اعلیٰ حضرت کے اشعار پر اعتراض اور اس کا جواب
حدائق بخشش حصہ سوم، ص ۳۷: تنگ و چست ان کا لباس اور وہ جو بن کا ابھار - مسکی جاتی ہے قبا سر سے کمر تک لے کر یہ پھٹا پڑتا ہے جو بن میرے دل کی صورت - کہ ہوئے جاتے ہیں، جامہ سے بروں سینہ وبر خوف ہے کشتی ابرو نہ بنے طوفانی ۔ کہ چلا آتا ہے حسن اہلہ کی صورت بڑھ کر خامہ کس قصد سے اٹھا تھا کہاں جا پہنچا ۔ راہ نزدیک سے ہو جانب تشبیب سفر تن اقدس میں لباس آیہ تطہیر کا ہو - سورہ نور ہو سر پر گہر آماں معجر یا حمیرا کا تن پاک پہ گلگوں جوڑا كَلِّمِينِي کے در آویزه گوش اطہر ہیں کہاں مالنیں سرکار کی عفت حرمت کہدو مجرے کو بڑھیں پھولوں کا گہنا لے کر چمن قدس کے بیلے کا جبیں پر چھپکا - نَحْنُ أَقْرَبُ کی چنبیلی سے گلے کا زیور باغ تطہیر کی کلیوں سے بنائیں کنگن - آیہ نور کا ماتھے منور جھومر
مقام اشاعت: کتب خانہ اہل سنت جامع مسجد ، ریاست پٹیالہ مرتب: فقیر سگ رضوی ابوالظفر محب الرضا محمد محبوب علی خاں قادری برکاتی رضوی مجددی لکھنوی غفر اللہ لہ ، مفتی اعظم ریاست پٹیالہ بفرمائش: مولانا مولوی حافظ و قاری سید نور الحق صاحب قادری برکاتی قاسمی و محبان سنیت جناب حاجی ہاشم، حاجی جمال صاحب قادری، و جناب حاجی آدم جی ، حاجی جمال صاحب قادری برکاتی قاسمی گونڈوی و حاجی ابوبکر ، حاجی احمد قادری برکاتی قاسمی، بمبئی و جناب منشی مصطفیٰ خاں صاحب