میاں بیوی کے مالک نصاب ہونے کی صورت میں قربانی اور عقیقہ کے مسائل
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین حسب ذیل مسائل میں کہ (1) ایک شخص مالک نصاب ہے اور قربانی اپنی بیوی کے نام سے کر رہا ہے جبکہ کسی اور جانور میں حصہ بھی نہیں لے رہا ہے اور بیوی الگ نہیں ہے ، ایک ہی جگہ ہیں، مہر بھی بیوی نے وصولی نہیں کیا ہے ۔ اس صورت میں قربانی بیوی کی طرف سے ہو سکتی ہے یا نہیں ؟ اور شوہر کی واجب قربانی ہو جائے گی یا نہیں ؟ (۲) ایک شخص اپنے مرے ہوئے باپ کے نام سے قربانی کرتا ہے یا اپنے نابالغ بچے کی طرف سے کرتا ہے، خود مالک نصاب ہے، خود حصہ اپنا نہیں لے رہا ہے۔ اس کے بارے میں ہمارے علماء کیا فرماتے ہیں ؟ (۳) کیا قربانی کے جانور میں عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور لڑکے کی طرف سے دو حصہ ہی لینے ہونگے اور لڑکی کی طرف سے ایک حصہ۔ اپنا حصہ بھی لینا ہو گا یا نہیں ؟ جبکہ مالک نصاب نہیں ہے اور اگر ہے تو کیا کیا جائے ؟ المستفتی: مولانا جمیل احمد اجملی، صدر مدرسہ اہل سنت حمایت الاسلام موضع کرائی ، پٹھانوں والی پوسٹ گھرولہ تحصیل جپور
تكملة (1) شوہر پر اگر قربانی واجب ہے تو اسے لازم ہے کہ پہلے اپنے واجب سے عہدہ بر آہو، پھر جس کی طرف سے چاہے قربانی کرے، مگر جبکہ بیوی پر قربانی واجب ہو تو اس کی اجازت لازم ورنہ قربانی نہ ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اس پر لازم ہے کہ اپنی طرف سے قربانی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) کر سکتے ہیں جبکہ جانور گائے یا بھینس یا اونٹ ہو اور آدمی اگر مالک نصاب ہے تو اس پر قربانی لازم ہے۔ لہذا ایک حصہ وہ اپنے لئے لے اور عقیقہ میں اختیار ہے، اگر چہ لڑکے کے لئے افضل یہ ہے کہ دو صہ لے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله یکم ر ذوالحجہ ۱۴۰۲ھ