وراثت، توہین علما، مسلک اعلیٰ حضرت اور رامائن سے متعلق متفرق سوالات
(۲) زید کے والد نے زید کے دادا کی حیات میں انتقال کیا تواب زید محجوب الارث ہے یا نہیں ؟ (۳) زید نے ایک عالم، حافظ، سید کو منافق کہا۔ ازروئے شریعت زید پر کیا حکم ہے؟ (۴) زید نه تو خود کسی سے بیعت ہے اور نہ کسی سے خلافت حاصل ہے، اس کے باوجود وہ لوگوں کو مرید کرتا ہے۔ اس کا یہ فعل کیسا ہے ؟ اور اس پر کیا شرعی حکم ہے؟ (۵) مولانا احمد رضا خاں بریلوی اور مفتی اعظم مصطفیٰ رضا خاں علیہ الرحمہ کے ذکر سے بیزار ہو کر زید نے مجلس منعقد کرنے والوں کے بارے میں کہا کہ : ”ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ احمد رضاخاں سے پیدا ہیں، صبح سے احمد رضا، احمد رضا سنتے سنتے کان پک گئے اور مسلک اعلیٰ حضرت کوئی چیز نہیں ہے “۔ مذکورہ اقوال کی روشنی میں زید پر کیا شرعی حکم ہے ؟ (1) زید نے رامائن کو کتاب مقدس کہا۔ اس قول پر کیا شرعی حکم ہے؟ (۷) زید بیان حلفی کے ساتھ جھوٹ بولتا ہے۔ اس کے بارے میں شرعی حکم سے مطلع فرمائیں ۔ (۸) سنی باپ اور غالیہ رافضیہ ماں کی اولاد نماز کی امامت کر سکتی ہے یا نہیں ؟ (۹) اس صفحے کی پشت پر شائع شدہ بیان پر جن لوگوں نے دستخط کیے ہیں، ان کے بارے میں شریعت مطہرہ کیا کہتی ہے ؟ قومی آواز ، ۳/ جون ۱۹۹۰ء المستفتی: ڈاکٹر سید محمد امین بڑی سرکار ، پوسٹ مارہرہ ضلع اینه
الجواب، اللهم بداية الحق والصواب: (1) روافض زمانه فضل شیخین کریمین رضی الله عنها و تعظیم صحابه و امانت جبریل و صحت تبلیغ وحی و غیره بہت امور میں منکر دین و مخالف اجماع مسلمین ہیں لہذا ان پر کفر وارتداد کا حکم ہے ۔ سیدی حضرت میر عبد الواحد بلگرامی مورث خاندان مارہرہ کتاب کامل النصاب مقبول بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یعنی سبع سنابل شریف میں فرماتے ہیں: ہیں ملعون سیاه رو که فرموده خداور رسول و اجماع صحابه نپذیرد و عقیده فاسد و تصوری باطل پیش گیرد بجز کفر در کفر و ضلالت در ضلالت نباشد. ملخصا) یہ مفضلہ کے بارے میں فرمایا اور ظاہر ہے کہ یہ روافض پر چسپاں تر ہے کہ بکثرت امور اجتماعی و ضروریات دین کے منکر ہیں۔ نیز فرماتے ہیں: وو ہست اجماع صحابه پیخ دین - مطلع انوار و مفتاح یقین - ہر کہ زین اجماع در انکار شد زوخدا و مصطفی بیزار شد - زود عقده بدبختیش نتواں کشود - راندہ درگاه مولی گشت زانکہ انکار صحابه باصفا - هست انکار خدا و مصطفا بر رقابش طوقہائے لعنت است آنکه راهش بر خلاف سنت ست اسی میں ہے: (۲) واعتقاد ایں رفضه آنست که جمله اصحاب میدانستند که جبرئیل علیه السلام را در تبلیغ وحی غلط شده است و همچنان دیده و دانسته حق پوشی کرده اند و از کلمه حق ساکت مانده بداں سبب سب اصحاب می کنند آرمی راندگان بادیه غوایت و ضلالت را بر شد و هدایت که خواند و گمراہان اور یہ ادباء و شقاوت را راه سعادت اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ روافض جملہ صحابہ کرام پر حق چھپانے کا الزام دہراتے ہیں اور اس لئے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر زبان طعن دراز کرتے ہیں اور ان کا یہ بہتان اساس دین کا بادم ہے کہ وہ عظمت صحابہ کرام ہی سے بری و بیزار نہ ہوئے بلکہ جبریل امین و نبی کریم علیہ السلام کی عصمت و نبوت کے بھی منکر ہو گئے۔ اسی ایک بہتان سے وہ کتنے کفریات کے مرتکب ہوئے پھر قذف عائشہ صدیقہ واعتقاد نقص قرآن وغیرہ اس پر مستزاد ہے ۔ بالجملہ روافض زمانہ اپنے ان عقائد کے سبب کافر و مرتد ہیں۔ ہندیہ میں ہے: "يجب الكفار الروافض فى قولهم برجعة الاموات الى الدنيا وبتناسخ الارواح وبانتقال روح الاله الى الائمة وبقولهم في خروج امام باطن و بتعطيلهم أمر والنهى الى أن يخرج الامام الباطن وبقولهم ان جبريل عليه السلام غلط في الوحى الى محمد صلى الله عليه وسلم دون على بن ابى طالب رضى الله تعالى عنه وهؤلاء القوم خارجون عن ملة الاسلام واحكامهم احكام المرتدين " اور مرتد و مرتدہ کا نکاح عالم میں کسی سے درست نہیں کہ مرتد اصلاً نکاح کرنے کا اہل نہیں۔ در مختار میں ہے: " لا يصلح ان ينكح مرتد او مرتدة احدا من الناس مطلقا" ہندیہ میں ہے: "لايجوز للمرتد ان يتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا كافرة اصلية وكذلك لا يجوز نكاح المرتدة مع احد. كذا في المبسوط " (1) الہند ابر تقدیر صدق سوال وہ عورت مرتدہ تھی جبکہ روافض کے عقائد کفریہ رکھتی تھی یا دانستہ انہیں مسلمان جانتی ہو اور اس زن مرندہ کا نکاح اپنے ہم مذہب رافضی سے بھی درست نہ ہو گا، سنی المذہب سے نکاح درست ہونا کیا معنی۔ ان دونوں کا نکاح نہ ہوا بلکہ بنام نکاح سفاح ہوا اور قربت زنا اور اولاد اولادِ زنا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) زید صورت مسئولہ میں مجوب الارث ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) منافق کہنا کافر کہنے کے مرادف ہے کہ منافق کا فر کی ایک قسم ہے اور مسلمان کو بے وجہ شرعی کافر کہنا بہت سخت ہے۔ بحکم حدیث قائل پر کفر لوٹ جاتا ہے اور بکثرت فقہائے کرام کا بموجب ظاہر حدیث یہی مذہب ہے کہ مسلمان کو بے وجہ کافر کہنے والا کافر ہے اور متکلمین محتاطین کا معتمد یہ ہے کہ اگر یہ کلمہ بطور دشنام کہے تو کفر نہیں اور اگر مسلمان جان کر اس کی مسلمانی کی وجہ سے اسے کافر کہے تو یہ بالاتفاق کفر قطعی ہے۔ تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ ، الکوکبۃ الشہابیہ دیکھئے۔ بہر حال قائل پر توبہ فرض ہے اور تجدید ایمان بھی کرلے اور جس کو ناحق یہ کلمہ کہا اس سے معذرت خواہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ناجائز و گناہ ہے، اس سے بیعت صحیح نہیں ہے۔ سنابل شریف میں ہے: درویشی که در حالت حیات بسبب غفلت و یا بسبی دیگر فرزند خود را خلافت نمیدهد و مردمان را وصیت هم نمی کند که بعد از من باید که خرقه من فرزند مرا بپوشانید و اور ابجائے من بنشانید فاما مردمان خرقہ پدر پسر را می پوشانند و اور ایجائے پدر می نشانند و او بے رخصت و اجازت پدر پیر می شود همه ضلالت در ضلالت ست قطعہ اے پسر شرط صحت بیعت در طریقت اجازت سلف ست، بدغل سکه بهره مزن، کان ره کا سدان ناخلف ست - اھ “ملتقطاً۔ ) یہاں سے زید اور فعل زید کا حکم ظاہر ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) بر تقدیر صدق سوال اعلیٰ حضرت اور مفتی اعظم ہند علیہا الرحمتہ والرضوان سے زید کا بغض آشکار ہے اور کسی سنی صحیح العقیدہ سے بے وجہ شرعی بغض رکھنا بہت سخت بات ہے جس پر اندیشہ کفر ہے۔ ہندیہ میں ہے: " من أبغض عالما من غير سبب ظاهر خيف عليه الكفر " (1) اور مسلک اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ در حقیقت مسلک اہل سنت ہے اور وہ جماہیر صحابہ و تابعین اور سید الانبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کا دین متین ہے اور وہ مدتہائے دراز سے سید نا اعلیٰ حضرت الرحمہ کی ذات اور ان کے شہر بریلی سے متعارف ہے۔ چنانچہ دین مبین اہل سنت کو مسلک اعلیٰ حضرت اور اس کے پیروکاروں کو بریلوی کہتے ہیں اور اس طرح تمام فرق باطلہ سے نسبت جدا اور اہل سنت ممتاز و منفرد ہو جاتے ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کورہ نمایانِ دین و سالکان صراط مستقیم کی طرف منسوب کیا ہے۔ قال تعالى : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ " و قال تعالى : ” اتَّبِعْ سَبِيْلَ مَنْ آنَابَ إِلَى - الآية () و قال سبحانه و تعالی : (M)66 " بَلْ مِلَّةَ إِبْرَهِمَ حَنِيفًا - الآية على (1) الفتاوى الهنديه، ج ۲، ص۲۸۲، کتاب السير الباب التاسع في احكام المرتدين موجبات الكفر انواع دار الفكر، بيروت (2) الفاتحه : ٧،٦ (3) لقمان: ١٥ (4) البقرة: ١٣٥ تو مسلک اعلیٰ حضرت کہنا نجح قرآنی کی اقتدا ہے اور اس سے یہ گمان کر لینا کہ یہ کوئی اختراعی مسلک ہے ، یا تو جہل یا محض عناد ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) بر تقدیر صدق سوال زید پر اس سے بھی تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان بھی فرض ہے کہ اس قول سے زید نے کفار کے ساتھ موافقت کی اور امور کفر کی تعظیم اور تحسین اس سے واقع ہوئی، یہ تو بہت بڑی بات ہے ۔ علماء نے تو اس سے کم درجہ بات پر بھی حکم فرمایا۔ چنانچہ کافروں کے مذہبی میلوں کے لئے گھر سے نکلنا اور خاص اس دن کی تعظیم کے لئے کچھ خرید نایا مشرکوں کو مٹھائی وغیرہ دینا بھی حسب ارشادات ائمہ کفر ہے۔ ہندیہ میں ہے: "(يكفر) بخروجه الى نيروز المجوس لمرافقته معهم فيما يفعلون في ذلك اليوم وبشرائه يوم النيروز شيئا لم يكن يشتريه قبل ذلك اليوم تعظيماً للنيروز لا للأكل والشرب و باهدائه ذلك اليوم للمشركين ولو بيضة - الخ " اسی میں ہے: " و بتحسين امر الكفار اتفاقا حتى قالوا لو قال ترك الكلام عند اكل الطعام حسن من المجوسى او ترك المضاجعة حالة الحيض منهم حسن فهو كافر كذا فى البحر الرائق " اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان جن کے مسلک کو زید نے کہا کہ کوئی چیز نہیں جیسا کہ درج سوال ہے ، ان کا مسلک تو اس باب میں ان کے الفاظ میں یہ ہے کہ خود کفریات بکنا یا کفریات پر راضی ہونا برانہ جانا ان کے لئے معنی صحیح ماننا سب کا ایک ہی حکم ہے ۔ اعلام بقواطع الاسلام میں ہمارے علمائے اسلام سے ان امور کے بیان میں جو بالاتفاق کفر تكملة ہیں ، نقل فرمایا: " من تلفظ الكفر يكفر و كل من استحسنه أو رضى به يكفر ")(1) بحر الرائق میں ہے: " من حسن كلام أصل الاهواء أو قال معنوى أو كلام له معنى صحيح ان كان ذلك كفراً من القائل كفر المحسن اه بقدر الحاجة " (۲) واللہ تعالیٰ اعلم (۷) جھوٹ بولنا اشد کبیر عظیم گناہ ہے ۔ قال تعالى : لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ“ (۳) اور اس پر قسم کھانا اور زیادہ سخت و بال کا موجب ہے۔ زید پر اس سے تو بہ لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۸) ایسے شخص کی امامت مکروہ تنزیہی ہے جبکہ اور وجوہ سے اس کی اقتد احرام وگناہ نہ ہو۔ اللہ تعالی اعلم (۹) اس کا جواب نمبرار سے ظاہر ہے۔ مرتد اور اس کے لئے دعائے مغفرت کفر ہے۔ در مختار میں ہے: "لو قال لمجوسی یا استاذ و تبجيلا يكفر لأن تبجيل الكافر كفر " رد المحتار میں ہے: (۴) (۵) "الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبه تكذيب الله تعالى فيما أخبر به " جن لوگوں سے یہ مضمون منسوب ہے ، اگر واقعی یہ مضمون ان کا ہے ، انہوں نے اس پر مطلع ہو کر خوب سمجھ کر دستخط کیے ہیں تو ان کا وہی حکم ہے جو اہل ارتداد کا ہے ، وہ تجدید ایمان کر کے داخل اسلام ہوں اور بیوی والے تجدید نکاح بھی کریں ورنہ ان لوگوں پر فرض ہے کہ اس مضمون سے اپنی برات کا اعلان کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۱۲/ ذی الحجہ ۱۴۱۰ھ /۶/ جولائی ۱۹۹۰ء