لفظ بھگوان کے لغوی معنی اور اس کے استعمال کا شرعی حکم
سوال
لفظ "جنگوان عکس زبان کا لفظ ہے اور کیا معنی ہے ؟ مکرمی با تسلیم انتساب سائل صرف یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ لفظ ”بھگوان کس زبان سے مستعار ہے اور اس لفظ کے صحیح معنی کیا ہیں ؟ جبکہ اہل ہنود عمود بھگوان سے مراد اپنے تئیں خدا لیتے ہیں، براہ کرم مکمل وضاحت کیجئے۔ اگر لفظ بھگوان کے لغوی معنی سے لاعلم ہونے پر کسی اہل ہنود سے گفتگو کے دوران کوئی مسلمان بھگوان اور خدا میں تفریق نہیں کر سکا تو آیا وہ مسلمان کافر ہو گیا یا گنہ گار ہوگیا یا تو بہ کا حق ہو گیا ؟ جواب سے نوازیں۔ المستفتی بشفیق احمد خاں، کوہاڑا پیر، بریلی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
”خدا“ اور ”بھگوان“ میں فرق ظاہر ہے، خدا معبود برحق ہے اور بھگوان مشرکوں کا معبود باطل ہے۔ خدا اور غیر خدا میں تفریق نہ کرنا کفر ہے جس سے توبہ و تجدید ایمان لازم ہے ۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۲ · صفحہ ۲۹–۳۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
ہنود اور سکھوں کی شادی میں شرکت اور ان کے ساتھ کھانے پینے کا حکم
باب: تکملہ
زندگی میں جائیداد کا مالک بنانا اور بیوہ کی پرورش کی شرط کا شرعی حکم
باب: تکملہ
غیر مقلدین کے عقائد، سنیوں سے ان کے نکاح، وراثت اور نماز جنازہ میں شرکت کا حکم
باب: تکملہ
دھات کی چین دار گھڑی پہننے اور اس میں نماز پڑھنے کا شرعی حکم
باب: تکملہ
جزئیہ "من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر" کے اطلاق کی لزومی و التزامی کفر میں تحقیق
باب: تکملہ