دھات کی چین دار گھڑی پہننے اور اس میں نماز پڑھنے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں فقیر دھات کی چین دار گھڑی پہنانا جائز و حرام سمجھتا ہے اور اس کو پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ جانتا ہے جیسا کہ فتاویٰ علمائے اہل سنت سے ظاہر ہے۔ اس بارے میں حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کا مصدقہ فتویٰ ماہنامہ استقامت اولیاء نمبر جلد دوم شماره بابت جنوری فروری ۱۹۷۸ء، ص ۲۵ پر شائع ہو چکا ہے اور دیگر مفتیان کرام کے فتاویٰ بھی وقتا فوقتا اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی احکام شریعت اور الملفوظ کے حوالہ سے جرائد اہل سنت میں شائع ہوتے رہتے ہیں کہ دھات کی چین گھڑی میں پر لگا کر پہنا حرام و ناجائز ہے اور اس کو پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے۔ حال میں ایک فتویٰ نظر سے گزرا جس کی نقل اس استفتاء کے ساتھ منسلک ہے جس میں مفتی صاحب قبلہ مدظلہ العالی نے چین دار گھڑی باندھنا جائز اور باندھ کر نماز پڑھنا بلا کراہت درست فرمایا ہے اور تحریر فرمایا ہے کہ "" اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے الطیب الوجیز میں فرمایا ہے کہ پس بچنا ہی بہتر ہے۔ بعض لوگ اس سلسلہ میں اعلیٰ حضرت قدس سرہ کا حوالہ دیتے ہیں کہ انہوں نے اسے ناجائز فرمایا ہے اور حوالہ میں احکام شریعت اور الملفوظ پیش کرتے ہیں ، ان دو مذکورہ کتب کے بارے میں
تكلم حضرت مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ الملفوظ کا جو حال ہے وہ اہل علم سے مخفی نہیں، اس میں سیکڑوں غلطیاں اب تک مل چکی ہیں اور احکام شریعت ایک میلاد خواں کی جمع کردہ ہے ، یہ دونوں کتابیں اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے وصال کے بعد چھپی ہیں، اس کے برخلاف الطيب الوجیز اعلیٰ حضرت کے عہد میں چھپی ہے اس لئے اس میں غلطی کا امکان نہیں ہے ۔ اس وجہ سے خادم اس پر فتویٰ دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اسٹیل کی یہ چین جو آب کلائی پر باندھی جاتی ہے، اعلیٰ حضرت کے زمانے میں نہیں تھی، اعلیٰ حضرت کے زمانہ میں جیبی گھڑیوں میں چین لگائی جاتی تھی، اس کے بارے میں ان دو کتابوں میں حکم ہے، اس کے بارے میں بہار شریعت میں بھی ہے اس لئے اس کے ناجائز ہونے پر اعلیٰ حضرت کی کسی کتاب یا بہار شریعت کا حوالہ دینا بے محل ہے۔ حالانکہ انہی مفتی صاحب قبلہ مدظلہ العالی کا فتویٰ آج سے تقریباً ۱۹ سال قبل ماہنامہ نوری کرن بریلی شریف میں شائع ہو چکا ہے۔ مفتی صاحب قبلہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ چین باندھ کر نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے اور اسے باندھنا ناجائز و گناہ ہے۔ چاندی کا بٹن لگانے میں کوئی حرج نہیں اور بٹن کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم كتبه: محمد شریف الحق امجدی /۳۰/ جمادی الاول ۱۳۸۲ھ حضرت مفتی صاحب قبلہ اپنے فتویٰ میں تحریر فرماتے ہیں کہ بہار شریعت میں بھی جیبی گھڑی کی چین کے بارے میں حکم ہے حالانکہ حضرت صدر الشریعہ و بدر الطریقہ علیہ الرحمہ کے فتاویٰ مبارکہ کی جلد اول بنام فتاویٰ امجد یہ منظر عام پر آچکی ہے جس کا حاشیہ حضرت مفتی صاحب ہی نے تحریر فرمایا ہے، حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا صریح فتوی دستی چین کی کراہت کے بارے میں موجود ہے، سوال و جواب ملاحظہ فرمائیں۔