حرام نہیں وہ بلاشبہ جائز ہے۔ قاعدہ مستمرہ ہے: ”الأصل في الأشياء الإباحة (۴)" اور مستحسن ہونے کے لئے یہ بس ہے کہ بلا نگیر اہلسنت اسے مستحسن جانتے ہیں۔ (1) لقمان: ٢٤ (2) الكفايه مع فتح القدير ، كتاب الصلوۃ، باب الامامة، ج ۱، ص ٣٢٤، دار الكتب العلمية، بيروت (3) الدر المختار جلد ۹ ص " ٥٩٢ ، باب الاستبراء، دار الكتب العلمية، بيروت (4) التفسير الاحمدى، ص ۱۳ ، مکتبه رحیمیه حدیث میں ہے: (۱)،، ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله یکم ذوالحجہ ۱۴۰۲ھ