نماز میں جھومنے اور وہابیوں سے میل جول رکھنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید سنی کی مسجد کا امام ہے اور وہ نماز میں قرآت کے وقت بہت جھومتا ہے اور وہابیوں سے میل جول رکھتا ہے اور ان سے خوش خلقی سے بات کرتا ہے۔ آیا اس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں ؟ حرام ہے یا مکروہ ؟ برائے مہربانی مذکورہ بالا سوالات کا جواب جلد از جلد روانہ کرنے کی مہربانی کریں، سخت ضرورت ہے! المستفتی: سید احمد شاہد علی قادری حبیبی دھارا وی کملا نہرو نگر ، روم نمبر ۳۰۴۰۸ بی ایم سی، بمبئی۔۱۰۰۰۱۷
الجواب: نماز میں جھومنا مکروہ و ناجائز ہے۔ حدیث شریف میں اس سے ممانعت وارد ہوئی اور وہابیت سے میل جول حرام بد کام بد انجام ہے۔ جس پر یہ امور شرعا ثابت ہوں، فاسق معلن على الاقل ہے ، اسے امام بنانا گناہ اور اس کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے۔ غنیہ میں ہے: "لو قدموا فاسقا ياثمون بناء على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم (1) در مختار میں ہے: "كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها "(۲) تكملة سی اس صورت میں ہے کہ زید سٹی صحیح العقیدہ ہو اور وہا یہ کو مسلمان نہ جانتا ہو، اور نہ اس کے پیچھے نماز وہابیہ کی طرح باطل محض ہے۔ کفایہ میں ہے: " اما الكافر فلا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل "(۳) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۹/ ذی قعدہ ۱۴۰۲ھ