وصیت کے مطابق بچی ہوئی رقم کے استعمال اور ملکیت کا حکم
سوال
اب اس کی میراث بچی ہوئی ہے (صدقہ فطرہ، زکوۃ) اور مرنے کے قبل جس کے یہاں رہتی تھی، ان کے لئے کہتی تھی کہ بیٹا جو میرا روپیہ پیسہ بچا ہوا ہے اس پیسہ سے میری کی قبر بنادیا اور جو بچے تم اپنے کام میں لانا اس لئے کہ تم لوگوں نے میری خدمت کی ہے۔ تو آپ یہ بتائیں کہ یہ پیسہ مسجد میں لگ سکتا ہے یاوہ شخص اپنے کاروبار میں لگا سکتا ہے ؟ اس مسئلہ کا جواب مفصل طریقے سے عنایت فرمائیں۔ فقط !
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: اگر واقعہ یہ ہے کہ اس عورت نے بقیہ مال کی وصیت اس کے لئے کی تھی تو وہ شخص حسب وصیت اس کا مالک ہو گیا، اسے اختیار ہے جو چاہے کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۲۶ / رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۲ · صفحہ ۱۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
منکوحہ غیر کو اپنے پاس رکھنے والے سے میل جول رکھنے کا شرعی حکم
باب: تکملہ
نماز تراویح میں لاؤڈ اسپیکر اور مکبر کے استعمال کا شرعی حکم
باب: تکملہ
دھات کی چین دار گھڑی پہننے اور اس میں نماز پڑھنے کا شرعی حکم
باب: تکملہ
محفل میلاد کی فضیلت اور اس میں شرکت کے حوالے سے سوال
باب: تکملہ
قبلہ سے کس قدر انحراف مفسد نماز نہیں؟
باب: تکملہ