جزئیہ "من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر" کے اطلاق کی لزومی و التزامی کفر میں تحقیق
نحمده ونصلى على رسوله الكريم کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان ذوی الاحترام صائہم اللہ تعالی عن كل المصائب والآلام درج ذیل مسئلہ میں کہ جزئية "من شك في كفره وعذابه فقد كفر “ دائرہ وسائرہ بین الفقہاء والمتکلمین کا استعمال کافر بکفر التزامی کے کفر میں شاک کے لئے ہی خاص ہے یا عند الفقہاء کافر بکفر لزومی کے کفر میں شاک کے لئے بھی استعمال جائز و درست ہے ؟ زید کہتا ہے کہ جزئیہ مذکورہ کا استعمال کفر لزومی کے شاک کے لئے عند الفقہاء جائز و درست ہے قطع نظر اس سے کہ ان کا مسلک خلاف احوط ہے مگر ہے وہی ان کا مسلک اور یہ جواز عقلا ونقلا ہر طرح ثابت ہے۔
دلائل نقلیہ: (اول) امام الائمہ سراج الامہ سید نا الامام الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے عقائد کریمہ کی کتاب مطہر فقہ اکبر میں فرماتے ہیں: "صفاته تعالى فى الاول غير محدثة ولا مخلوقة فمن قال انها مخلوقة او محدثة او وقف فيها او شك فيها فهو كافر بالله تعالى" اس میں کفر لزومی کے لئے فرمایا گیا کہ ”او شك فيها فهو كافر بالله تعالى (ثانی) سیدی علامہ فضل حق خیر آبادی رحمتہ اللہ علیہ نے اسمعیل دہلوی کی تکفیر فقہی فرمائی اور شاک کی تکفیر کے لئے یہ جزئیہ استعمال فرمایا۔ تحقیق الفتویٰ خلاصہ فتوی میں ہے: قائل این کلام از روئے شرع مبین بلا شبہ کا فرو بے دین است ہرگز مومن و مسلمان نیست و حکم او شرعا قتل و تکفیر است و ہر کہ در کفر او شک آور دو تردد دارد دیا ایں استخفاف راسہل انگارد کا فرو بے دین نامسلمان است عاشق رسول مولانا شاہ فضل رسول بدایونی قدس سرہ نے سیف الجبار میں یہ خلاصہ فتویٰ نقل فرمایا اور بعد میں فرمایا مہریں اور دستخطیں اکثر علماء کی اس پر ثبت ہوئیں۔ چنانچہ فتویٰ کے آخر میں ۷ارسترہ علمائے کرام کے دستخط ثبت ہیں اور بعض نے تحریر فرمایا: " لما قالت ونظرت فيه من دعاء وجوهها وغيرها نظر الانصاف من غیر العناد والاعتساف وجدته حقا لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه فنحمت عليه" ( ثالث) تحقیق الفتویٰ میں ہے: ہر کہ از و هیچک از موجبات کفر اصدار یا بد بلا تامل تکفیر آن کردہ شود و او بلاریب کافر است و ہر کہ در کفر آن شک کند ادہم کا فراست ملتقطا“ دلائل عقلیہ: (اول) المعتمد المستند زیر متن المعتقد ، ص ۱۲۲۵ میں ہے: تکملة والقول بخلق القرآن فذهب جماعة الى تکفیر ھم“ کے تحت فرماتے ہیں: والقائلون بهذا ايضا اكابر اهل السنة لم يفرقوا بين اللزوم والالتزام" جب عند الفقهاء لزوم و التزام میں فرق نہیں اگر چہ فی الحقیقت فرق ہے تو گویا لزوم والتزام ان کے نزدیک کوئی چیز نہیں تو پھر ان کے نزدیک التزامی کے ساتھ اختصاص کیسا؟ لاجرم ہر اُس کفر کے لئے استعمال فرمائیں گے جس پر تکفیر فرماتے ہیں ؟ (ثانی) شاک کی تکفیر بایں وجہ ہوتی ہے کہ کافر کے کفر میں شک کرناضروریات دین میں شک کرنا ہے۔ تحقیق المفتوی میں ہے: ” چه شک و تردد او در تکفیر این چنیں کس شک و تردد در ضروریات دین است“ اب مسلک فقہاء کا عامل مرتکب لزومی کی تکفیر میں شاک ہو تو یہ ضروریات دین میں شاک ہوا الہذاوہ یقینا اس کی تکفیر کے لئے جزئیہ مذکورہ استعمال فرمائیں گے ۔ (ثالث) جب فقہا نے مرتکب لزومی کی اکفار کی تو حدیث پاک ”امیار جل قال لاخیہ یا کافر فقد باء بھا احدھما کے مطابق کسی پر کفر ضرور عود کرے گا۔ ظاہر ہے کہ مرتکب لزومی پر عائد ہو گا، اب اگر اس کے شاک کی تکفیر نہ کریں تو اس کی وجہ سے کفر خود انہی پر عود کرے گا۔ (رابع) جزئیہ کا مفاد کفار شاک ہے اور مسلک فقہاء کے عامل کا مرتکب لزومی کی تکفیر میں شک کرنا کفر التزامی ہے اگر چہ خود مرتکب کا کفر لزومی ہے پھر اس شاک کی تکفیر کے لئے استعمال جزئیہ کے عدم جواز کی کیا وجہ ہے؟ بکر کہتا ہے کہ جزئیہ ” من شك الى آخره " دائره وسائرہ بین الفقہاء والمتکلمین کا استعمال مرتکب التزامی کے شاک کے لئے خاص ہے ، مرتکب لزومی کے شاک کے لئے جائز و درست نہیں ورنہ متکلمین عند الفقہاء لازم آئے گی۔ جزئیہ مذکورہ اور کفر التزامی میں تساوی فی اتحقیق کی نسبت ہے۔ دلیل عقلی: ”من شك“ موجبہ کلیہ ہے ، یہ بدیہی ہے اور اس کی نقیض سالبہ جزئیہ آتی ہے ، یہ سفیر بھی بدیہی ہے، مثلاً ” بعض الشاك في كفر اسمعيل ليس بكافر كاننا البريلوى عليه رحمة الباری“ اب اگر لزومی کے لئے جائز ہو تو دونوں میں تناقض ور نہ خرق بداہت لازم آئے گا۔ علامہ نے تحقیق الفتویٰ میں استعمال فرمایا یا یہ ان سے تسامح ہوا کہ جزئیہ مخصوص بکفر التزامی تھا انہوں نے لزومی کے لئے استعمال فرما دیا، اس سے تکفیر جملہ مومنین لازم آتی ہے لہذا اس استحالہ خارجیہ کی وجہ سے اس کی تاویل یہ کی جائے گی (کفر مبین کو کفر نہ سمجھنا اور اس کے قائل کو کفر متبین پر محمول کرتے ہوئے کافر جہنمی نہ جاننا یقینا قطعا اجماعا کفر ہے )۔ رہا امام الائمہ کا ارشاد گرامی تو اس سے لزومی کے لئے استعمال جزئیہ کا جواز ثابت نہیں ہو سکتا۔ امام کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں فرماتے پھر حضرت بحر العلوم نے فرمایا کہ معنی ظاہر پر رہے گا تو تکفیر اشاعرہ لازم آئے گی لہذا اپنے ظاہری معنی سے معدول ہے۔ زید کہتا ہے کہ لزومی کے لئے استعمال کی صورت میں تکفیر متکلمین لازم نہیں آتی ہے کیونکہ مسئلہ تکفیر تحقیقی ہے تقلیدی نہیں اس لئے اگر کوئی محقق کلام و متکلم اور تکلم میں سے کسی میں کوئی احتمال پائے جس کے سبب کف لسان کرے تو وہ محقق مکفر کے نزدیک کافر نہ ہوگا کہ اعتبارات ووجوہات مختلف ہیں۔ ثانیا: مرشد بر حق قطب عالم سر کار مفتی اعظم ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ عنانے ایک متکلم کی حیثیت سے فرمایا ہے کہ یہی وہ کافر ہے کہ اس کے کفر میں شک کرنا بھی کفر ہے۔ حضرت کی تحریر مبارک سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ جزئیہ کا استعمال عند الفقہاء بھی التزامی کے ساتھ خاص ہے بلکہ فتاویٰ مصطفویہ جلد اول، ص ۸۳ / میں یہ فرماتے ہیں: وہ کسی کفر کے نہ مرتکب ہیں نہ کسی کو اس کے کفر الترامی کے باوجود یا اس کے ایسے کفر پہ جو معلوم ہو کہ اس نے کفر ہی کے لئے یہ قول کیا ہے اسے مسلمان سمجھتے ہیں تو ایسے لوگوں کو کافر کہنے والا جو بطور سب و شتم نہ کہتا ہو بلکہ ان کے کفر کا معتقد ہوان کی تکفیر کو حکم شرع جانتا ہو خود بحکم حدیث کافر ہو گا لاستقطا“ وو اس سے بطور مفہوم مخالف معلوم ہوا کہ مرتکب لزومی کو یہ جانتے ہوئے کہ اس نے وہ قول کفر کے لئے کیا ہے اس کے کفر میں شک کرنے والا اس کو کافر نہ ماننے والا خود کافر ہے۔ عند الفقهاء صریح مقابل کنایہ خواہ احتمال بعید رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو محتاج نیت نہیں یہ غایت وضوح و ظہور میں ہونے کے سبب اپنے معنی کے قائم مقام ہوتا ہے تو اس کلام کا متکلم ہوا ماھو مصرح فی کتب الاصول ۔ تو مر تکب لزومی کی تکفیر بایں وجہ ہوئی کہ وہ معنی کفری کا قائل ہوا۔ اب اسی قسم کے شاک کی تکفیر کے لئے جزئیہ مذکورہ استعمال فرماتے ہیں۔ ثالث، بکر کا کہنا ہے کہ ”من شک۔ الخ کلیہ ہے مسلم اگر بلا تاویل نظر علم میں بدیہی البطلان بھی ہے۔ دلیل: ”شاک فی کفر الکافر کی کئی قسمیں ہو سکتی ہیں، وضوح مقصد کے لئے چار پر بس کرتا ہوں۔ (۱) کفر کافر پر اطلاع قطعی یقینی کے باوجود شاک ہو۔ (۲) کفر کافر پر بوجود اطلاع ظنی شاک ہو۔ (۳) عمرہ کافر ہے مگر کلام کفر لزومی ہے، بکر مال کلام اور معنی متبعین کو مراد ٹھہراتے ہوئے تاویل بعید و صحیح کو نا مقبول مانتے ہوئے عمرو کے کفر میں شاک ہو۔ (۴) خالد مال کلام سے صرف نظر اور تاویل بعید کا اعتبار کرتے ہوئے عمرو کے کفر میں شاک ہو کہ ممکن ہے اس کی مراد معنی بعید ہی ہو۔ اب مفاد كليه كل شاك في كفر الكافر كافر “كاموضوع جميع اقسام اربعہ کے افراد کو عام ہو گا توسب کی تکفیر لازم آئے گی حالانکہ ثانی اور رابع کے افراد بالا جماع کافر نہیں تو موضوع عام اور محمول خاص ہوا اور عام من حیث العام پر خاص کا حمل بدیہی البطلان ہے۔ مثل کل حیوان انسان، اگر یہ بطلان غیر مسلم ہو تو التزامی کے ساتھ اختصاص ہو یا لزومی کے لئے جواز بہر صورت تکفیر بعض مومنین لازم آئے گی تو استحالہ خارجیہ دونوں صورتوں میں موجود ۔ لہذا ” من شك - الخ “ اگر کلیہ ہے اور یقینا کلیہ ہے تو بہر تقدیر موکول ہے۔ فاقول : من شک الخ، بایں اعتبار کہ وہ جزئیہ کلامیہ ہے تقدیر عبارت یہ ہوتی "من شك في كفره وعذابه مطلعا على كفره اطلاعاً قطعاً فقد کفر “اور بایں اعتبار کہ وہ جزئیہ فقہیہ ہے ، عبارت یہ ہوگی: ” من شك في كفره و عذابه مطلعاً على كفره اطلاعاً قطعياً حاملاً كلامه على معناه المتبين او غير قابل تاويله الضعيف او عاملاً بانه قال قاصدا بكفر او عاملاً بمسلك الفقهاء فقد كفر “ تو اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر متکلمین جو اسمعیل دہلوی وغیرہ مرتکبین لزومی کی تکفیر سے کف لسان فرماتے ہیں اس جزئیہ فقہیہ کے تحت داخل نہ ہوں گے۔ بکر کا یہ کہنا کہ امام الائمہ سید نا الامام الاعظم علی ان کی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں فرماتے ، حضرت امام پر سخت افتر او اتہام ہے۔ فاضل بریلوی قدس سرہ القوی تمہید ایمان ص۲۶ میں فرماتے ہیں : ثانیا اس وہم شنیع کو مذہب سید نا امام اعظم بتانا حضرت امام پر سخت افترا و اتہام ہے“ حاشیہ پر بطور عنوان فرماتے ہیں: یہ امام اعظم پر افترا کرتے ہیں، امام کا مذہب یہ ہے کہ کسی قطعی بات کا منکر کافر ہے ، اگر چہ اہل قبلہ ہو“ اور لطف یہ ہے کہ دلیل میں یہی نص پیش فرماتے ہیں جس کی تردید کے طور پر بکر کہتا ہے کہ امام اعظم کسی اہل قبلہ کی تکفیر نہیں فرماتے۔ "لا نكفر احدا من اهل القبلة“ کا کیا مطلب ہے کہ کتب کلام میں مشرح۔ یہاں تحقیق الفتویٰ کی عبارت پیش خدمات ہے ۔ ص ۴۳۱ ر میں ہے: "لا نكفر احدا من اهل القبلة" یعنی تکفیر نمی کنیم کسے را که از اہل قبله است که در کتب عقائد مذکور است کلیه نسبت بلکہ مخصوص است بایں کہ اہل قبلہ کہ با نکار ضروریات دیں نپردازند و ایشاں ہیچک واز آثار و علامات کفر ظاہر و هیچک از موجبات کفر صادر نہ شود و ہر کہ چیزی را از ضروریات دین انکار کند یا از واثرے و علامتے از آثار و علامات کفر اظہار یا ہیچک از موجبات کفر اصدار یابد بلا تامل تکفیر آن کردہ شود و او بلاریب کافر است و ہر کہ در کفر آں شک کند او همه کافر است چه شک و تردد او در تکفیر ایں چنیں کس شک و تردد و در ضروریات دین است و هر که ر ضروریات دین شک آورد و تردد دارد بلاشک و تردد کافر است۔ "صفاته تعالی فی الازل-الخ "سے تکفیر اشاعرہ لازم نہیں آتی کیونکہ اس نص میں جو کچھ بحث ہے صفات از لیہ پر ہے اور ان کو اشاعرہ مخلوق و محدث نہیں مانتے۔ رہا یہ کہ وہ صفات فعلیہ کو حادث کہتے ہیں تو یہ نزاع لفظی ہے۔ سیدی العلام ملاعلی قاری علیہ رحمتہ الباری شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں: "فمذهب الماتريدى انها قديمة ومذهب الاشاعرة انها حادثة والنزاع لفظى عند ارباب التدقيق كما تبين عند التحقيق" حقیقہ وہ صفات باری کو کیا مانتے ہیں؟ سیدی العلام عبد العزیز پر ہاروی قدس سرہ النبر اس میں فرماتے ہیں: واحتج الاشاعرة على الكرامية بوجوه الاول. لو كان الحدث نقصا فقيامه بذاته تعالى محال وان كان كمالاً فالخلو عنه قبل حدوثه محال والثاني لوجاز ذلك لجاز وجود الحوادث فى الازل لان القابلية من لوازم الذات والا لزم انقلاب الامتناع الذاتی بالامكان الذاتي وهو محال ووجود الحوادث في الازل باطل والثانی لو قام به الحوادث للزم التغير في ذاته تعالى وهو محال" ان تصریحات کے ہوتے ہوئے تکفیر اشاعرہ کیسے لازم آئے گی ؟ ہاں تکفیر کرامیہ ضرور لازم آتی ہے۔ فانھم جوزوا قیام الحوادث بذاته تعالى كما هو مبسوط في كتب الكلام قال في شرح العقائد وله صفات ازلية لا كما يزعم الكرامية ان له صفات حادثه ملتقطاً تعالى الله عما يزعم الجاهلون علواً كبيراً۔ رہا سیدی بحر العلوم کا ارشاد گرامی "ومع هذا تکفیر اشاعره لازم می آید تو یہ اس صورت میں ہو گا جب ظاہر اختلاف کو دیکھا جائے گا کہ وہ بعض صفات کو حادث کہتے ہیں امر واقعیہ سے صرف نظر کر لیا جائے۔