ہنود اور سکھوں کی شادی میں شرکت اور ان کے ساتھ کھانے پینے کا حکم
(۱۹) ہنود اور ہنود اور سکھوں کی شادی میں شرکت کرنا، ان کو دینا لینا، ان کے یہاں کھانا کھانا کیسا ہے ؟ المستفتی: حاجی امیر احمد مصطفوی رضوی موضع کر گیاں ، ڈاکخانہ خاص ضلع پیلی بھیت
الجواب: (1) وکیل مذکور اگر ولی اقرب کا فرستادہ تھا تو کھانسنے کی ضرورت بھی نہ تھی، محض اس کی خموشی کافی تھی جبکہ لڑکی کنواری ہو اور اگر ولی اقرب نہ تھا یا لڑکی ثیبہ تھی اور یہ اس کا دوسرا نکاح تھا تو صریح اذن ضروری تھا ، بغیر صریح اذن نکاح اس کی اجازت پر موقوف رہا، اس نے جائز کر دیا تو جائز ہو گیا ورنہ نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید پر لازم ہے کہ حتی الوسع اپنی بیوی کو اس ملازمت سے باز رکھے اور بے پردگی سے روکے ۔ باقی عورتوں کی بے پردگی سے اسپر الزام نہیں جبکہ حتی الوسع ان سے بچتارہا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نماز جنازہ منع ہے اور فاتحہ دینا جائز ہے، اگر چہ بہتر یہ ہے کہ اس وقت تلاوت نہ کرے اور قبر پر اذان دینا جائز ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ہاں، خلاف اولیٰ ہے، لہذ اذکر کرتار ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) اکیلا جماعت کیسے کرے گا؟ اور قضاء عمری جماعت سے ہو سکتی ہے جبکہ جماعت کی نمازیں قضا ہوئی ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) زید کو وقتی نمازوں سے پہلے قضا کا اختیار ہے جبکہ وقتی نمازیں فوت نہ ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) اس اذان کا جواب واجب نہیں اور قرآن کریم سننے کے لئے بیٹھے ہوں تو سننا ضرور ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) فی الواقع تہبند سر سے پاؤں تک ہونا چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹) دیواروں کے بوسہ میں حرج نہیں، البتہ زمین بوسی سے بچے اور ماتھا نہ مارے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) حرام بد کام کفر انجام۔ اس پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کرے ورنہ ہر واقف حال پر اس سے بیزاری فرض ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (11) ناجائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۲) ٹھیک ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۳) سیدی دوسرے بزرگوں کو کہنا بھی جائز ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۴) فتویٰ جواز اور تقویٰ احتراز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۵) جو زیادتی کفار زمانہ سے ملتی ہے وہ سود نہیں ، خالص مباح ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۲) سنی قصائی کا ذبیحہ جائز ہے اور میری نظر سے اور نگ زیب علیہ الرحمہ کا فتویٰ نہ گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۷) منع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۸) قربانی ہو گئی ، قیمت کو صدقہ کر دیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۹) ناجائز ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۱۸/ شوال المکرم ۱۴۰۲ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی