محفل میلاد کی فضیلت اور اس میں شرکت کے حوالے سے سوال
محفل میلاد مسبط برکت و منزل رحمت ہے! علمائے دین و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے سلسلہ میں کیا فرماتے ہیں (۱) جبکہ جمہور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جس سرزمین پر محفل میلاد منعقد ہو تو وہاں پر ملائکہ کا نزول اور گھنگور رحمتوں کی بارش ہوتی ہے اور جو لوگ شریک ہوتے ہیں ان کی تقصیر معاف کر دی جاتی ہے مگر آج یہ دیکھا جا رہا ہے کہ اپنے کو بڑے علماء کہلاتے ہیں، وقت مقررہ پر سرزمین محفل میں شرکت نہیں کرتے اور نرم بستروں پر پڑے رہتے ہیں۔ کیا ان کے نرم بستروں پر مخصوص رحمتوں کا نزول ہوتا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو زمانہ بہت ہی عروج پر ہے اور ہر شخص بستروں پر رہ کر لاؤڈاسپیکر اور دوسرے آلہ کاروں سے استفادہ حاصل کر سکتا ہے ؟ محفل میں شرکت کرنا ضروری امر نہیں ؟ کتاب و سنت کی روشنی میں یہ فعل احسن ہے یا نہیں ؟ (۲) بعض بڑے علما کا دستور بن چکا ہے کہ وقت معینہ پر اسٹیج پر تشریف نہیں لاتے ہیں، جب ان کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس وقت اسٹیج پر مجمع خوب جمع ہو گیا ہے، تب وہاں سے نکل کھڑے ہوتے
ہیں کہ ایسے موقع پر میرا پُر جوش طریقہ پر استقبال ہو گا اور مولانا زندہ باد کا نعرہ بلند ہوتارہتا ہے اور لوار مجمع اسی میں پڑ جاتا ہے۔ بیچارے مقامی علماء منھ دیکھتے رہ جاتے ہیں کہ یہ کون سی ناگہانی آفت ہمارے اوپر ٹوٹ پڑی کہ کتاب و سنت کی روشنی میں جو میں کہ رہا تھا اس کو روک کر کے لوگوں کو لہو و لعب میں مبتلا کر دیا۔ کیا ایسے انا کو نسر اور علماء کا مقام کتاب و سنت سے بڑھ کر ہے ؟ یہ حضرات ثواب کے مرتکب ہوں گے یا عذاب کے ؟ (۳) مقررین علماء کی ایک جماعت لن ترانی کے لئے کمر بستہ ہے، اس کو جو وقت دیا جاتا ہے کہ اتنے وقت میں اپنی بات مکمل کر لیجئے، ان سب کے باوجود جب اسٹیج پر پہنچتا ہے تو ہزار ڈینگیں مارنے کے بعد کہتا ہے کہ صاحب وقت پورا ہو چکا ہے اور بات نامکمل وادھوری ہے ، اگر وقت نے ساتھ دیا اور آپ لوگوں نے دوسری بار یاد فرمایا تو ان شاء اللہ مکمل ذکر کرونگا۔ ایسے علماء کا فعل کہاں تک درست ہے ؟ فقط والسلام المستفتی: محمد اسماعیل انصاری، کلاتھ مرچنٹ ، صاحب گنج، فیض آباد الجواب: (1) فی الواقع محفل میلاد مہبط برکت و منزل رحمت ہے، اس میں شرکت مستحب ہے، اسے ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ قصد جس کا سوال میں سائل نے ذکر کیا، نہایت پوشیدہ امر ہے جس پر اطلاع اللہ تعالیٰ پھر اس کے رسول پھر برگزیدہ بندگان خدا کے سوا کسی کو نہیں اور ہمیں بدگمانی سے منع فرمایا گیا ہے۔ حدیث میں ہے: اياك والظن فان الظن اكذب الحديث (1) گمان سے بچ کہ گمان سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔ (1) الصحيح لمسلم ، باب تحریم الظن ، ج ۲، ص ٣١٦، مجلس بركات لہذا بے ثبوت شرعی کسی مسلم کی طرف گناہ کی نسبت حرام ہے۔ احیاء العلوم میں ہے : " لاتجوز نسبة مسلم الى كبيرة من غير تحقيق " (1) پھر علماء کا معاملہ تو زیادہ احتیاط کا ستحق، پھر سائل نے بعض علماء کا وہ فعل اس قصد بے ہودہ پر کیونکر محمول کر لیا اور علماء کی آمد کہ خوشی کا موقع ہے اس پر نعرہ تعمیر لگانا جبکہ ذکر کی نیت سے یاذ کر کے ساتھ اعلان آمد ہی مقصود ہو، ہر گز نا جائز نہیں بلکہ مستحسن ہے اور اسے لہو ولعب سے تعبیر کرنا حرام ہے۔ سائل پر توبہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اس بات سے ان پر الزام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۴/ رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف