مرد کے لئے ستر عورت کی حد اور نیکر پہن کر ہاکی کھیلنے اور دیکھنے کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں اور مفتیان شرع متین کہ (1) مرد کو ناف کے نیچے سے لے کر گھٹنوں تک کے حصہ کو چھپانا کیا ہے ؟ (۲) مرد یہ حصہ کس کے سامنے کھول سکتا ہے ؟ اور اس کو کیا کہا جاسکتا ہے ؟ (۳) پاکی کا کھیل کھیلنا جیسا کہ مروج ہے کہ نیکر پہن کر کھیلا جاتا ہے، ستر عورت کھولنا جائز ہے کہ نہیں ؟ (۴) اس کھیل کو دیکھنا جائز ہے یا نہیں ؟ (۵) لوگوں کی خوشنودی میں ہاکی کا کھیل جو امام صاحب یا مولوی صاحب دیکھنے جائیں تو ان کے لئے کیا حکم شرع ہے ؟ (1) وہ فاسق معلن ہے کہ نہیں ؟ (۷) ان کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ (۸) اگر ان کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے تو اس کا لوٹانا واجب ہے کہ نہیں ؟ (۹) جب تک وہ توبہ نہ کریں ان کے پیچھے نمازیں پڑھی جائیں کہ نہیں ؟ (۱۰) کیا گناہ بالاعلان کی توبہ بھی بالاعلان کی جائے ؟ (1) جاہل نے یہ گناہ کیا اور عالم نے بھی یہی گناہ کیا۔ دونوں کا حکم برابر ہے یا علیحدہ علیحدہ؟ جواب جلد عنایت فرمائیں۔ المستفتیان: مسلمانان پیلی بھیت، محله محمد واصل
الجواب: (۲۱) ناف کے نیچے سے گھٹنوں تک مرد کو چھپانا لازم ہے اور گھٹنے غایت میں داخل ہیں یعنی ان کو چھپانا لازم ہے اور مرد کو یہ حصہ اپنی بیوی اور کنیز کے سواکسی کے سامنے کھولنا جائز نہیں اور جس حصہ کو ڈھکنا ضروری ہے وہ شرعا عورت کہلاتا ہے۔ (۳) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) سخت گناہگار ستحق نار ہوئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) بے شک جبکہ جرم ثابت و مشتہر ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) بر تقدیر صدق سوال و ثبوت جرم ان کی اقتدا مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) حکم گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۹) جب تک تو بہ صحیحہ کے بعد صلاح حال ظاہر نہ ہو، ان کی اقتدا موقوف رکھیں۔ ہندیہ میں ہے: "الفاسق اذا تاب لا تقبل شهادته مالم يمض عليه زمان يظهر عليه اثر التوبة والصحيح ان ذلك مفوض الى راي القاضى ) واللہ تعالیٰ اعلم (۱۰) ہاں۔ حدیث میں ہے: "اذا عملت سيئة فاحدث عندها توبة السر بالسر والعلانية بالعلانية" جب تو گناہ کرے تو اس سے توبہ کر خفیہ کی خفیہ اور علانیہ کی علانیہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (11) عالم زیادہ ستحق عذاب ہے یہاں تک کہ وارد ہوا کہ بد عمل عالم کو بت پرستوں سے پہلے عذاب ہو گا۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ وھواعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ شب ۱۹/ رمضان المبارک ۱۴۰۴ھ (1) الفتاوى الهندية، كتاب الشهادات، الفصل الثاني فيمن لا تقبل شهادته بفسقه ، ج ۳، ص ٤٠٢ ، دار الفكر ، بي، ، بيروت (2) فيض القدير ، ج ١ ، ص ٥٢٠ ، الحديث : ٦٣ ، حرف الهمزة، دار الكتب العلمية، بيروت