کافروں کے تہوار پر روپیہ لے کر ذبیحہ بند رکھنا اور غیر مسلموں کے مذہبی مقامات کی امداد کا حکم
کافروں کے تہوار پر روپیہ لے کر ذبیحہ بند رکھنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس متعلق کہ (1) قصاب نے جن ہندؤں کے تیوہاروں میں ان سے روپیہ لے کر دس دن تک ذبیحہ بند رکھا کیا ایسے قصاب کے ہاتھ ذبیحہ کھانا درست ہے یا نہیں ؟ (۲) ایک مسلمان نے مسجد مدرسہ کور تم دی مگر اس نے ہند اس کے گوشالہ کو بھی پیسے دیئے جہاں پر ایک مندر بھی ہے جو خالص ہندوس کی مذہبی جگہ ہے ایسے شخص کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے ؟ (۳) دسہرا کے میلے میں مسلمان اپنے کاروبار کی ایڈور ٹائز لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ کرائے اور خود میلے
میں جائے اس کا کیا حکم ہے؟ الجواب: المستفتی: عنایت رضاخاں رضوی فلور میل، جودھپور ، ڈاکٹر امبیڈکر روڈ، جام جودھپور ، سوراشٹر (1) وہ قصاب سخت گناہ گار مستوجب نار ہے ، تو بہ کرے ورنہ ہر واقف حال مسلمان زجرا اس سے لین دین بند کر دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) سخت گناہ گار مستوجب نار خائن کفر پر مدد گار ہے ، تو بہ کرے ورنہ ہر واقف حال مسلم اسے چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) تجارت کے لئے ان کے میلے میں جانا جائز ہے مگر خاص محافل شرک سے دور رہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح۔ واللہ تعالی اعلم بہاءالمصطفیٰ قادری