قبلہ سے کس قدر انحراف مفسد نماز نہیں؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! مندرجہ ذیل مسئلہ پر از روئے قرآن و احادیث وفقہ روشنی ڈالیں کہ علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے متعلق کیا فرماتے ہیں: (1) نقشہ میں مسجد دکھلائی گئی ہے ، وہ ”اب رخ پر بنی ہوئی ہے مگر بعد میں ماہر فلکیات نے اس کا صحیح رخ "ج، د بتلایا ہے۔ (۲) فقہ کا مسئلہ ہے کہ اگر سمت کعبہ سے ۴۵ / ڈگری انحراف ہو تو نماز ہو جاتی ہے، تو کیا صحیح سمت معلوم ہونے پر بھی نماز اب رُخ پر ہی پڑھتے رہنا چاہئے یا صحیح سمت 'ج، د کی طرف رُخ کر کے نماز پڑھنی چاہئے ؟ صفیں کیا درست کر لینی چاہئیں یا نہیں ؟ (۳) ایک مستحب چیز کو ہمیشہ کے لئے ترک کرنا کیسا ہے ؟ (۴) نماز کے لئے جب کھڑے ہوتے ہیں تو منہ سے کیا پڑھنا چاہیئے ؟ بندگی خداوند تعالیٰ کی ، منہ کعبہ شریف کی طرف۔ مگر جب نماز صحیح رُخ چھوڑ کر غلط سمت ”اب کی طرف منہ کر کے ایسا کہتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ غلط بیانی کا مرتکب ہوا۔ تو کیا ایسا خیال کرتے ہوئے ”اب “ کی طرف منہ کر کے اس کی نماز ہوجائے گی یا نہیں ؟ (۵) کیا رخ مسجد صحیح کرنے کے بجائے زر کثیر خرچ کر کے مسجد کے تین اطراف میں برآمدے تعمیر کر ناروپے کا ضیاع نہیں ؟ جواب سے مشکور فرمائیں۔ والسلام محمد اسحاق قریشی ، مکان نمبر ۴۴، اسلام پورہ،لاہور
الجواب: تكملة (۱، ۳،۲) بہتر یہی ہے کہ ”ج، د“ کی طرف رُخ کریں، اگر چہ نماز ”ا،ب“ کی طرف متوجہ ہو کر بھی ہو جائے گی اور صفیں درست کرنا بہت موکد امر ہے اور مستحب کو ہمیشہ کے لئے ترک کر دینا بڑا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نماز ہو جائے گی اور غلط بیانی کا مرتکب نہ ہو گا کہ وہ سمت کعبہ ہے اور تفصیل اس مسئلہ کی فتاویٰ رضویہ ، ج ۳ر میں ہے ، وہاں ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں: حاصل یہ کہ آدمی ٹھیک محاذی کعبہ کھڑا ہوا، اس وقت جو یہ خطوط نکل کر پھیلیں ان کے اندر اندر دونوں طرف کو انحراف روا ہے اور طرفین میں پینتالیس پینتالیس درجہ تک انحراف جائز ہوگا (۱) اسی میں ہے: حتی الوسع اصابت عین صرف مستحب ہے“ (۲)،، مختصر اس کی عبادت درست ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) رُخ سیدھا کرنا چاہئے ، اگر اس میں دقت نہ ہو اور یہ برآمدے کی تعمیر سے اہم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۱ شوال المکرم ۱۴۰۴ھ (1) ملخصا، فتاوی رضویه، رساله هداية المتعال في حد الاستقبال،ج٣،ص٢٤، رضا اکیڈمی (2) فتاوی رضویه، ج۳، ص۳۷، رضا اکیڈمی