ایک مسجد میں عیدین کی متعدد جماعتوں کا حکم
کیا ایک مسجد میں جمعہ و عیدین کی چند جماعتیں ہو سکتی ہیں؟ ۲۵/ ذی قعدہ ۱۴۰۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ (1) ہماری مسجد میں مقتدیوں یعنی نمازیوں کی اس قدر کثرت ہوتی ہے کہ عیدین کی نماز میں ایک جماعت سے کام نہیں چلتا بلکہ تین تین چار چار جماعتوں کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا عیدین میں چند جماعتیں کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ چند جماعت ہونے کی صورت میں ہر جماعت کا امام اور خطبہ الگ الگ ہو گا یا
الجواب: کر سکتے ہیں بشرطیکہ امام ماذون به اقامت جمعہ و عیدین نماز پڑھائے اور ہر جماعت کے لئے علیحده خطبه و مستقل امام ضروری ہے ۔ جو ایک بار جمعہ یا عیدین پڑھا چکا وہ دوسری جماعت کا امام نہیں بن سکتا اور حتی الامکان تعدد جماعت سے بچیں۔ آدمی زیادہ ہوں تو ایک دوسرے کی پشت پر سجدہ کر لیں، پھر بھی بیچ رہیں تو دوسری مساجد میں چلے جائیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو دوسری جماعت کے لئے عذر ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ۷ار ذی قعدہ ۱۴۰۲ھ